خبریں/تبصرے

2020ء میں 2200 ارب پتیوں کی دولت میں 1.9 ٹریلین ڈالر کا اضافہ

حارث قدیر

سال 2020ء وبائی مرض کورونا کی وجہ سے دنیا کیلئے انتہائی مشکل ثابت ہوا لیکن دنیا کے ارب پتیوں کی دولت میں حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فوربزکی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 7 ارب آبادی میں صرف 2200 کے قریب افراد ارب پتی ہیں اور رواں سال انکی مجموعی دولت میں 1.9 ٹریلین ڈالر تک اضافہ ہوا ہے جس کے بعد انکی کل دولت 11.4 ٹریلین ڈالر ہو چکی ہے۔ جدید تاریخ کے سب سے سنگین معاشی بحران کے باوجود رواں سال ارب پتی افراد کی دولت میں 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان ارب پتی افراد میں سے 600 امریکہ میں مقیم ہیں اور انکی کل دولت 4 ٹریلین ڈالر اور چین کے ارب پتیوں کی دولت سے دو گنی ہے۔ تاہم رواں سال دولت کمانے کے معاملے میں چین نے امریکیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

گزشتہ 12 ماہ کے دوران چین کے ارب پتی افراد کی دولت میں امریکیوں کے 560 ارب ڈالر کے مقابلے میں 750 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ فرانس کے ارب پتی افراد رواں سال دولت میں 95 ارب ڈالر کے اضافے کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ انکی کل دولت 500 ارب ڈالر ہے۔

فوربز کی ارب پتیوں کی فہرست میں شامل کچھ افراد کی دولت میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ایلون مسک کی دولت گزشتہ 12 ماہ کے دوران 27 ارب ڈالر سے بڑھ کر 137 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ٹیسلا میں قیمتوں کے اضافے کی وجہ سے یہ سب سے قیمتی آٹو کمپنی بن چکی ہے۔ جیف بیزوس نے ایلون مسک سے رواں سال کم دولت یعنی 67.5 ارب ڈالر کمائے لیکن اس کے باوجود وہ مجموعی طور پر اس فہرست میں 182 ارب ڈالر کے ساتھ سب سے زیادہ دولت مند شخص ہیں۔

فوربز کی رپورٹ سے واضح ہو رہا ہے کہ معاشی بحران کی ہر شکل کا براہ راست بوجھ ہمیشہ غریب عوام پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ معاشی بحران، وبائی امراض اور قدرتی آفات جہاں غریب عوام کیلئے تباہی کا موجب بنتے ہیں وہاں سرمایہ داروں کیلئے ہمیشہ خوفناک حدتک منافع بخش ہوتے ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔