نقطہ نظر

ہم نے صنعت و تجارت کی چوکھٹ پر زرعی شعبے کو قربان کر دیا ہے: ڈاکٹر مقبول حسین سیال

قیصر عباس

سونا سمیٹتی تھی جہاں کھیتیوں میں دھوپ
وہ فصل میرے گاؤں کی خاشاک سی لگے

یہ شاعرانہ تخیل نہیں، ایک ایسے ملک کی کہانی ہے جس کے کھیت کبھی سونا اگلتے تھے، جوکبھی زرعی شعبے میں خود کفیل تھا اوزرعی پیداوارکی بر آمد ملکی زرمبادلہ کا ایک اہم حصہ تھی۔ آج اسی ملک کا زرعی شعبہ تباہی اور بد انتظامی کی مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اپنے عوام کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اب یہی ملک اجناس دوسرے ملکوں سے درآمد کرتا ہے، سبزیاں، پھل اور اجناس کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں اوردیہی ترقی کے منصوبے یہاں ناکامیوں کی داستان لئے سرکاری محکموں کی پرانی فائلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔

پاکستان کو بلا شبہ ایک ایسا ملک قرار دیا جا سکتا ہے جو زرعی تنزلی کی ایک مثال بن کر رہ گیا ہے۔ زرعی اقتصادیات کے ماہر ڈاکٹر مقبول حسین سیال کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نوازکی سابقہ حکومت نے ملک میں صنعت وتجارت کی ترقی کے لئے ملک کے زرعی شعبے کو نظر انداز کرکے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے نزدیک صنعتی ترقی کا حصول ایک اہم مقصد ہے لیکن اس کے لئے ملک کی زرعی پیداوار کو پس پشت ڈالنا دانش مندی نہیں ہے۔ ان کے خیال میں جاگیرداروں اورصنعتی مافیاکا گٹھ جوڑ، زرعی پیداوار میں کمی اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات، ان سب نے مل کر روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کوعام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے۔

ڈاکٹرمقبول آج کل یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور میں اقتصادیات کے پروفیسر ہیں۔ اس سے پہلے وہ یونیوسٹی آف سرگودھا میں ڈین اور پروفیسر بھی رہ چکے ہیں اورامریکہ اور پاکستان میں نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں کام کرچکے ہیں۔ امریکہ میں یونیورسٹی آف وسکانسن، میڈیسن سے عملی اقتصادیات (Applied Economics) میں پی ایچ ڈی کے بعد وہ اسی یونیورسٹی میں ریسرچ سائنٹسٹ رہے۔

وسکانسن کی ریاست میں وہ ٹریڈ اینڈ کنزیومر پرو ٹیکشن ڈویژن میں ٹریڈ انیلسٹ کے طور پر کام کرتے رہے اور کئی نجی کمپنیوں میں ڈائرکٹر آف ماڈلنگ اینڈانیلسزاور سینئر کریڈٹ انیلسٹ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔اب تک ان کے تقریبا 65 تحقیقی مقالے قومی اور بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تحقیقی سرگرمیاں اقتصادیات کے کئی اہم شعبوں تک پھیلی ہوئی ہیں لیکن چھوٹے کسانوں کی آمدنی پر زرعی قرضوں کے اثرات، غربت، دیہی اور زرعی ترقی، صنعتی ادارے، سماجی تفریق اورمنڈیوں کا ارتکاز ان کی تحقیق کے خصوصی عنوانات ہیں۔

اس انٹرویو میں انہوں نے پاکستان جیسے زرعی ملک کی موجودہ صورت حال، جاگیرداری نظام کے نئے ڈھانچے کے علاوہ اجناس اور سبزیوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پربھی سیر حاصل تبصرہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ملک کے لئے ایک زرعی ماڈل تجویز کرتے ہوئے دوسرے اہم مسائل پر روشنی بھی ڈالی ہے۔

ایک زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان ستر اور اسی کی دہائیوں تک اجناس کی پیداوار میں خود کفیل تھا۔ اب ہمیں یہی اجناس دوسرے ملکوں سے درآمد کر نا پڑتے ہیں۔ آپ کے نزدیک اس کی کیا وجوہات ہیں؟

آپ کا سوال بروقت اور اہم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں گندم، چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں بے انتہا کمی آئی ہے اوراس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلم لیگ نواز کی سابقہ حکومت نے زراعت کو مکمل طورپر نظر انداز کیا۔ ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ پاکستان میں صنعت و تجارت کو مستحکم کیا جائے جو ایک اچھا خیال تھا۔ اس مقصد کے تحت زیادہ تر پنجاب میں موٹر وے کے منصوبوں پر زور دیاگیا اور دیہی ترقی کے بجائے شہری نظام پر توجہ دی گئی۔ لیکن ان ترجیحات کے لئے زراعت کو پس پشت ڈال دیا گیا جو ایک بڑی غلطی تھی۔

دوسرے یہ کہ زرعی شعبوں میں ہماری تحقیق و تدریس نہ ہونے کے برابرہے۔ اس کے نتیجے میں بیج کی بہتر اقسام پر تحقیق کم ہوئی اور زرعی ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس انڈیا میں ان شعبوں پر توجہ دی گئی جہاں فصلوں کی پیداوار ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ زرعی یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکزاور ایکسٹنشن کے اداروں کے درمیان رابطے قائم نہیں کئے گئے۔ اس تعاون کی عدم موجودگی میں کسانوں تک نئی ٹیکنالوجی کے حصول کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں اور زرعی شعبوں میں جدت اور سائنسی بنیادوں پر نئے رجحانات کا فقدان ہے۔

تیسری بات یہ کہ پاکستان کی آباد ی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن زرعی پیداوار بہت سست رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ اس رجحان کو ’آبادی کا ملتھوزین جال‘ (Malthusian Population Trap) بھی کہا جاتا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق آبادی میں اضافہ دیگر اجناس کی پیداوار کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ آبادی اور زرعی پیداوار کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ خلیج ملک کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

آج کل پاکستان میں چینی، گندم، پھل اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ اس کا پس منظر کیا ہے؟

زرعی پیداوار میں کمی، جاگیرداروں اور تجارتی مافیا کا گٹھ جوڑ اور مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ، ان سب محرکات کا قریبی تعلق اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی مہنگائی سے ہے۔ یہ سب عناصر یک جا ہو جائیں تو قیمتوں پر ان کے اثرات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔

چینی مافیا مارکیٹ کو پوری طرح کنٹرول کرنے میں مصروف ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح شوگر ملوں کے مالکان اور مارکیٹ مافیا مل کر اپنے منافع میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں جس کا خمیازہ غریب اور متوسط طبقو ں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اجناس کی مانگ پیداوار سے کہیں زیادہ ہے جس کے نتیجے میں حکومت کو اجناس دوسرے ملکوں سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔

ملک میں گرین ریولیوشن کی کامیابی کے بلند بانگ دعووں کے باوجویہ منصوبہ زرعی پیداوار کو دیر پا بنیادوں پر قائم رکھنے میں بری طرح ناکام رہا۔ آپ کا تبصرہ؟

آپ کا اندازہ بالکل درست ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں ’سبز ا نقلاب‘ کی وجہ سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ اس منصوبے کے تحت گندم اور چاول کے بیجوں کی کی بہتراقسام کا تعارف کرایا گیا جن کی پیداواری صلاحیت کہیں زیادہ تھی۔ اس دوران جدید قسم کی کھاد اور کیڑے مارنے والی دواؤں کا استعمال بھی کیا گیاجن کے نتیجے میں پیداوار میں خواطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کسانوں کو ان جدید طریقوں کے استعمال سے زیادہ منافع ہوا اور فصلوں میں بہتری کے آثار نمایاں طورپر نظر آنے لگے۔

نئی ٹیکنالوجی نے بھی کسانوں کی زندگی آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا جہاں کم وقت میں زیادہ اور تیز رفتار کام کرنے کی صلاحیت حاصل ہوئی۔ ان تمام کوششوں کے نتیجے میں گرین ریولیوشن کے ذریعے فصلوں میں فی ایکڑ 250 فیصدتک اضافہ دیکھنے میں آیا۔

لیکن پیداوار میں یہ اضافہ زیادہ عرصے کے لئے برقرار نہیں رہا جس کی کئی وجوہات تھیں۔ پہلی بات تویہ کہ نئی ٹیکنالوجی اور بیجوں کی نئی اقسام دریافت کرنے کا تحقیقی عمل پاکستان میں جاری نہ رہ سکا۔ ملک کے زرعی شعبوں میں تحقیق کے مواقع اور سہولیات کا فقدان ہے اور یہی وجہ ہے کہ پیداوار میں اضافے اور سائنسی بنیادوں پر جدید ٹیکنالوجی میں جدت کے کو فروغ حاصل نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ پاکستان میں زیرِکاشت زمین چھوٹے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور یہاں 89 فیصد فارم صرف پانچ ہیکٹرز کے رقبے پر محیط ہیں۔ چونکہ جدید ٹیکنالوجی مہنگی ہوتی ہے، چھوٹے فارم اس کے اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر کاشت کاروں کو قرضوں اور سرمائے کی فراہمی کے مواقع میسر نہیں ہیں۔

دیکھا گیا ہے کہ ان حالات میں ملک کے چھوٹے کاشت کار صرف اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہی فصلیں اگاتے ہیں۔ اس طرح منافع کے لئے کاشت کاری محدود ہوتی جا رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملک کی آبادی میں اضافے اور زرعی پیداوار میں کمی کی بنا پر ملک اجناس کی درآمد پر مجبور ہے تاکہ ملکی ضروریات پوری ہو سکیں۔

کہا جاتا ہے کہ ملک میں جاگیردارانہ نظام اب اتنا مضبوط نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔ کیا یہ ایک مفروضہ ہے یا حقیقت؟

آپ کا خیال درست ہے۔ پاکستان میں صدیوں پرانا جاگیرداری نظام اب بتدریج سکڑ رہا ہے اور اس رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ ملک میں جائدادکے قوانین کی وجہ سے کاشت کاری کے قابل زمینیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ رہی ہیں۔ زمین کے بٹاؤ کا یہ رجحان کاشت کاری اور بڑے جاگیرداروں کی بقا کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

یہ رجحانات جاگیردارانہ نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کے باوجود جنوبی پنجاب اور سندھ میں جاگیردارانہ نظام اب بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔

دوئم، کئی جاگیردار اپنی زمینیں بیچ کر صفعت و تجارت کی جانب راغب ہو رہے ہیں اور اکثر صورتوں میں زیادہ تر بڑے جاگیردار اب دیہی علاقوں سے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ جاگیرداری نظا م میں یہ تبدیلی پاکستان میں پرانے اور رروائتی سماج میں بھی تبدیلیاں لا رہی ہے۔

اس کے علاوہ زمیندار طبقہ ا پنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بھی شہروں میں منتقل ہو رہا ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کم میسر ہیں۔ اس طرح ان کے اقتصادی رویے بھی بدل رہے ہیں جن کے تحت آمدنی کے ذرائع بھی شہروں کی جانب منٹقل ہوتے جا رہے ہیں۔

دیہی علاقوں سے شہروں میں نقل مکانی کا یہ سلسلہ نہ صرف دیہاتوں میں اقتصادی اور سماجی ڈھانچوں میں تبدیلی لا رہا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں شہری آبادی کے لئے بھی نئے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ یہاں رہائشی سہولتوں میں کمی، بے روزگاری اور جرائم میں اضافہ جیسے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ رہائشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے نئے رہائشی منصوبے بنائے جا رہے ہیں اورکاشت کاری کے قابل ہزاروں ایکڑ زمینیں بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ اے کی طرز پر میگا منصوبوں کے لئے خریدی جا رہی ہیں۔

زمینوں کے بٹاؤ اور جاگیرداری نظام میں ان تبدیلیوں کے نتیجے میں کاشت کاری کرنا اب کوئی سستا سودا نہیں رہااور اسی لئے اس کاشت کار اب دیگر منافع بخش اقتصادی ذرائع کی تلاش میں ہیں۔

آزادی کے بعد ملک میں دیہی ترقی کے کئی منصوبے آزمائے گئے لیکن چند ایک کے سوا یہ تمام ناکام ہوئے۔ ایسا کیوں ہوا؟

یہ ناکامیوں کی ایک اور دکھ بھری داستان ہے۔ جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں، دیہی ترقی کے منصوبوں میں مقامی کاشت کار، کمیونٹی کے ارکان اور سماجی اکائیوں کی شرکت از حد ضروری ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں دیہی ترقی کے بیشتر منصوبے لوگوں کی شراکت کے بغیر ہی تشکیل دئے گئے تھے جن میں اوپر بیٹھی انتظامیہ کا عمل دخل زیادہ اور نیچے درجے کے کسان اور سماجی اکائیاں کم شامل تھیں۔ ان منصوبوں کے اکثر کرتا دھرتاتجارتی ادارے، بڑے کاشت کار اور صوبائی اور مرکزی حکومت کے منتظم تھے جن کے اقتصادی مفادات ان سے منسلک تھے۔ جن علاقوں میں مقامی باشندوں کو شامل کیا گیا وہاں لوکل باڈیز کے ادارے اتنے منظم اور مستحکم نہیں تھے کہ ان منصوبوں کی کامیابی کی ضمانت دے سکیں۔

حکومت نے ساٹھ کی دہائی میں سابقہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں ایسے کئی منصوبے ’Inegated Rural Developmnet Projets‘ کے نام سے شروع کئے۔ ان میں وہ منصوبے کامیاب رہے جو مشرقی پاکستان میں تھے کیوں کہ یہاں ڈاکٹر اختر حمید خان جیسے قابل لوگ ان منصوبوں کی رہنمائی کر رہے تھے۔

مشرقی پاکستان میں دیہی ترقیاتی حکمت عملی کی کامیابی کی ایک اور وجہ علاقے کی سماجی ساخت تھی۔ اس قسم کے منصوبوں میں بنگالی اجتماعی طور پر مل کر کام کرتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کا چھوٹے قرضوں کا پراجیکٹ بنگلہ دیش میں اسی لئے کامیاب رہا کہ اس میں اجتماعی قرضوں کا تصور کارفرما تھا۔ اس کے برعکس پاکستان میں لوگ انفرادی طور پر کام کرنا پسند کرتے ہیں اور باہمی تعاون پر کم ہی یقین رکھتے ہیں۔

ہماری نوکر شاہی اور انتطامیہ بھی دیہی ترقی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی ذمہ دار ہے۔ نوکر شاہی کا ادارہ دراصل نئے منصوبوں کی کامیابی کے لئے نہیں قائم کیا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد موجود ہ نظام کو ہی مضبوط کرنا تھا۔ ہمیں ان اداروں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ ماہرین کو ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور تکمیل کے تمام اختیارات حاصل ہوں۔

فرض کیجئے کہ آپ کو پاکستان کا وزیرزراعت بنا دیا جاتا ہے۔ زرعی معیشت کو بہتر کرنے کے لئے آپ کی تر جیحات کیا ہوں گی؟

دنیامیں ایسے کئی کامیاب ماڈل موجود ہیں جنہیں اپنے ملک کے حالات کے مطابق ڈھال کر ہم زرعی ترقی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ چین کا ماڈل ہمارے سامنے ہے جہاں ملک کو زرعی انحطاط سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیاگیا او ر اب چین اپنی زرعی پیداوار دوسرے ملکوں کو برآمد کر رہا ہے۔

چین میں لوگوں کو کاشت کاری کے لئے زمینیں دی گئیں اوردیہاتوں میں افرادی قوت کو مثبت اندازمیں استعمال کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں افرادی قوت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہم چین کے زرعی نظام سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، ٹیکنالوجی کے مناسب استعمال کی تربیت حاصل کر سکتے ہیں اور زرعی پیداوار میں اضافے کی حکمت عملی سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ زمینوں کو ان کی خصوصیات کے لحاظ سے تقسیم کرکے زرعی پیداوارکو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت زمینوں کو ایگرو اکالوجی (Agro-ecology) کے اصولوں کے مطابق مختلف زونوں میں بانٹا جاتا ہے تاکہ ان سے بہتر اور معیاری پیداوار حاصل کی جا سکے۔ اس طرح مختلف علاقوں میں کپاس، چاول، گندم اور دوسری فصلوں کے الگ الگ زون تشکیل دئے جا سکتے ہیں جن سے پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔

مثال کے طورپرپاکستان ایک زمانے میں کپاس برآمد کرکے زر مبادلہ کماتا تھا اورا ب ہم اسے دوسرے ملکوں سے در آمد کر رہے ہیں۔ اب یہاں گنے کی کاشت کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے اور ان علاقوں میں کاشت کیا جا رہا ہے جو اس کے لئے موزوں نہیں تھے۔ علاقوں کو ان کی زرعی خصوصیات کے لحاظ سے استعمال کرکے بہتر اور معیاری فصلیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ دنیامیں ہر جگہ کسانوں کو سرکاری تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ امریکہ سمیت بیشتر ملکوں میں کسانوں کو سرکاری مراعات اور مالی امداد دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں زرعی شعبے کو اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ میرے خیال میں حکومت کو کسانوں کی مالی مدد اور سبسڈی کی پالیسیوں پر زور دینا چاہیے۔

ان تمام اقدامات کے علاوہ، بہتر اورپیشگی منصوبہ بندی، انتظامی اصلاحات اور بدعنوانی کی روک تھام کے ذریعے ہم زرعی پیداوار میں خودکفیل ہو سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں نوجوان آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت اس قیمتی اثاثے کو بہتر تعلیم اور تحقیقی علوم سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی تربیت یافتہ نوجوان زرعی ترقی کا اہم ستون بھی بن سکتے ہیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔