Day: اگست 16، 2021

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


’مادر! میرے کپڑے بدل دو، طالبان آ گئے ہیں‘

ماں نے شلوار قمیض پہنا دی۔ وہ شلوار قمیض سے بھی مطمئن نہ ہوا۔ سر پر کالے رنگ کی پگڑی بھی باندھ لی۔ فر فر چار زبانیں بولنے والا تنویر بھلے کابل میں رہتا ہے لیکن انٹرنیٹ کی وجہ سے بالکل انٹرنیشنلسٹ ہے۔

ہمارا کابل میں طالبان قبضے میں پہلا دن: غصہ، خوف، بے بسی

”سب کچھ کھو دیا۔ میری خواہش میرے ملک کاروشن مستقبل ہے، میرا خواب ایک مضبوط اور مستحکم افغانستان ہے۔ میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ہمارے اتحادیوں نے ہمارے لوگوں کو پیٹھ دکھا دی ہے اور انہوں نے ہمیں مظالم کے حوالے کر دیا ہے۔“