اداریہ

عدالت آج علی وزیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کرے گی

اداریہ جدوجہد

سابق قبائلی علاقہ جات سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن اور پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنما علی وزیر کی درخواست ضمانت پر آج 27 جنوری کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں بحث ہو گی۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے علی وزیر کو گزشتہ ماہ پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے خلاف کراچی میں ایک جلسہ منعقد کرنے اور پاکستانی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہے۔

علی وزیر کو سنٹرل جیل کراچی میں رکھا گیا ہے اور انکے مقدمے کی سماعت بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت سنٹرل جیل کراچی کے اندر ہی کر رہی ہے۔ گزشتہ سماعتوں کے دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک سہیل جبار نے علی وزیر کی پشتو زبان میں کی گئی تقریر کا اردو ترجمہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا جبکہ 20 جنوری کو ہونے والی سماعت میں تقریر کے اردو ترجمے کو پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پشتو زبان سے تصدیق کیلئے بھیجا گیا تھا۔ علی وزیر کے کیس کی پیروی انکے وکیل قادر خان کر رہے ہیں۔

علی وزیر کی گرفتاری کے دوران ہی سپیکر قومی اسمبلی نے انکی نااہلی کیلئے ریفرنس الیکشن کمیشن کو ارسال کیا تھا جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کر دیا ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے علی وزیر کے خلاف کئے جانے والے اقدامات سے اس ملک کے جمہوری اداروں اور پارلیمان کی بالادستی کا فریب بھی عیاں ہو رہا ہے۔ منتخب رکن قومی اسمبلی کو امتیازی رویے کا شکار بنایا جا رہا ہے اور انہیں اسمبلی کی رکنیت سے محروم کرنے کیلئے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ علی وزیر کی جدوجہد اور نظریات سے ریاستی ادارے خائف ہیں اور انہیں راستے سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

پشاور سے گرفتاری کے بعد علی وزیر کو جب کراچی منتقل کیا گیا تھا تو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں انہیں پیش کئے جانے سے قبل خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا اور انہیں کسی سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی، بعد ازاں احتجاج کے بعد علی وزیر کو منظر عام پر لایا گیا اور سنٹرل جیل کراچی میں منتقل کر دیا گیا۔

علی وزیر کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے، وہ پیشے سے وکیل ہیں۔ بائیں بازو کے نظریات کی بنیاد پر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے وہ ایک بے مثال تاریخ رقم کر چکے ہیں۔ اس جدوجہد کے دوران انکے خاندان کے 16 سے زائد افراد دہشت گردوں اور ریاستی تشدد کی وجہ سے مارے جا چکے ہیں۔ علی وزیر پر بھی متعدد مرتبہ قاتلانہ حملے کئے جا چکے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں علی وزیر نے تیسری مرتبہ الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ اس سے قبل دو مرتبہ انکی یقینی فتح کو شکست میں تبدیل کیا گیا تھا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے مقبول ہونے کے ساتھ ہی علی وزیر بھی اس کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہونے لگے اور گزشتہ الیکشن میں تمام تر ریاستی حربوں کے باوجود علی وزیر نے بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی۔

اپنے ساتھی محسن داوڑ کے ہمراہ وہ قومی اسمبلی میں آزاد رکن کی حیثیت سے اپوزیشن بنچوں کا حصہ ہیں۔ سابق قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردی کی پناہ گاہوں، ریاستی پشت پناہی اور فوجی آپریشنوں میں ہونے والے نقصانات کے خلاف علی وزیر نے جرات مندی کے ساتھ ہر فورم پر آواز بلند کی۔ احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کے علاوہ قومی اسمبلی میں بھی انہوں نے انتہائی بے باک انداز میں ریاستی جبر اور دہشت گردی کو بے نقاب کرتے ہوئے سابق فاٹا کی محرومیوں کے علاوہ محنت کش طبقے پر ہونیوالے ریاستی حملوں کو بھی بے نقاب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے اور حکومت علی وزیر کو راستے سے ہٹانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

علی وزیر کی گرفتاری نہ صرف اس ریاست، سیاست اور نام نہاد جمہوریت پر تمانچہ ہے بلکہ اس نظام پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ علی وزیر جہاں ہر ریاستی ظلم اور بربریت کا جوانمردی سے سامنا کر رہے ہیں وہاں اس نظا م کے گہرے ہوتے ہوئے بحران، ریاست کی بوسیدگی اور اداروں کی کمزوری کو بھی محنت کشوں اور نوجوانوں کے سامنے عیاں کر رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے معاشی اور سماجی بحران، اداروں کی ٹوٹ پھوٹ، دھڑے بندی اور حکمران طبقات کی مفادات کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تقسیم کی وجہ سے ریاست جس قدر کمزور ہو رہی ہے اتنی ہی وحشی بھی ہوتی جا رہی ہے۔ اس نظام اور ریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو طاقت کے زورپر کچلنے کی جلدی، میڈیا پرپابندی، سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ، جبری گمشدگیاں اور تشدد اس بات کی غمازی ہے کہ اس نظام کے اندر بہتری کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اس نظام کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کے علاوہ محنت کشوں اور نوجوانوں کے پاس بقا کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔

علی وزیر اور ریاستی جبر کے شکار دیگر سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جبری گمشدگیاں اور قربانیاں ٹھہرے ہوئے اور مایوسیوں میں دھنسے ہوئے سماج میں روشنی کی وہ پہلی کرنیں ہیں جو ایک نئی روشن صبح کی نوید سنا رہی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب چھوٹی چھوٹی بغاوتیں اور تحریکیں محنت کش طبقے کی ایک بڑی بغاوت کی شکل اختیار کرتے ہوئے اس خطے کے محنت کشوں اور نوجوانوں کا مقدر بدلنے کا باعث بنیں گی۔