سائنس و ٹیکنالوجی

بلیو وہیل گیم

علی مدیح ہاشمی

یہ ہم پر منحصر ہے کہ ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز سے اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اپنے بچوں کو بھی ایسا کرنے کا عادی بنائیں۔ ٹیکنالوجی خود کچھ تخلیق نہیں کرتی، آپ تبدیلی کو نہیں روک سکتے جیسے سورج کو غروب ہونے سے نہیں روکا جا سکتا…سٹار وار

روزنامہ دی نیوز کی ایک صحافی نے مجھ سے ’بلیو وہیل‘ گیم (جسے بلیو وہیل چیلنج بھی کہا جاتا ہے) کے بارے میں رائے حاصل کرنے کے لئے رابطہ کیا، اس گیم پر الزام ہے کہ یہ نوجوانوں میں خود اذیتی کا موجب بنتی ہے۔ دی نیوز میں مذکورہ صحافی کا مضمون بعد میں ”معاملہ کچھ مشکوک ہے“ کے عنوان سے شائع ہوا۔

اس کھیل سے ناواقف افراد کے لئے مختصراً یوں ہے کہ ’بلیو وہیل‘ روس میں پہلی بار نمودار ہوئی تھی۔ اسے 21 سالہ نفسیات کے طالب علم نے مبینہ طور پر تیار کیا۔ یہ گیم 50 دنوں کے ٹاسک پر مشتمل ہے جس کا انجام خود کشی پر ہوتا ہے۔

2016ء میں متعارف ہونے کے بعد سے، ’بلیو وہیل‘ کو پوری دنیا کے نو عمر افراد میں خود اذیتی کے متعدد واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا جن میں بعض خودکشی کے واقعات بھی شامل ہیں۔ کچھ واقعات کی پاکستان اور بھارت سے بھی اطلاعات ہیں۔ تاحال اس رجحان نے ہمارے اخلاقی بریگیڈز کی توجہ حاصل نہیں کی۔

تاہم پاکستان میں اگر یہ واقعات رونما ہوتے رہے جیسا کہ اس کا زیادہ تر امکان ہے تو ’بلیو وہیل‘ بلاشبہ ہمارے مذہبی طبقے کی توجہ حاصل کرے گی اور مذہبی و اخلاقی پستی کے مغربی خطرات کا بالعموم اور ٹیکنالوجی کا بالخصوص ماتم کیا جائے گا۔ اس بحث میں جو بات نظرانداز ہو گی وہی ہے جو میں نے مذکورہ صحافی کو بتائی تھی کہ ’بلیو وہیل‘ جیسے متواتر رجحان نے ہمارے بچوں اور نوعمر افراد کو درپیش بڑے مسائل پر پردہ ڈال دیا ہے۔

اگر کسی نے اپنے آپ کو صرف کمپیوٹر ٹیکنالوجی تک ہی محدود رکھنا ہے (نوعمری میں تعلیم، گریڈ، جنسی تعلق اور ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں شراب اور منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے واقعات کو تھوڑی دیر کیلئے ایک طرف رکھیئے) تو یہ ’بلیو وہیل‘ سے بھی زیادہ گھمبیر مسئلہ ہے کیوں کہ بچوں اور نوجوانوں پر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ منفی اثر پڑتا ہے۔

ذرا غور کریں بیس سال قبل ایک گھر میں اوسطاً آٹھ سے چھ کمپیوٹر ڈیواسز کا انٹرنیٹ سے منسلک ہونا کبھی سننے کو نہیں ملتا تھا (ان ڈیواسز میں ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، آئی پیڈ، اسمارٹ فون اور سمارٹ ٹی وی شامل ہیں)۔

جب میری نسل کے افراد لڑکپن میں تھے تو ہمیں تفریح اور کھیلنے کودنے کے لئے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ لاہور کی گرمیوں میں تپتی دوپہر میں جب گھر کے بڑے قیلولہ کر رہے ہوتے تھے، ہم گلہریوں اور بلیوں کے بچوں کا پیچھا کرنے، چھپن چھپائی، پتنگ اڑانے یا کرکٹ کھیلنے کے لئے باہر نکل جاتے۔ اسکول کے اوقات کے علاوہ زیادہ تر وقت جسمانی کھیل کود، دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ گزارنے میں صرف ہوتا تھا۔

آج کسی بچے کو اپنا ایئرکنڈیشنڈ کمرہ نہیں چھوڑنا پڑتا۔ انٹرنیٹ ان کے بستر میں بیرونی دنیا (یا اس کی ایک تبدیل شدہ ورچوئل شکل) کو لے آیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دنیائیں بالکل ایک جیسی نہ ہوں، لیکن بہت سے معاملات میں آج کا بچہ اسی انٹرنیٹ والی دنیا ہی کو جانتا ہے۔

اس کے دو انتہائی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ جسمانی سرگرمی کا دورانیہ جس کا بچوں کو عادی بنایا گیا تھا وہ کافی حد تک کم ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں بچپن میں موٹاپے کے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ جلد ہی یہ موٹاپا انہی بیماریوں کا سبب بنے گا جس سے اہل مغرب کے بچے اس وقت دو چار ہیں جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریاں۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کی رغبت اور دوسروں کے ساتھ سماجی مشغولیت کی صلاحیت میں بھی تیزی سے کمی ہوئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کسی مشین کا سامنا کرنا غیر متوقع رویوں کے حامل انسانوں کی بہ نسبت آسان ہے۔ چند دہائیوں بعد ممکن ہے ہم اپنے ارد گرد ایسے افراد کی کثرت پائیں جنھیں اندازہ نہ ہو کہ چیٹنگ یا ’ایموجی‘ کے بغیر کسی دوسرے انسان کے ساتھ گفتگو کیسے کی جاتی ہے۔

اب وہ وقت نہیں جب بچوں کے لئے ضرورت سے زیادہ ’اسکرین ٹائم‘ کے خطرات بارے تحقیق کا حوالہ دیا جائے جس کے باعث توجہ کی کمی سے لے کر معاشرتی اضطراب اور افسردگی تک کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ کہنا کافی ہو گا کہ ”اسکرین کی لت“ جس میں زیادہ تر بچے مبتلا ہو چکے ہیں، کے مقابلے میں ’بلیو وہیل‘ اسکرین پر محض خطرے کا ایک نشان ہے۔

ایک بار جب یہ مسئلہ بڑے پیمانے پر رجسٹرڈ ہونا شروع ہو جائے گا تو لازمی طور پر ’ٹیکنالوجی پر پابندی عائد کرنے‘ اور ’سادہ وقتوں‘ کی جانب واپسی کے مطالبات سامنے آئیں گے۔ یہ وطیرہ ناکامی کا غماز ہے۔ بچے کمپیوٹر کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس بنیاد پر کمپیوٹر پر پابندی کا مطالبہ ایسے ہی ہے جیسے حادثات کے باعث کاروں پر پابندی کا مطالبہ کرنا۔

یہ ہمیں پرانے سوال پر واپس لے جاتا ہے، کیا ٹیکنالوجی اچھی ہے یا بری؟ اس کا جواب ناں میں دیا جا سکتا ہے نہ ہاں میں۔ ایک کار آپ کے بیمار بچے کو ہسپتال یا آپ کو کام پر لے جانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ کسی ’مقصد‘ کے حصول کیلئے اسے بے گناہ شہریوں پر چڑھانے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بندوق گھر کے دفاع اور بینک لوٹنے کے لئے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ ایٹمی دھماکے سے بہت زیادہ مقدار میں سستی بجلی پیدا ہو سکتی ہے یا بے قصور لوگوں سے بھرے شہر کو راکھ کا ڈھیر بنایا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی صرف ٹیکنالوجی ہے۔ اس کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے وہی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک نسل سے بھی کم عرصے میں ذاتی کمپیوٹروں اور انٹرنیٹ نے ہمارے رہنے سہنے اور دنیا کے ساتھ ہمارا برتاؤ بدل دیا ہے۔ پوری دنیا میں فوری مواصلاتی رابطہ اب معمول کی بات ہے۔ دنیا میں زیادہ تر معلومات اب کسی کے لئے بھی ایک بٹن دبانے کے بعد قابل رسائی ہیں۔ میرے اپنے شعبہ صحت میں کمپیوٹروں نے ڈاکٹروں اور نرسوں کے کام میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ٹیلی میڈیسن دیگر براعظموں تک ای لرننگ کے ذریعے خدمات فراہم کر سکتی ہے اور جس نے یونیورسٹی کیمپس کی ضرورت کو اختیاری بنا دیا ہے۔ کمپیوٹر اب ہر جگہ اتنے ہی ضروری ہیں جتنی پچھلی نسل کیلئے بجلی ضروری تھی۔

تو بچوں کے معاملے میں اس کا کیا جواب ہے؟ وہی جو ہمیشہ رہا ہے۔ گو کمپیوٹرز نے ہمارے بچوں کو تعلیم اور جدید بنانے کے نت نئے اور حیرت انگیز طریقے بتائے ہیں تاہم وہ کبھی بھی اچھی نگرانی اور والدین کی جگہ نہیں لے سکتے۔ ’بلیو وہیل‘ کے چھوٹے مسئلے اور کمپیوٹر کے زیادہ استعمال کے بڑے مسئلے کا حل یکساں ہے۔

والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کی نگرانی کے لئے وقت نکالنا ہو گا۔ اسکرین کا وقت دن میں ایک سے دو گھنٹے یا اس سے کم ہونا چاہئے۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں کے لئے یہ ضروری ہے۔ تازہ ترین تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ 6 سال سے کم عمر بچوں کے لئے کسی بھی طرح کی اسکرین موزوں نہیں۔

اس کا مطلب ہے ٹی وی، اسمارٹ فونز، آئی پیڈ یا ٹیبلٹ کچھ بھی نہیں۔ یقیناً اس کا یہ مطلب ہے کہ والدین کو بھی اپنا اسکرین ٹائم کم کرنا ہو گا۔

شاید فیس بک اور اسنیپ چیٹ کو کم وقت دینا ہی بہتر ثابت ہو گا۔ شاید ہم اپنی اسکرینیں بند کر کے واقعتاً ایک بار پھر ایک دوسرے سے بات کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ آخر میں جو بات یاد رکھنا مفید ہے وہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی خود کچھ تخلیق نہیں کرتی۔ انسانوں نے کاریں، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ بنائے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو محفوظ انداز سے اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور اپنے بچوں کو بھی ایسا کرنے کا عادی بنائیں۔

علی مدیح ہاشمی ماہر نفسیات اور فیض فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے معتمد ہیں۔