خبریں/تبصرے

ز اہد صاحب! افغانی انکی کرنسی ہے، افغانستان کے شہریوں کو افغان کہتے ہیں

فاروق سلہریا

پاکستان کے مڈل کلاس دانشور، دفاعی ماہرین اور اینکر پرسن ویسے تو ہر چیز کے ماہر ہیں (اب تو جاوید میانداد نے بھی عالمی حالات کا تجزیہ شروع کر دیا ہے) مگر افغانستان اور انڈیا کے بارے میں یہ لوگ افغانستان اور انڈیا کے لوگوں اور ماہرین سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔

انڈیا اور افغانستان تو گویا گھر کی مرغی ہیں۔

حقیقت میں ہندوستان بارے ان کے تعصبات (جسے وہ آفاقی علم سمجھتے ہیں) بالی وُڈ پراپیگنڈے تک محدود ہوتے ہیں۔

اسی طرح افغانستان بارے ان ’ماہرین‘نے حمید گل یا زید حامد، اوریا مقبول جان اور جاوید چودھری کے علاوہ کبھی کسی سے استفادہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہوتی۔

ویسے جن لوگوں کے علم کا ماخذ اے آر وائی، مطالعہ پاکستان (جہاں جمال الدین افغانی کا ذکر پڑھنے کو ملتا ہے) اور نوائے وقت ہوں ان پر کالم لکھ کر وقت برباد نہیں کرنا چاہئے مگر جب مسلسل جہالت چاروں طرف سے آپ کا منہ چڑا رہی ہو تو جھنجھلاہٹ کے باعث خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔

ویسے بھی جھنجھلاہٹ ایک مثبت جذبہ ہے۔ یہ کالم اسی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ ہے جو مجھے معروف صحافی زاہد حسین کی کتاب ’The Scorpion’s Tail‘ پڑھتے ہوئے ہو رہی ہے۔

یہ کتاب تقریباً دس سال پہلے شائع ہوئی تھی مگر مجھے اب پڑھنے کا موقع ملا۔ کتاب کا موضوع مذہبی جنونیوں کی دہشت گردی ہے۔ زیادہ تر دہشت گرد ’پشتون‘ ہیں، وہ بھی قبائلی علاقے کے۔ جس طرح سے پشتونوں کی تصویر کشی کی گئی ہے، کسی گورے نے کی ہوتی تو متعلقہ مصنف کو اورینٹل ازم کے طعنے سننے پڑ رہے ہوتے۔ اس کتاب پر تبصرہ کبھی موقع ملا تو مستقبل پر اٹھا رکھتے ہیں۔ میری جھنجھلاہٹ کی اصل وجہ تھی اس کتاب میں افغانستان کے شہریوں کو بار بار ’افغانی‘ لکھنا۔

کتاب کا ’ابتدائیہ‘ بارہ صفحات پر مشتمل ہے۔ ان بارہ صفحات میں تین دفعہ افغان شہریوں کو افغانی لکھا گیا ہے (ص: 6,9,12)۔

زاہد صاحب! افغانی افغانستان کی کرنسی ہے۔ افغانستان کے شہریوں کو افغان کہتے ہیں۔

ویسے دلچسپ بات ہے کہ کتاب فری پریس (نیو یارک) نے شائع کی ہے۔ گویا مسئلہ صرف پاکستانیوں کی افغانستان بارے لا علمی نہیں ہے۔ یہ وبا عالمی سطح پر پھیلی ہوئی ہے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔