سوشل

سوشل میڈیاکی جمالیات: میں تے میریاں سیلفیاں!

فاروق سلہریا

ایک دور تھا کہ شادی کی سالگرہ پر اپنے شریکِ حیات کے ساتھ اظہارِ محبت بالکل نجی معاملہ تھا۔ آج کل اگر اس محبت کا اظہار فیس بُک پر نہ کیا جائے تو گویا محبت سچی نہیں سمجھی جائے گی۔ ہلاکتوں کا شکار ہونے والے افراد کا آخری دیدار بھی فیس بُک پر چند منٹوں میں میسر ہوتا ہے۔

ذرا مندرجہ ذیل اعداد و شمار پر نظر ڈالیے۔

انسٹاگرام کا آغاز 2010ء میں ہوا۔ 2015ء تک 40 کروڑ لوگ انسٹا گرام کو استعمال کر رہے تھے اور وہ 40 ارب تصاویر پوسٹ کر چکے تھے۔ 2011ء تک فیس بُک پر 500 ارب تصاویر اَپ لوڈ کی جا چکی تھیں جبکہ ’فلکر‘ (Flicker) پر 6 ارب کی تعداد میں تصاویر پوسٹ ہو چکی تھیں۔ آج سے تقریباً دس سال قبل ہم سالانہ دس کھرب تصاویر اتار رہے تھے۔ آج کی تاریخ میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔

مندرجہ بالا سائٹس پر متحرک افراد کی اکثریت عمر میں تیس سال سے کم ہے۔یہ نوجوان عموماً اپنی ہی تصویریں خود کھینچ کر (سیلفیاں) پوسٹ کرتے ہیں۔ سیلفی کی اصطلاح آکسفورڈ ڈکشنری نے 2013ء میں متعارف کرائی تھی۔ صرف ایک سال کے اندر اِس اصطلاح کے اِستعمال میں 17000 گنا اضافہ ہوا۔

سیلفی لینے کا نشہ ایسا ہے کہ آشوٹس سیلفی (Auschwitz Selfie) اور سو ئی سائڈ سیلفی (Suicide Selfie) جیسی اصطلاحات بھی اب موجود ہیں۔ او ّل ا لذکر سے مراد آشوٹس کے مقام پر سیلفیاں لینا ہے۔ آشوٹس وہ کیمپ تھا جہاں ہٹلر یہودیوں کو گیس چیمبروں کے حوالے کرتا تھا۔ جبکہ سوئی سائڈ سیلفی کی اصطلاح اس وقت عام ہوئی جب ایک محترمہ نے نیویارک کے مشہور و معروف بروکلین برج سے خود کشی کرتے ہوئے ایک شخص کے ساتھ اپنی سیلفی پوسٹ کی۔

سوئی سائڈ سیلفی

عام لوگوں کی بات تو چھوڑیں۔ امریکی صدر باراک اوبامہ‘ نیلسن منڈیلا کے جنازے میں ڈنمارک کی بھورے بالوں والی وزیرِ اعظم کے ساتھ سیلفیاں لینے میں مصروف رہے۔ بسترِ مرگ پر پڑے عبدالستار ایدھی کے ساتھ گلوکارہ و اداکارہ کومل رضوی کی سیلفی تو آپ کو یاد ہو گی۔

ستمبر 2015ء میں ایک خبر شائع ہوئی کہ سیلفیاں لیتے ہوئے ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد (12) شارک مچھلیوں کے حملوں کا شکار بننے والوں (8) سے زیادہ تھی۔ 2014-15ء کے دوران 127 افراد سیلفیاں لیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ بھارتی ریاست گوا میں تو پچھلے سال وہاں کی حکومت نے بعض علاقوں میں سیلفیوں پر پابندی لگا دی۔

سیلفی کے اِس پاگل پن کہ وجہ کیا ہے؟

اسکی ایک وجہ تو نرگسیت ہے۔ نئی سے نئی تحقیق یہ ثابت کر رہی ہے کہ مختلف سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اور پلیٹ فارم اپنے صارفین کو نرگسیت کا شکار (مریض) بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا ہمیں نرگسیت کاعادی کیسے بناتا ہے؟

دو ممکنہ وضاحتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس نرگسیت کی وجہ اکیلے رہ جانے یعنی تنہائی کا سماجی و نفسیاتی خوف ہے۔ ایک کام جو سب کر رہے ہیں اگر میں وہ کام نہیں کروں گا تو اکیلا رہ جاؤں گا۔ میسی چیوٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پروفیسر شیری ٹرکل کے مطابق ”تنہائی کے خوف سے ہم اپنے آپ پر توجہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم ایک دوسروں پر توجہ نہیں دیتے۔ اگر ہم اپنے بارے میں عدم اعتماد کا شکار ہیں تو ہم میں یہ اعتماد بھی نہیں ہوتا کہ دوسروں کو کچھ دے سکیں۔“

تحقیق سے ثابت ہو رہا ہے کہ آن لائن متحرک رہنے والے افراد آف لائن (یعنی حقیقی زندگیوں میں) تنہائی کا شکار ہوتے ہیں۔ 2013ء میں برلن کی ہمبولڈٹ یونیورسٹی نے 600 فیس بُک صارفین پر تحقیق سے ثابت کیا کہ کم از کم تیس فیصد صارفین دوسروں کی نسبت (جو فیس بُک پر نہیں تھے)زیادہ تنہائی، غصے اور فرسٹریشن کا شکار تھے۔

اسی طرح پیو (Pew) ریسرچ سنٹر کے مطابق اکیسویں صدی میں جوان ہونے والے افراد (جنہیں انگریزی میں ’Millennials‘ کہا جاتا ہے) میں سے صرف 19 فیصد لوگ دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر جنریشن ایکس کے لوگوں (جو 1965-84ء کے دوران پیدا ہوئے) میں یہ تعداد 31 فیصد ہے۔ جبکہ اس سے پہلے کی نسل جسے ’بیبی بومرز‘بھی کہتے ہیں (یعنی وہ لوگ جو 1946-64ء کے دوران پیدا ہوئے) میں ایسے لوگوں کی تعداد 40 فیصد ہے۔

اینڈریو کِین سوشل میڈیا کے زبردست نقاد ہیں۔ ان کے خیال میں کہ ”جو لوگ خود کو انسٹا گرام پر دیکھے بغیر اپنے ہی وجود کا یقین نہ کر پاتے ہوں وہ دوسروں پر کیسے اعتماد کریں گے؟“

نرگسیت کی دوسری ممکنہ وجہ ہے سماجی دباؤ اور سوشل میڈیا کی مقبولیت۔ جب امریکی صدر سے لے کر آپ کے پڑوسی تک‘ جنازہ پڑھنے سے لے کے بریانی اور پکوڑے کھانے تک کی سیلفیاں پوسٹ کریں گے تو نرگسیت کا کلچر روزمرّہ زندگی کا حصہ بن جائے گا۔ یہ کلچر نارملائز ہو جائے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سوشل میڈیا کا نرگسی کلچر آج کل کے نیو لبرل عہد سے مطابقت رکھتا ہے۔ نیو لبرلزم ایک طرف تو یہ سکھاتا ہے کہ ہر کوئی اپنا ذمہ دار خود ہے۔ مارگریٹ تھیچر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ سماج نامی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ دوسری جانب نیولبرلزم انتہائی شدید مقابلہ بازی کو جنم دیتا ہے۔ یہی کام سوشل میڈیا بھی کرتا ہے۔

سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا میں فرق ہی یہ ہے کہ سوشل میڈیا میں صارفین بلا معاوضہ کام کرنے والے میڈیا ورکر بھی ہیں اور قارئین بھی وہ خود ہیں۔ دوسری جانب نرگسیت انفرادیت کو پاگل پن کی حد تک لے جانے کا نام ہے۔

نرگسیت کے علاوہ سوشل میڈیا کی جمالیات کا دوسرااہم پہلو ہے عارضیت۔ اس عارضی پن کا نتیجہ ہے کہ ہم کسی بات پر زیادہ دیر توجہ نہیں دے پاتے۔ ہماری توجہ کا دائرہ مختصر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ عارضیت دو طرح سے جنم لیتی ہے۔

اوّل: آن لائن موجودگی اور زیادہ سے زیادہ لائکس (Likes) کے لئے ہر وقت دوڑ لگی رہتی ہے۔ لہٰذا نت نئی چیزیں اَپ لوڈ کرنے کی مشق جاری رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی بھی پوسٹ کی عمر بہت زیادہ نہیں ہوتی۔

دوم: ہماری توجہ منتشر رہتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے گاڈ فادرز ہماری توجہ منتشر کرنے یا رکھنے کے لئے اربوں روپے خرچ کرتے ہیں۔

گوگل کی ہی مثال لیجئے۔ گوگل ہماری سرفنگ کا سارا حساب کتاب رکھتا ہے۔ اسے ہماری آن لائن دلچسپیوں اور مشغلوں کا علم ہوتا ہے چنانچہ جب ہم گوگل کرتے ہیں تو ہماری سکرین پر ان چیزوں کے اشتہار نظر آنے لگتے ہیں جن میں ہمیں دلچسپی ہو سکتی ہے۔ ہم جتنی بار ایسے اشتہارات پر کلک کریں گے‘ گوگل کو مالی فائدہ ہو گا۔

امریکی اسکالر نکولس کار (Nicholas Carr) کے مطابق”گوگل کا تو کاروبار ہی یہ ہے کہ آپ کی توجہ کو منتشر رکھے۔ یہ گوگل کی آخری خواہش ہو گی کہ آپ دلجمعی کے ساتھ کوئی ایک چیز پڑھ سکیں۔“

عارضیت کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سوشل میڈیا کے صارفین کسی ایسی بات میں دلچسپی نہیں لیتے جو تھوڑی توجہ اور ذہنی مشقت کا تقاضا کرتی ہو۔ گویا ایک طرح کا سطحی پن غالب آ جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال کولمبیا یونیورسٹی اور فرنچ نیشنل انسٹیٹیوٹ کی ایک مشترکہ تحقیق ہے۔ تحقیق کے مطابق 60000 ایسے اخباری مضامین کی جانچ کی گئی جنہیں سوشل میڈیا پر 28 لاکھ دفعہ شیئر کیا گیا تھا۔ تحقیق کے مطابق 59 فیصد مضامین کو بغیر پڑھے شیئر کر دیا گیا تھا۔

نوبل انعام یافتہ روسی مصنف الیگزینڈر سولژنٹسن کو بیسویں صدی کے پریس سے گلہ تھا کہ وہ سطحیت کا شکار ہے۔ وہ آج زندہ ہوتے تو ان کا منہ زور قلم نہ جانے سوشل میڈیا کی سطحیت بارے کیا اُگلتا۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔