Month: 2024 اپریل

[molongui_author_box]

ایک بھاری قیمت، جو ادا کرنی ہے

دنیا کا ہر ملک صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے اپنے اپنے چیلنجوں سے نبردآزما ہے لیکن ایک بات واضح ہے: صحت کی دیکھ بھال کو منافع کمانے والے ادارے کے طور پر فروخت کرنا ایک تباہی ہے،جیسا کہ امریکہ اس بات کا ثبوت ہے، جو مسلسل صحت کی دیکھ بھال پر فی کس زیادہ خرچ کرتا ہے اور بہت سے دیگر ملکوں کے مقابلے میں زندگی کی توقع، بچوں کی اموات وغیرہ کی صورت میں اس کے صحت کی دیکھ بھال کے بدتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

امریکہ: غزہ پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف طلبہ کے مظاہرے جاری، سینکڑوں گرفتار

امریکہ کی یونیورسٹی میں سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ طالبعلم غزہ میں جنگ بندی اور فلسطین پر اسرائیل کی تقریباً7ماہ سے جاری جنگ کی معاونت کرنے والی کمپنیوں سے حکومت کی علیحدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق بوسٹن میں پولیس نے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں احتجاجی کیمپ کو صاف کرتے ہوئے تقریباً100افراد کو حراست میں لیا۔
مڈویسٹ میں بلومنگٹن کی انڈیانا یونیورسٹی کیمپس سے بھی پولیس نے احتجاجی کیمپ اکھاڑ کر 23افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایریزانا اسٹیٹ یونیورسٹی میں 69طلبہ کو گرفتار کر کے کیمپ ختم کیا گیا ہے۔
دریں اثناء سینٹ لوئس کی واشنگٹن یونیورسٹی میں کم از کم80افراد کو گرفتار کیا گیا۔

غیر منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری مسترد، منافع بخش پاور کمپنیاں بیچی جائیں گی

پاکستان کی وفاقی حکومت نے نقصان میں جانے والی توانائی کمپنیوں کی نجکاری کی تجویز مستردکرتے ہوئے 5منافع بخش کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری سے بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

بھارت: امتحانی پرچے میں ’جے شری رام‘ لکھیں اور 50 فیصد نمبر پائیں

آر ٹی آئی کے تحت دائر کی گئی ایک درخواست میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں واقع ایک سرکاری ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی میں امتحان کے پرچے میں جے شری رام اور کرکٹ کھلاڑیوں کے نام لکھنے والے فارمیسی کے کم از کم 4طالبعلموں کو 50فیصد نمبر دیئے گئے ہیں۔

سندھ نامہ (آخری حصہ): سندھ نے عمران خان کو ووٹ کیوں نہیں دیا؟

ان سارے شہروں اور علاقوں میں گھومتے ہوئے یا چھوٹے چھوٹے قصبوں سے گزرتے ہوئے جا بجا اگر کسی سیاسی جماعت کا پراپیگنڈہ نظر آیا تو وہ پیپلز پارٹی تھی۔ اس کی ایک وجہ شائد یہ تھی کہ انتخابی مہم کے دوران لگائے گئے پوسٹر اور بینر ابھی اترے نہیں۔ نوے کی دہائی میں قوم پرست جماعتوں کے پرچم اور وال چاکنگ زیادہ نمایاں ہوتی تھی۔ قوم پرست اب کی بار لگ بھگ غائب تھے۔ شائد ہی کہیں کسی قوم پرست جماعت کا جھنڈا یا وال چاکنگ دکھائی دی۔

مسئلہ فلسطین کی ابتدا: کیا اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟

لارڈ آرتھر بالفور ہی وہ شخص تھا،جو 1917 میں ‘‘بالفور اعلامیے’’ کا معمار ٹھہرا اور یہی اعلامیہ در حقیقت فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی ریاست کی بنیاد بنا۔ نسل پرستی سے متعلقہ لارڈ آرتھر کے مندرجہ بالا الفاظ فلسطین کے حوالے سے نہیں بلکہ سیاہ فام افریقیوں کے خلاف کہے گئے تھے۔ لیکن یہ ہمیں مجموعی طور پر سامراجی ذہنیت اور نفسیات جبکہ انفرادی طور پر ایک ایسے شخص کے بارے میں بہت کچھ بتاتے ہیں،جو مشرق وسطی کے قلب میں ایک درد ناک زخم پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اکتوبر 2023 سے پوری دنیا، جدید دور کی تاریخ کے سب سے خوفناک اور وحشیانہ قتل عام کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ لہٰذا اس نفسیاتی ذہنیت کی گہرائیوں میں جھانکنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو دنیا کے نقشے پر اس جہنمی منظر کو پیدا کرنے میں لگی تھی۔

عالمی یوم مزدور: این ایس ایف ریاست گیر تقریبات منعقد کرے گی

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر خلیل بابر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوم مئی مزدوروں کے عالمی دن کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر اور پاکستان کے مخلتف شہروں سمیت بیرون ممالک انتہائی جوش و جذبے سے منایا جائے گا۔

چمکیلا کو گولی اور مستانہ کو تھپڑ نے مارا

چمکیلا غیرریاستی عناصر کی گولی سے اور مستانہ ریاستی عناصر کے تھپڑ سے مارا گیا ۔چمکیلا کو امتیاز علی مل گیا لیکن مستانہ کو شاید کسی امتیاز علی کا انتظار ہے ۔اوربارڈر کے دونوں طرف ورکنگ کلاس کو ایک ایسے نظام کا انتظار ہے جو انہیں زندگی میں ایسے مواقعے مہیا کرے کہ وہ اپنا بہتر کلچر تشکیل دے سکیں۔

’اگر پوری دنیا کی عورتیں فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے پیدا نہیں کریں گی‘

پوری دنیا کو ایک طرف رکھ کر اگر صرف یہ فرض کر لیا جائے کہ صرف پاکستان کی عورتیں فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے پیدا نہیں کریں گی تو کیا ہوگا؟ پاکستان جیسے ملک میں اکثریتی آبادی کے لیے اولاد سوشل سیکورٹی ہوتی ہے،جو بڑھاپے میں ماں باپ کا سہارہ بنتی ہے۔ یوں اگر ایسا فیصلہ ہو گیا تو سوشل سکیورٹی اور ماں باپ کا آخرت کا سہارانہیں رہے گا۔ ریاست تو ایسی کوئی ذمہ داری نہیں لے رہی کہ بڑھاپے میں آپکا خیال رکھے۔ یوں جب تک تو خاوند (کیونکہ پاکستان میں معاشی ضروریات پوری کرنا عموما خاوند کی زمہ داری ہے) کام کرے گا، تب تک دونوں شاید گزارہ کر لیں اور جب وہ کام کے قابل نہ رہا تو دونوں رُل جائیں گے۔اس طرح کی سطحی گفتگو میں سوشل میڈیا پر مقابلہ بازی تو کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر مقابلے میں مرد بھی ایسا فیصلہ کر لے تو نتیجہ تقریباً ویسا ہی نکلے گا جو عورت کے فیصلے سے نکلے گا۔ اس طرح کی سطحی، سماجی، معاشی اور سیاسی حالات سے کٹی ہوئی بحث کے اسی طرح کے نتیجے ہی نکل سکتے ہیں۔

جہالت کی نفسیات

جہالت کی نفسیات جانور والی ہوتی ہیں۔ جانور کا زمان و مکان اسی حد تک محدود (یا وسیع) ہوتا ہے جس حد تک اس کی نظر جاتی ہے۔ اس کے برعکس،انسان اپنے سماجی تعلقات کی بنیاد پر۔۔۔جس میں زبان بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔۔۔انسان اپنے وقت (حاضر) کے علاوہ دیگر وقتوں (ماضی و حال) بارے بھی جانتا یا سوچتا ہے۔