خبریں/تبصرے

تیونس: معاشی تنگ دستی اور کورونا پابندیوں کے خلاف پرتشدد مظاہرے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) شمالی افریقہ ملک تیونس میں جمعہ کے روز سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ روزانہ بڑے پیمانے پر نوجوان تیونس کے مختلف شہروں میں جمع ہو کر پرتشدد مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین میونسپل عمارتوں پر پتھراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج غریب اور گنجان آباد اضلاع میں زیادہ ہو رہے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کا پہلے ہی فقدان ہے۔

تیونس وہ ملک ہے جس میں 2011ء کے عرب بہار انقلابات کا آغاز ہوا تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نوجوانوں میں معاشی مایوسی کی وجہ سے بدامنی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔

تیونس میں ایک تہائی نوجوان بیروزگار ہیں۔ 11.7 ملین آبادی کے ملک کے دارالحکومت سمیت 5 بڑے شہروں میں مسلسل پانچویں روز بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

احتجاجی مظاہروں نے حکمرانوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، 10 سال قبل اسی طرح کے احتجاج کی وجہ سے طاقتور ترین حکمران زین العابدین بن علی کو اقتدار سے محروم کر دیا گیا تھا۔

اتوار کے روز حکومت نے ملکی اداروں کے تحفظ اور تناؤ کو ختم کرنے کیلئے فوج کو بھی طلب کر لیاتھا۔ پولیس کے مطابق سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مظاہرین نے ”روزگار حق ہے، بھیک نہیں“ جیسے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں اور حکومت کی وعدہ خلافیوں کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

10 سال قبل عرب بہار کے موقع پر تاریخ ساز انقلابی تحریک کا نعرہ ”روزگار، آزادی اور وقار“ تھا۔ قومی ادارہ شماریات کے مطابق ملک کا پانچواں حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے اکتوبر سے لیکر ملک میں مختلف لاک ڈاؤن کے تحت پابندیوں اور رات کے اوقات میں کرفیو نے بھی تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔ وبائی مرض نے تیونس کی معیشت کے سب سے اہم شعبے سیاحت کو نقصان پہنچایا ہے۔

اقتصادی و سماجی حقوق کے ایک فورم کے صدر عبدالرحمن لاہدلی کا کہنا ہے کہ ہر سال 1 لاکھ طلبہ سکول چھوڑ دیتے ہیں اور 12 ہزار غیر قانونی نقل مکانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ زیادہ تعداد غیر قانونی طور پر کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی خطرناک کوشش میں انسانی سمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد انتہا پسند تنظیموں میں بھرتی ہونے کو ترجیح دیتی ہے۔“

ایک احتجاج کرنے والے مہر عابد نے کہا کہ ”پورا نظام ضرور چلتا ہے، ہم سڑکوں پر آجائیں گے اور ہم اپنے حقوق اور اپنے وقار کو دوبارہ حاصل کریں گے جو انقلاب کے بعد ایک کرپٹ اشرافیہ نے غصب کر لئے۔“

گزشتہ ہفتہ انقلاب کے دس سال مکمل ہونے والے روز سے قبل حکومت نے کورونا وائرس کے نام پر 4 روز کا لاک ڈاؤن اور رات کے وقت سخت کرفیو نافذ کرتے ہوئے احتجاج پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم تیونس کے شہروں میں نوجوانوں نے پتھراؤ اور پٹرول بم پھینکے، ٹائر جلائے اور دکانوں کو لوٹ لیا جبکہ پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی استعمال کیے، اور سیکڑوں افراد کو گرفتار کرلیا۔

قبل ازیں طاقتور مزدور یونین اور دیگر انسانی حقوق کے گروپوں نے”پسماندگی، غربت اور افلاس کی ذمہ دار پالیسیوں“ کے خلاف پرامن احتجاج کی حمایت کی تھی اور یہ الزام لگایا تھا کہ ریاست انقلاب کی امیدوں کو پامال کررہی ہے۔