پاکستان

ن لیگ، پی پی پی ہائبرڈ نظام کا حصہ ہیں، اپوزیشن نہیں

فاروق سلہریا

سینیٹ الیکشن کے موقع پر پیپلز پارٹی کے چہرے سے اپوزیشن کا نقاب اتر گیا تھا۔ اس لئے پیپلز پارٹی پر زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی پیپلز پارٹی یہ تاثر دینے کی زیادہ کوشش بھی نہیں کر رہی کہ وہ ہائبرڈ نظام کے خلاف ہے۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ بلاول بھٹو عمران خان سے زیادہ فرمانبردار ثابت ہو ں گے۔

’ووٹ کو عزت دو‘ کا ڈھونگ مسلم لیگ نواز رچا رہی ہے۔ جموں کشمیر میں ہونے والے تازہ منتخابات سے قبل مریم نواز نے جو انتخابی مہم چلائی، اس میں کبھی وہ فوج کو خوش کرنے کی کوشش کرتیں اور کبھی ہلکی پھلکی تنقید۔ پولنگ سے عین قبل نواز شریف نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں ایک مرتبہ پھر فوج کے خلاف سخت موقف لیا۔ گو وہ فوج کو براہ راست مخاطب کرنے سے باز رہے۔

ہم نے انتخابات سے کم از کم دس روز قبل ’روزنامہ جدوجہد‘ میں یہ تجزیہ کیا تھا کہ بلاشبہ مریم نواز شریف کے جلسے سب سے بڑے تھے لیکن جموں کشمیر میں انتخابات پی ٹی آئی ہی ’جیتے‘ گئی۔

یہ بات نواز شریف کو بھی معلوم تھی اور آصف علی زردادری کو بھی۔

اب ذرا سوچئے اگر ان دونوں جماعتوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہوتا تو آج ووٹ چوری کا شور نہ مچانا پڑتا۔ اس سے قبل اگر گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی ان دونوں جماعتوں نے منتخابات کا بائیکاٹ کیا ہوتا تو گلگت بلتستان کے منتخابات میں دھاندلی کا واویلا نہ کرنا پڑتا…کیونکہ ان دونوں بڑی جماعتوں کے بائیکاٹ سے انتخابات کی ساکھ ہی ختم ہو جانا تھی۔

ذرا سوچئے اگر 2018ء کے عام انتخابات، پھر گلگت بلتستان اور اب جموں کشمیر کے انتخابات کے بعد یہ جماعتیں ووٹ چوری کے خلاف اسمبلیوں میں بیٹھنے سے انکار کر دیتیں تو ہائبرڈ نظام قائم ہی نہ ہوتا۔ ایک بہت بڑا بحران جنم لیتا جسے حل کرنا ہائبرڈ نظام چلانے والوں کے بس سے باہر ہوتا۔

یہ سرمایہ دار جماعتیں اسمبلیوں کا بائیکاٹ کر نہیں سکتیں کیونکہ ان کے امیدوار کروڑوں خرچ کر کے جمہوریت بچانے اسمبلی میں نہیں پہنچتے۔ وہ فلور کراسنگ کر جائیں گے۔ فارورڈ بلاک بنا لیں گے۔

یہ جماعتیں انتخابات بائیکاٹ بھی نہیں کرتیں کیونکہ پھر یہ حقیقی اپوزیشن بن جائیں گی۔ ہائبرڈ نظام کا حصہ نہیں رہیں گی۔ اپنی باری کے انتظار (اور امید) میں یہ انتخابات میں بھی حصہ لیتی ہیں اور اسمبلیوں میں بھی جاتی ہیں۔ اس طرح ہائبرڈ نظام کو نہ صرف ’Legitimacy‘ مہیا کرتی ہیں بلکہ اسے دوام بھی بخشتی ہیں۔

’ووٹ کو عزت دو‘ اور ’جمہوریت ہماری سیاست ہے‘ کے نعرے ان دو بڑی جماعتوں کی شرمناک منافقت کی علامت ہیں۔

پاکستان کے ترقی پسند ملک میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں شہری ووٹ ڈالنے تک جمہوریت کا حصہ نہ ہوں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ووٹ گنے بھی عوام کی نگرانی میں جائیں اور جمہوری برابری معاشی برابری میں تبدیل ہو۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔