خبریں/تبصرے

کراچی: بحریہ ٹاؤن کے بلڈوزر ایسے گھر گرا رہے ہیں جیسے اسرائیلی فلسطینیوں کے گراتے ہیں

عمار علی جان

بحریہ ٹاون کراچی کے مناظر دیکھے نہیں جاتے۔ ملک ریاض کے حکم پر گاؤں کے ان باسیوں کے وہ گھر مسمار کئے جا رہے ہیں جہاں وہ صدیوں سے رہ رہے تھے۔ جس طرح لوگوں کے گھر بلڈوزروں سے گرائے جا رہے ہیں، یہ سب دیکھ کر اسرائیل اور فلسطین ذہن میں آتے ہیں جہاں اسرائیلی بلڈوزر فلسطینیوں کے گھر ایسے ہی مسمار کرتے ہیں۔ یہ سانحہ ماہ رمضان میں سامنے آ رہا ہے۔ وائے افسوس! سندھ میں پی پی پی کی حکومت اس سارے ظلم میں ملک ریاض کی معاونت کر رہی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں، میڈیا اور ’مقدس ادارے‘ خاموش ہیں۔

ملک ریاض اس ملک میں جمہوریت کے لولا لنگڑا ہونے کی علامت ہیں۔ ملک ریاض سٹے باز سرمایہ داری کی علامت ہیں۔ انہوں نے امیر لوگوں کے لئے ہاؤسنگ کو ایک با منافع کاروبار بنا دیا ہے مگر اس کاروبار کے نتیجے میں غریب بے گھر ہو گئے ہیں۔ فوج ہو یا عدلیہ، حزب اختلاف ہو یا میڈیا، ملک ریاض کے ناجائز قبضوں میں سب ہاتھ بٹاتے ہیں۔

راوی اربن ڈویولپمنٹ پراجیکٹ سے لے کر گجر نالہ اور گبول گاؤں تک ہم ایک ہی رجحان دیکھ رہے ہیں: لینڈ مافیا سیاست، معیشت اور سماج پر حاوی ہے۔ اگر جمہوریت اور انسانی وقار کو بچانا ہے تو اس مافیا کی مزاحمت کرنی ہو گی ورنہ ہمارے ہاں جو جمہوریت ہو گی اس کے بارے میں کہا جائے گا یہ جمہوریت بحریہ ٹاؤن کی جمہوریت ہے جو بحریہ ٹاؤن کے استصواب رائے سے بحریہ ٹاون کی نمائندگی کے لئے بنی ہے۔

عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔