شاعری

غزل: اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگے!

قیصر عباس

(نقل مکانی کے ایک عرصے بعد آپ جب اپنے لوگوں میں واپس جائیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی اجنبی دیس میں آگئے ہوں۔ اسے ریورس کلچر شاک ’(Reverse Culture Shock)‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ غزل اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے)

اپنے ہی لوگ اپنے نگر اجنبی لگے
واپس گئے تو گھر کی ہر اک شے نئی لگے

خانوں میں بٹ چکی تھیں سمندر کی وسعتیں
دریا محبتوں کے سمٹتی ند ی لگے

راتوں کی بھینٹ چڑھ گئے وہ چاند جیسے لوگ
تاریکیوں کے دیو جنہیں کاغذی لگے

سونا سمیٹتی تھی جہاں کھیتیوں میں دھوپ
وہ فصل میرے گاؤں کی خاشاک سی لگے

راوی کی شام، سندھ کی نکھری ہوئی سحر
کام آسکے تو ان کو مری زندگی لگے

ْقیصر دلوں کے فاصلے ایسے نہ تھے کبھی
دو گام طے کروں تو مجھے اک صدی لگے

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔