Month: 2024 جون

[molongui_author_box]

لاہور: کرامت علی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس اتوار کو ہو گا

تعزیتی ریفرنس سے محمد تحسین(ساؤتھ ایشیاء پارٹنر شپ)، غلام فاطمہ(بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ)، خالد محمود(لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن)، سیدہ دیپ(سینٹر فار پیس اینڈ سیکولر سٹڈیز)، امتیاز عالم(سیفما)، فاروق طارق(حقوق خلق پارٹی)، اویس قرنی (طبقاتی جدوجہد)، بلال ظہور(فولیو بکس) اور دیگر مقررین خطاب کریں گے۔

ڈئیر بی بی سی! کراچی کے باسی گرمی نہیں غربت سے ہلاک ہو رہے ہیں

مصیبت یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے جرنلزم ڈیپاڑٹمنٹس ہوں یا مین اسٹریم اخبارات کے نیوز روم، صحافت میں وارد ہونے والوں کو یہ تربیت ہی نہیں دی جاتی کہ حالات و واقعات کا جائزہ طبقاتی عدسے سے بھی لیا جائے۔ طبقاتی عدسے سے جائزے لینے کو مارکسزم کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے، اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، مزاق اڑایا جاتا ہے۔

’دہشت گردی سے زیادہ حکومتی آپریشنوں نے نقصان پہنچایا‘

آپریشن عزم استحکام کا نشانہ اس بار بھی بلوچستان اور پختونخوا کے افغانستان کے ساتھ لگنے والے سرحدی اضلاع یعنی سابق فاٹا کے اضلاع بنتے نظر آرہے ہیں۔ پختونخوا میں تمام لوگ ہی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ لوگ دہشت گردی سے متاثرہ ہیں۔ ان کے لوگوں کو مارا گیا، ٹارگٹ کیا گیا اور کیا جا رہا ہے۔ ان کی زندگیوں کو برباد کیا جا رہا ہے، لیکن وہ پھر بھی ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ ماضی کے آپریشنوں کا تجربہ ہے، جو بہت تلخ رہا ہے۔لوگوں کو یہ بھی شکوہ ہے کہ شاید کچھ دہشت گردوں کے خلاف حکومت آپریشن کرتی بھی نہیں ہے۔ گڈ بیڈ طالبان کی تفریق کی جاتی ہے۔

قطر میں ایل جی بی ٹی کے حق میں احتجاج کرنے والے جرمن فٹ بالر غزہ پر خاموش

ورلڈ کپ شروع ہوا تو جرمن ٹیم کی مندرجہ بالا تصویر دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنی۔ جاپان کے خلاف میچ سے پہلے جرمن ٹیم نے منہ پر ہاتھ رکھ کر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس احتجاج کے بعد جرمن فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلان کیا گیا:”ہم سیاسی بیان نہیں دے رہے۔۔۔انسانی حقوق پر سودے بازی نہیں ہو سکتی۔“

عید منانے کے الزام میں 30 احمدی گرفتار ہوئے

رپورٹ کے مطابق11احمدیوں اور5غیر احمدی دوستوں کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 298Cکے تحت درج مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا، جو تاحال زیر حراست ہیں۔ مزید 7احمدیوں کے خلاف بھی پاکستان پینل کوڈ کی اسی دفعہ کے تحت فوجداری مقدمات درج ہیں۔

کرامت علی: یادوں کا نہ رکنے والا سلسلہ

کرامت علی کے رخصت ہونے سے پاکستان اور ساؤتھ ایشیا کے محنت کش طبقات ایک بہترین استاد، محقق، ٹریڈ یونین کے ممتاز رہنما، مارکسی نظریات پر عبور رکھنے والے دانشور اور آگے بڑھ کر جدوجہد کرنے والے سے محروم ہو گئے ہیں۔ وہ ایک بہت اچھے شفیق اور نفیس انسان تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ مارکسزم کو عوامی سطح تک لے جانے میں تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔

بولیویا: عوامی مزاحمت نے فوجی بغاوت کا راستہ روک دیا، آرمی چیف گرفتار

بولیویا کے آرمی چیف جنرل جوآن ہوزے زونیگا کی قیادت میں فوج نے صدارتی محل سمیت دارالحکومت لاپاز کے اہم مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا، بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے فوجیوں نے موریلو اسکوائر پر پوزیشن سنبھالتے ہوئے صدارتی محل کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بند کر دیا تھا۔

کینیا: عوامی احتجاج کی فتح، اضافی ٹیکسوں کا بل واپس لینے کا اعلان

ہزاروں مظاہرین کو کچلنے کی دھمکیاں دینے والے کینیا کے صدر نے بالآخر عوامی مزاحمت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ صدر ولیم روٹو نے کہا ہے کہ وہ کسی ایسے فنانس بل پر دستخط نہیں کریں گے، جس کی وجہ سے مظاہرین نے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف غم وغصے کا اظہار کیا اور پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا۔ انکا کہنا تھا کہ ٹیکسوں میں اضافے پر مشتمل بل واپس لے لیا جائے گا۔

جاپانی میگا بینک موسمیاتی اقدامات پر عوام کو دھوکہ دینا بند کریں: پاکستان کسان رابطہ کمیٹی

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی نے جاپان کے تین میگا بینکوں کو عوام اور ان کے شیئر ہولڈرز کو دھوکہ دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈی کاربنائزیشن پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں جبکہ حقیقت میں دنیا کے سب سے بڑے فوسل فیول منصوبوں کی فنڈنگ کررہے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ایشیا میں پائے جاتے ہیں۔

جموں کشمیر: شکست خوردہ حکمرانوں کے حملے کیخلاف کیسے لڑا جائے

ریاستی جبر اور مقامی اشرافیہ کے غنڈوں کے حملوں سے مقابلہ محض عوام کو بندوقوں سے مسلح کر کے نہیں کیا جا سکتا ہے، اس سے پہلے عوام کو متبادل نظریات اور پروگرام سے مسلح کرنا ضروری ہے۔حکمران طبقات کے نظریات کو عوام نے جب مسترد کر دیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت نے غیر جانب داری اور غیر سیاسی ہونے کے نام پر عوامی نظریات کے پرچار پر پابندی عائد کر دی۔ وسائل پر حق ملکیت کی قومی لڑائی اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کی طبقاتی لڑائی کیسے غیر سیاسی اور غیر نظریاتی بنیادوں پر لڑی جا سکتی ہے۔