نقطہ نظر

احساس کمتری ختم کرنے کیلئے عمران خان لنگوٹی باندھا کریں گے

فاروق سلہریا

منافقت اور جہالت سے لبریز عمران خان کا تازہ بیان نظروں سے گزرا۔ معلوم نہیں یہ کشف ان پر کب ہوا کہ انگریزی لباس اور انگریزی بولنا احساس کمتری کی نشانی ہے۔

یہ بھی ہمیں معلوم نہیں اس منطق کے تحت کرکٹ کھیلنا نفسیاتی لحاظ سے کس کھاتے میں آئے گا لیکن کیا ہی اچھا ہو وزیر اعظم صاحب اپنی سوچ کو ذرا عملی جامہ پہناتے ہوئے اپنی اس نفسیاتی ’اینٹی امپریلزم‘ کا اطلاق فوج اور پولیس کی وردی پر کر کے دکھائیں۔

ویسے اگر انگریزی لباس اور زبان احساس کمتری کی نشانی ہیں تو پاکستانی سیاق و سباق میں پنجابیوں کا اردو بولنا اور شلوار قمیض پہننا بھی تو احساس کمتری ہے۔ احساس کمتری مٹانا ہے تو اچھی طرح مٹائیں: کیوں نہ لنگوٹی باندھی جائے یا تہہ بند زیب تن کیا جائے (یہاں ہماری مراد ہر گز یہ نہیں کہ کوئی ایک لباس یا زبا ن ر تبے میں دوسرے سے بالاتر ہے۔تمام لباس اور زبانیں جو کلچرل اظہار ہوتے ہیں،سب کی برابر عزت ہے)۔

عمران خان اور ان کی قوم یوتھ لیکن لنگوٹی نہیں باندھیں گے اور نہ ہی اس کا پرچار کریں گے کیونکہ اس لباس کے ساتھ طبقاتی طور پر کسان طبقے اور ان پڑھ حلقوں کو جوڑا جاتا ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ اس بیان کا مقصد عام پاکستانی شہریوں کو چالاکی سے یہ طبقاتی پیغام دینا تھا کہ تم اردو پر گزارا کرو۔ انگریزی تعلیم (جو ترقی اور سٹیٹس کا زینہ ہے) اس کا مطالبہ مت کرو۔ انگریزی تم لوگ ’احساس کمتری‘ کے شکار حکمران طبقے کے پاس رہنے دو، خود احساس فخر کے ساتھ جیو جو اردو سے وابستہ ہے (دلچسپ بات ہے عمران خان اور ان کے سرپرست پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو سرائیکی براہوی یا دیگر زبانوں کو ترویج دینے کی بات نہیں کریں گے)۔

عمران خان کا انگریزی زبان و لباس کے خلاف بیان ویسی ہی چالاک حرکت ہے جیسی غربت کو گلوریفائی کرنا ایک چالاک طبقاتی حرکت ہے۔ حکمران طبقے کے دانشور ہمیشہ سے ہمیں یہ بتاتے آئے ہیں کہ غریب رات سکون کی نیند سوتا ہے جبکہ امیر کو نیند کی گولی لینی پڑتی ہے۔

مکان کا کرایہ نہ ہونے یا بچوں کے بھوکا ہونے پر معلوم نہیں کون سے غریب سکون کی نیند سوتے ہیں مگر اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کا قبیل ہمیشہ یہی جھوٹ بولتا ہے کہ غریب سکون کی نیند سوتے ہیں۔

عمران خان اب اس بیانئے کو ثقافت پر لاگو کرنا چاہتے ہیں تا کہ غریب نہ صرف معاشی طور پر اپنی غربت سے خوش رہے بلکہ اسے ترقی کے لئے جس تعلیمی صلاحیت کی ضرورت ہے، اس کا مطالبہ بھی ترک کر دے۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔