Day: اگست 6، 2021

پرویز ہودبھائی کا شمار پاکستان کے چند گنے چنے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ اُن کا شعبہ نیوکلیئر فزکس ہے۔ وہ طویل عرصے تک قائد اعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔


افغانستان کا بیڑا کس نے غرق کیا؟

اگر افغانستان کو کبھی ایک جدید ملک بننا ہے تو اس پر ایک ایسے آئین کے تحت حکمرانی ہونی چاہیے جس میں اسلامی بنیادی اقدار کے ساتھ اظہار رائے، انتخابات، طاقت کی تقسیم اور انسانی حقوق کی آزادی ہو۔ جن وحشی لوگوں نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا ہے وہ ملک کو ایک تباہی سے دوسری تباہی کی طرف لے جائیں گے۔ دسمبر 2014 ء میں آرمی پبلک سکول میں بچوں کو ذبح کرنے والے پاکستانی طالبان اور افغان طالبان نظریاتی بھائی ہیں۔ ایک کابل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے (اور ممکنہ طور پر کر بھی لے گا) جبکہ دوسرا اسلام آباد پر نظریں جمائے بیٹھا ہے مگر ان کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔ طالبان کے کابل پر دوبارہ قبضے کی بجائے افغانستان میں آئین پر مبنی جمہوریت ہی پاکستان کے طویل مدتی مفادات کیلئے مفید ثابت ہو گی۔

ملک ہار دینے والا جرنیل (آخری قسط)

فوج کو جب اندازہ ہوا کہ اس نے اپنا کتنا بڑا نقصان کر لیا ہے توزخم خوردہ فوجی قیادت نے ذوالفقار علی بھٹو نامی نجیب سیاستدان سے رابطہ کیا تاکہ بچے کھچے ملک کے معاملات کو چلایا جا سکے اور وہ انہیں اس مصیبت سے نجات دلا سکے۔اس موقع پر فوج کی ”نسبی آزدی“ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ یہ کہ وہ کبھی پھر اقتدار کا رخ کریں گے، نا ممکن دکھائی دیتاتھا۔