شاعری

غزل: رنگ ہو، نور ہو، توقیر تو ہو

قیصر عباس

رنگ ہو، نور ہو، توقیر تو ہو
ترے قابل تری تصویر تو ہو

روبرو عکس بھی آ جائے تو کیا
آئینہ پیکر تنویر تو ہو

آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر
پہلے ثابت مری تقصیر تو ہو

ہدف ِ جان تو حاضر ہے مگر
ان کے ترکش میں کوئی تیر تو ہو

سنگریزے تو اسی گھات میں ہیں
خا نہ دل کو ئی تعمیر تو ہو

کتنا خوں سینچ کے جائے گی خزاں
ٖفصل گل اب مری تقدیر تو ہو

جرم عائد تو ہوا ہے قیصر
مرے شایاں مری تعزیر تو ہو

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔