تاریخ

خیبر پختونخوا کے خاشہ زوان جن کا نوحہ بھی نہ کیا جا سکا

مظہر آزاد

تحریکِ طالبان پاکستان نے چند سال قبل خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو کے مقبول مزاحیہ اداکار عالم زیب مجاہد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر کہا کہ اداکاری اور مزاح نگاری چھوڑ کر تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگاو اور سنت کے مطابق داڑھی رکھو۔

تبلیغ میں چار مہینے لگانے کے بعد بھی طالبان کو عالم زیب مجاہد کے مسلمان ہونے کا یقین نہ آیا۔ وہ بدقسمت پشتون قوم کا اداکار اور صدارتی ایورڈ یافتہ مزاح نگار اپنی زندگی کی خاطر ملک چھوڑ کر ملیشیا بھاگ گیا۔ آج کل وہ امریکہ میں ٹیکسی چلا کر گزارہ کر رہا ہے۔

27 فروری 2001ء کو افغان طالبان نے ہزارہ جات قبضہ کرنے کے بعد بامیان میں موجود بدھا کے تاریخی دیو قامت جڑواں مجسموں کو بموں سے اڑا دیا جِس کے بارے میں طالبان کے وزیر اطلاعات قدرت اللہ جمال نے فخر یہ انداز میں کہا کہ انہدام کے پہلے دو دن میں افغانستان میں تمام مجسموں کا دوتہائی حصہ تباہ ہو گیا ہے، جس میں ملک کے آس پاس کے عجائب گھروں میں چھوٹے مٹی اور لکڑی کے ٹکڑے بھی شامل ہیں۔ جمال نے کہا کہ کابل، ہرات، جلال آباد اور غزنی میں عجائب گھروں اور اسلام سے پہلے کے مقامات پر تباہی جاری ہے۔

1996ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے قبل، کابل میں قومی عجائب گھر، جسے غازی شاہ امان اللہ خان نے 1922ء میں تعمیر کیا تھا، سوویت روس کے خلاف لڑنے والے جنگجووں نے پہلے ہی تباہ کر دیا تھا۔ عجائب گھر سے چوری کئے جانے والے ہزاروں قیمتی نمونے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوئے۔

ان نوادرات کو زیادہ ترپاکستان کے راستی سمگل کیا گیا یا پشاور میں ان کی خرید و فروخت کا کام ہوا۔ ایسے اور بھی سینکڑوں واقعات اور واردات کی تفصیل موجود ہے جہاں طالبان اور اْس سے پہلے روس سے لڑنے والے’مجاہدین‘ نے افغانستان میں موجود قیمتی تاریخی ورثے کو تباہ کیا۔

وزیرستان اور سابقہ فاٹا کے دوسری علاقوں میں طالبان نے موسیقی، اتن (پشتونوں کا روایتی رقص) اور مختلف کھیلوں وغیرہ پر پابندی لگا دی تھی۔ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشتو کے مقامی گلوکار، مثلاً کمال محسود اور شوکت عزیز، اپنے وطن میں مہاجر بن کر دوسرے شہروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے اور سالوں تک وزیرستان میں موسیقی کے سْر، اتن کا ڈھول اور نوجوانوں کا جھومنا نظر نہیں آیا۔

سوات میں سی ڈی ڈراموں، فلموں، مقامی ناچ گانوں اور سنیما دیکھنے کا رواج بہت عام تھا۔ سوات نے درجنوں کی تعداد میں گلوکار اور فنکار پیدا کئے۔اِن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں۔ سوات میں طالبان کے آنے کے ساتھ فن سے جْڑی یہ تمام مارکیٹ مکمل طور پر ختم ہو گئی۔

سی ڈیز کی چند دکانوں کو تباہ کیا گیا توباقیوں نے اپنی دکانیں خود بند کر دیں۔ سوات میں موجود دونوں سنیما گھر بند ہو گئے۔ سوات مینگورہ میں موجود موسیقی کیلئے مشہور بنڑ بازار ویران ہو گیا کیونکہ طالبان نے مشہور رقاصہ شبانہ کو قتل کر دیا اور اْس کی لاش کو بازار میں لٹکایا۔ شبانہ کے قتل کے چار ماہ بعد سوات ہی میں ایک اور گلوکار غنی دادکو قتل کیا گیا۔

یہ واقعات دیکھ کر باقی فنکاروں نے سبق حاصل کیا اور اپنی جانیں بچانے کی خاطر سوات چھوڑ میں مختلف شہروں میں آباد ہو گئے۔

اِسی طر ح سو ات میں موجود طالبان نے اپنے افغان طالبان بھائیوں کی نقش قدم پر چلتے ہوئے سوات میں موجود بدھ مت کے ہزاروں سالہ تاریخی ورثے یعنی بدھا کے مجسموں، سوات کے عجائب گھر اور تاریخی سٹوپوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

دہشت گردی کی اِس لہر اور دہشت گردوں کے فن اور فنکار دشمنی کے تسلسل کی وجہ سے سوات کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے دوسری علاقوں میں بھی فن اور فنکاروں پر بْرا اثر ہوا۔

پشاور شہر میں ایک قلیل عرصے کے دوران پانچ سنیما گھر شاپنگ پلازوں میں تبدیل ہوگئے۔ نشتر ہال جو کہ فن اور موسیقی کی محفلوں کیلئے مشہور تھا، 2003ء کے بعد کافی سالوں تک انتہا پسندی کی وجہ سے بند رہا۔ پانچ سال کے عرصے میں طالبان نے سی ڈی اور موسیقی کے تقریباً 600 دکانیں تباہ کیں۔ پشتو کے مشہور گلوکار ہارون باچا اور گلزار عالم اپنا وطن چھوڑ کر باہر کے ملکوں میں رہنے لگے۔ بہت سارے فنکاروں اور گلوکاروں نے اپنا فن چھوڑ دیا جبکہ چند نے نعتیں پڑھنا شروع کی۔

یہی حال افغانستان میں ابھی تک جاری ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے چہیتے ’سادہ لباس‘ میں ملبوس’ذہین‘ طالبان کے ہاتھوں مزاح نگار نظر محمد عرف خاشہ زوان کا قتل اس کی تازہ کڑی ہے۔

منظر عام پر آنے والی خاشہ زوان کی آخری ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب طالبان اسکو گاڑی میں بھٹا کر تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں تو خاشہ زوان اْس وقت بھی اپنے بے رحم اور احساسات سے عاری قاتلوں کو ہنسانے کی کوشش کرتا ہے۔ اْس کو شائد نہیں پتہ تھا کہ ’سادہ لباس‘ نابغہ روزگاروں کو خون بہانے کے علاوہ اور کوئی علم میسر نہیں۔ ویڈیو میں طالبان کو یہ کہتے ہوئے بھی سْنا جا سکتا ہے: ”اِس خبیث کو لٹکا دو“۔

فن اور فنکار سے محبت کرنے والے افسوس کرتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ قاتلوں نے خاشہ زوان جیسے بے ضرر اور ہنس مْکھ انسان کو کیوں مارا؟ حالانکہ سوال یہ بنتا ہے کہ طالبان خاشہ زوان جیسے بندے کو کیوں نہیں مارینگے۔ اِن کو اور آتا کیا ہے؟

چھٹی صدی عیسوی میں اٹکے ہوئے یہ کرائے کے قاتل بامیان کے بدھا سے لے کر رحمن بابا کے مزار تک اور سوات کے فنکاروں سے لے کر خاشہ زوان تک، ہر اس چیز کو ختم کرنے کے درپے ہیں جِس میں زندگی نظر آرہی ہو اور جو چیز ہماری ثقافت اور ہزار سالہ تاریخ کا حصہ ہو۔

اِن کا بنیادی مقصد صرف افغانستان پر قبضہ نہیں۔ یہ تحریک افغان فنون لطیفہ، تاریخ، زبان، کلچر، طرز زندگی اور شناخت کو بھی مٹانا چاہتی ہے۔ اِن کا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ پشتونوں کو دنیا کی سامنے وحشی اور درندے کی شکل میں پیش کیا جائے کیونکہ طالبان کے بنانے والوں نے سالوں سے یہ پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ طالبان ایک پشتون فورس ہے۔

ان تہذیب دشمنوں کے نزدیک زندگی، امن، ہنسی، فن، تاریخ اور طنز و مزاح ایک سنگین جْرم ہیں۔ افغان ہونے کے علاوہ فنون لطیفہ سے وابستگی اور افغانوں کے چہروں پرمسکراہٹیں لانا ہی خاشہ زوان اور دوسرے سینکڑوں فنکاروں اور گلوکاروں کا جرم تھا۔

اْن قاتلوں نے 30 سالوں سے مسکراہٹوں اور زندگیوں کو ختم کرنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔

مصنف نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے نفسیات میں ایم فل کیا ہے۔ ان دنوں وہ سوات کے ایک نجی کالج میں نفسیات کے لیکچرر ہیں۔