دنیا

خدا حافظ بیبی: ”نیتن یاہو کی کامیابیاں اسرائیل کا خسارہ تھیں“

قیصر عباس

اسرائیل میں بارہ سال مسند اقتدا ر پر رہنے کے بعد ملک کے سب سے طاقتور سیاست دان نیتن یاہو کو ایوان اقتدار سے باہر کر دیا گیا ہے۔ ملک کے پارلیمان نے اتوار کو سیاسی پارٹیوں کے ایک نئے اتحاد میں شامل یمینہ پارٹی کے رہنما نفتالی بینٹ کو وزیراعظم منتخب کر کے ملک میں ایک نئے سیاسی دور کی بنیاد رکھ دی۔

اس تاریخی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کے اخبار ’ہیرٹز‘ نے سرخیاں لگائیں:

”نیتن یاہو کی کامیابیاں اسرائیل کا خسارہ تھیں“

”بیبی نے اسرائیل کے سیاست دانوں کی ایک نئی نسل کھڑی کی، اسے دھوکہ دیااور آج اسی نسل نے انہیں تخت سے اتاردیا ہے“

اس نئے سیاسی اتحاد میں شامل رجعت پسند، اعتدال پسند، لیفٹ اور ایک عرب مسلم پارٹی سمیت مختلف سیاسی نظریوں کی حامل پارٹیوں نے آخر کار ایک ایسے وزیر اعظم کے اقتدار کا خاتمہ کیا جس نے فلسطینی باشندوں کے سیاسی حقوق کی بھینٹ دے کرمذہبی منافرت اور آمرانہ جمہوریت کی بنیاد رکھی۔

انہوں نے نہ صرف فلسطینی باشندوں کو ملک میں دوسرے درجے کے شہری بنا کر رکھا بلکہ ان کے علاقوں میں نئی آبادیوں میں اضافہ بھی کیا۔ اپنے اقتدارکو قائم رکھنے کے آخری حربے کے طور پر انہوں نے غزہ پر گیارہ دنوں تک فضائی حملوں کے ذریعے بے گناہ عورتوں، مردوں اور بچوں کو ہلاک کیا اور شہرکو ایک کھنڈر میں تبدیل کر دیا۔

لیکن ان کی یہ آخری چال کامیاب نہ ہو سکی اور عام خیال یہ ہے کہ وہ جدید اسلحہ اور طیاروں کے باوجود اسرائیلی شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہے جو اس دوران حماس کے راکٹوں کی زد میں رہے۔ ان حربوں کے باوجود وہ اپنا اقتدار قائم رکھنے میں ناکام رہے۔

نیتن یاہو، جنہیں ’بیبی‘ بھی کہا جاتا ہے، ایک عشرے سے زیادہ مدت تک ملک میں سیاسی طاقت کاواحد سرچشمہ تھے جن کے متعلق کہا جارہا تھا کہ انہیں شکست دینا ناممکن ہے۔ لیکن یہ وہی سیاست دان بھی ہیں جن کی متنازعہ شخصیت نے ملک کی سیاست کو دو دھڑوں میں تقیسم کر دیا تھا جس کا ایک دھڑا ان کے حق میں تھا اوردوسرا ان کے خلاف۔

نیتن یاہو پر بدعنوانی کے کئی مقدمات بھی چل رہے ہیں جن میں میڈیا کو اپنے حق میں رپورٹنگ کے لئے رشوت کا الزام بھی شامل ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اقتدارسے باہر رہ کر اب ان کے لئے قانونی شکنجوں سے بچنا انتہائی مشکل ہو گا۔

اتحادی پارٹیوں کے معاہدے کے مطابق نئے وزیراعظم نفتالی بینٹ دوسال کے لئے وزیر اعظم رہیں گے جس کے بعد یش آتید پارٹی کے لیڈر یائر لیپڈ یہ عہدہ سنبھالیں گے لیکن دونوں پارٹیوں کو سیاسی فیصلوں پر ویٹو پاور کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ یہ انتظامات اس اتحاد کا عکس ہیں جن میں مختلف سیاسی نظریات کی حامل آٹھ جماعتیں شامل ہیں۔ ان میں سے ایک عرب پارٹی بھی ہے جس کے رہنما منصور عباس کو موجودہ سیاسی پس منظرمیں بادشاہ گر بھی کہا جا رہا ہے۔

نئے وزیراعظم بینٹ بھی ایک رجعت پسند پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں جو فلسطینی اور یہودی باشندوں پر مشتمل دو ریاستی نظریے کے مخالف ہیں اور فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادیوں کے حامی ہیں لیکن فلسطینی باشندوں کے مساویانہ حقوق اور ان کی محدود آزادی (Autonomy) کی حمایت کرتے ہیں۔ دوسری طرف لپیڈ دو ریاستی نظریے کے حامی ہیں۔

اگرچہ یہ سیاسی جماعتیں مختلف انداز فکر کی حامل ہیں، اسرائیل کوآمرانہ جمہوریت کی سیاست سے نکال کر ایک نئے دور میں داخل کرنا ان کے اتحاد کا مرکزی نکتہ ہے۔ ملک میں پہلی بار ایک عرب پارٹی کی اقتدا رمیں شمولیت بھی ایک اہم پیش رفت ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ اتحاد کہاں تک کامیاب رہتا ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔