پاکستان

اوکاڑہ مزارعین کی مالکی تحریک خاموشی سے جاری

فاروق طارق

مہر عبدالستار جنرل سیکرٹری انجمن مزارعین پنجاب کو 16 اپریل 2016ء کی صبح دوبجے ان کے گھر پر دھاوا بول کر گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اگلے دن 17 اپریل کو کسانوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک بڑا جلسہ منظم کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔

وہ آج 23 مئی 2019ء کو بھی اوکاڑہ جیل میں قید ہیں اور ان کو ایک مقدمے میں دس سال کی سزا ساہیوال کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنائی تھی۔ جس کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں دائر ہے اور اس کی سماعت ہونا باقی ہے۔ وہ درجنوں دیگر مقدمات میں باعزت بری ہو چکے ہیں۔

مہر عبدالستار کے خلاف 36 جھوٹے مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان میں اب تک 34 مقدمات میں وہ یا تو بری ہو چکے ہیں یا ان کی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں۔ صرف ایک مقدمے میں انہیں دس سال کی سزا ہوئی۔

ملٹری فارمز اوکاڑہ کی انتظامیہ کے پاس اس وقت اوکاڑہ میں 18000 ایکڑ زرعی زمین ہے۔ اس میں سے چار ہزار ایکڑ خودکاشتکاری کے تحت ملٹری فارمز انتظامیہ کے پاس ہے اور بقیہ زمین مزارعین کاشت کرتے ہیں۔ تقریباً سو سال سے یہ زمین مزارعین کے پاس ہے۔

جب جنرل مشرف کے دور میں 2001ء میں مزارعین کو ٹھیکیداری نظام پر لانے کی تجویز دی گئی تو مزارعین نے اس کے خلاف مالکی لینے کی تحریک شروع کر دی۔ تمام تر ریاستی تشدد اور جبر کے باوجود یہ تحریک آج بھی خاموشی سے جاری ہے۔

اس کا آغاز مزارعین کی جانب سے وہ حصہ جو وہ ہر سال بٹائی کی مد میں ملٹری فارمز انتظامیہ کو دیتے تھے، کو دینے سے انکار سے ہوا۔ آج اٹھارہ سال بعد مزارعین نے اس سال بھی گندم اٹھا لی ہے اور حصہ نہ دینے کو احتجاج کا حصہ بنایا ہے۔ یہ مزارعین انیس دیہاتوں میں آباد ہیں۔

رہنماؤں کی گرفتاری کا ایک مقصد مزارعین کو بٹائی کا حصہ دینے پر مجبور کرنا ہے۔ جس کو بھی گرفتار کیا جاتا ہے اس سے پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ مزارعین سے یہ حصہ دلوایا جائے۔

انیسویں صدی کے آغاز میں اس قسم کے زرعی فارمز انگریزوں نے بنائے تھے کہ ان کے لئے دودھ اور اجناس کی کمی نہ ہو۔ ملٹری نے یہ فارمز لیز پر حاصل کیے تھے۔ ایک ریسرچ کے مطابق یہ لیز پاکستان بننے سے پہلے ہی ختم ہو گئی تھی مگر ملٹری فارمز انتظامیہ ان پر قابض رہی۔ مزارعین کو بارہ بارہ ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی۔

ذولفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، میاں نواز شریف اور عمران خان سمیت تقریباً ہر سیاسی رہنما نے یہ زمینیں مزارعین کے نام کرنے کا سر عام وعدہ کیا مگر کسی نے بھی اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا۔

مزارعین کا موقف ہے کہ ملٹری اس زمین کی مالک نہیں اور پنجاب حکومت اس زمین کی اصل مالک ہے۔ وہ ان سے بات کرے۔ جبکہ ملٹری فارمز انتظامیہ اس زمین کی مالک ہونے کا دعویٰ کرتی تھی۔

پہلی دفعہ پاکستان آرمی کے ایک سینئر ذمہ دار افسر اور اوکاڑہ ملٹری فارمز کے انچارج برگیڈئیر رانا محمد فہیم نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ اوکاڑہ ملٹری فارمز زمین کی مالک فوج نہیں ہے اور یہ کہ اس کی مالک پنجاب حکومت ہے۔ اس لئے فوج پر یہ الزام کہ وہ مزارعین کو یہاں سے بے دخل کرنا چاہتی ہے غلط ہے۔

اکتیس دسمبر 2018ء کو اسلام آباد میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) نے اوکاڑہ میں اٹھارہ سال سے زمین کی ملکیت کے لئے چلنے والی تحریک کے ایک کیس کی سماعت کی۔ بعد میں ایک فیصلے میں اس عدالت نے کہا کہ اوکاڑہ انتظامیہ مزارعین کے خلاف مقدمات واپس لے اور مزارعین کے ذمے جو بٹائی کا حصہ بنتا ہے اسے وہ اوکاڑہ ملٹری فارمز انتظامیہ کو دیں۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے راقم نے بی بی سی کو بتایاکہ اس بات کا تعین کرنا کہ کسانوں کو بٹائی دینی چاہیے یا نہیں این سی ایچ آر کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ این سی ایچ آر کی رپورٹ اس تنازعے کا صرف ایک پہلو دکھا رہی ہے۔ ان کو کسانوں کی طرف سے بار بار سامنے لایا گیا پہلو بھی دیکھنا ہوگا ورنہ یہ تنازعہ اتنی آسانی سے حل نہیں ہوگا۔ مزید یہ کہ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اوکاڑہ کے مزارعین سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرے۔ یہ کیس اسی وقت خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچے گا جب مہر عبدالستار اور جدوجہد میں شامل تمام لوگوں کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں گے۔

اس اٹھارہ سالہ تحریک کے دوران تیرہ مزارعین شہید ہوئے۔ اس سال بھی ایک مزارع دیپالپور میں شہید ہوا۔ سینکڑوں زخمی ہوئے‘ ہزاروں پر مقدمات درج ہوئے۔ دیہاتوں کا مہینوں گھیراؤ کیا گیا۔

اس تحریک کی ایک اہم خاصیت کسان عورتوں کا تحریک میں رہنما کردار تھا۔ انہوں نے اپنی تھاپہ فورس بنائی تھی جو ڈنڈوں کے ساتھ پولیس کا مقابلہ کرتی رہی۔ 2017ء کے آخر میں مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے جب راقم کی موجودگی میں چک فور ایل میں ایک اجتماع کے دوران عورتوں سے پوچھا کہ آپ میں سے کون کون سی عورت اس تحریک کے دوران گرفتار ہوئی تو ایک سو سے زائد عورتوں نے کھڑے ہو کر بتایا کہ وہ سب گرفتار ہوچکی ہیں۔

تحریک کی ایک اور خوبی مسلم اور مسیحی برادری کا یکجا ہو کر مذہبی منافرتوں کو دور رکھتے ہوئے مالکی کے لئے متحدہ تحریک چلانا ہے۔ متاثرین میں مسلم اور مسیحی دونوں شامل ہیں۔ گرفتاریوں اور مقدمات میں بھی دونوں برابر کے شریک ہیں۔ اس اتحاد کو توڑنے کے لئے پچھلے ہفتے ایک مسیحی قبرستان میں کسی نے گھس کر قبروں کی بے حرمتی کی ان کے صلیبی نشانات کو اکھاڑ پھینکا مگر اس دفعہ بھی دونوں نے مل کر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے حقیقی ملزموں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

اب تک تحریک کا زور جاری ہے مگر خاموشی سے۔ اگرچہ 2016ء میں جو کچھ مزارعین کے رہنماؤں اور ان کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ ہوا وہ بھی پاکستان میں ریاستی جبر کی تاریخ میں ایک سیاہ باب ہے۔ ایک مزارعے کے گھر کے سامنے چھ اشتہاریوں کو لا کر قتل کر دیا گیا اور الزام لگایا گیا کہ وہ مزارعین کے پاس پناہ لیے ہوئے تھے۔ یہ سب غلط تھا۔ تقریباً تمام گرفتار مزارعین پر غیرملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات کی بارش کی گئی۔ تشدد، بیڑیاں، ہتھکڑیاں، رہائی کے باوجود رہا نہ کرنا اور انہیں دوبارہ کسی جھوٹے مقدمے میں ڈال کر جیل میں رکھنا معمول تھا۔

اس وقت تھوڑا آرام ہے۔ دونوں فریقین خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جبر اور جھوٹے مقدمات سے مزارعین کو زمینوں کی ملکیت کے مطالبہ سے دستبردار نہیں کرایا جا سکتا۔ مزارعوں کو بے دخل نہیں کرنا ممکن نہیں۔ زمینیں وہ خالی نہیں کریں گے۔ یہ ان کا قانونی حق ہے۔ کیونکہ مزارعیت کے قوانین کے تحت مزارعوں سے زمین خالی نہیں کرائی جا سکتی۔ پنجاب حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے جھوٹے مقدمات واپس لے۔ مزارعوں کو باعزت بری کرے اور ان سے مذاکرات کرے۔ نوآبادیاتی دور کی اس نشانی سے جلد از جان چھڑائے اور زمینیں مزارعوں کے نام کرے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔