خبریں/تبصرے

’میں کابل میں رہتی ہوں لیکن کابل کو مس کر رہی ہوں‘

یاسمین افغان

طالبان کے زیر سایہ زندگی افغانوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس وقت کوئی عوامی زندگی نہیں ہے۔ ملاؤں کو چند سرکاری عہدوں پر نامزدکیا گیا ہے اور باقی پڑھی لکھی آبادی کو اس طرح الگ کر دیا گیا ہے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ خواتین کو پہلے ہی کہا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں کیونکہ طالبان جنگجوؤں کو تربیت ہی نہیں ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ کیسے برتاؤ کریں۔ اس لیے انہیں اس وقت تک گھر وں میں رہنا چاہیے جب تک کہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہ ہو جائے۔ یہ افغانستان کے لوگوں اور خاص طور پر کابل کے باشندوں کے لیے سنگین اور تاریک وقت ہے۔ کوئی بھی غیر ضروری طور پر باہر نہیں جانا چاہتا اور زیادہ تر لوگ گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایئرپورٹ کے ساتھ ہونے والے سانحہ کو بیشتر بین الاقوامی میڈیا کور کر رہا ہے لیکن جو کچھ ہوائی اڈے سے باہر اور کابل شہر کے دیگر حصوں اور دیگر صوبوں میں سامنے آ رہا ہے وہ دنیا تک نہیں پہنچ رہا۔

آر ٹی اے (ریڈیو، ٹیلی ویژن افغانستان) میں ایک پریزنٹر اور ایڈیٹر شبانہ دوران نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لکھا کہ ”میں کابل میں رہتی ہوں لیکن مجھے کابل کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔“

اگر آپ کسی بھی کام کرنے والی افغان خاتون سے ملیں جسے اب طالبان کے اگلے نوٹس تک گھر میں رہنا ہے تو آپ کو یہی بات بتائے گی کہ اسے کابل کی یاد آتی ہے اور باہر جانے کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

ایک افغان این جی او کیلئے کام کرنے والی 46 سالہ زوہل (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ”میں جانتی ہوں کہ میں اس وقت اپنے دفتر نہیں جا سکتی لیکن تمام تر دھمکیوں کے باوجود گھر سے کام کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہوں۔“

انکا مزید کہنا تھا کہ ”میں دو سال تک طالبان کے سابقہ دور میں رہی ہوں اور میں جانتی ہوں کہ جب انخلا مکمل ہو جائے گا تو وہ کتنے سفاک ہو جائیں گے، ہمیں بنیادی طور پر بدترین دور کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“

وزارت داخلہ میں ایک فعال ریزرو آفیسر زالا زازئی کا کہنا تھا کہ ”میری والدہ طالبان کے تاریک دور کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکی تھیں اور طالبان کے دور کے بعد انکے شوہر (میرے والد) نے انہیں تعلیم مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ حال ہی میں وہ اپنے اس خواب کو پوراکرنے میں کامیاب ہوئیں۔ میری والدہ سیکنڈ ائیر لا فیکلٹی میں تھیں۔ طالبان واپس آئے اور میری والدہ کا خواب چکنا چور ہو گیا۔“

کابل کی رہائشی وجیہہ (فرضی نام) نے کہاکہ ”میں اپنی 13 سالہ بیٹی کے لیے پریشان ہوں۔ کیا وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکے گی؟ میں نہیں جانتی کہ ہم کہاں بھاگ سکتے ہیں۔“

انسانی حقوق کی علمبردار اور مصنف حمیرا قادری کہتی ہیں کہ ”ہم اپنی خوشیاں کھو چکے ہیں۔ ہم اپنے رنگ کھو چکے ہیں۔ ہم اپنے انتخاب کھو چکے ہیں۔ ہم اپنے الفاظ کھو چکے ہیں۔“

صحافی حبیب خان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا کہ سی بی سی نیوز کو اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ”افغانستان اپنے لوگوں کے لیے ایک بڑی جیل بن چکا ہے۔“

کابل کے ایک رہائشی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”ایک قبرستان میں بھی امن ہوتا ہے۔ کیا دنیا چاہتی ہے کہ ہم بغیر کسی حقوق کے قبرستان میں رہیں؟ کیا وہ اسے زندگی کہیں گے؟“

معروف شاعرہ، افسانہ نگار اور کالم نگار شفیقہ خپلواک نے اپنے ٹوئٹر پرلکھا کہ ”یہ کابل کا سقوط نہیں تھا۔ یہ ہماری شناخت کا سقوط تھا، ہماری آزادی، ثقافتی ورثہ، تاریخ، تنوع، خوابوں اور مستقبل کا سقوط تھا۔ وہ مستقبل جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہ مختلف ہو گااور بہتر ہو گا۔“

افغانستان میں حالیہ پیش رفت سے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افغانوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ 1996ء سے 2001ء کے دوران طالبان کے دور حکومت میں موسیقی پر پابندی لگا دی گئی تھی اور جو بھی کسی قسم کی موسیقی سنتا تھا اسے سخت سزا دی جاتی تھی۔

انعکاس ٹی وی ننگرہار سے منسلک نادیہ مہمند کا کہنا ہے کہ ”آج میرا دل رو رہا ہے۔ افغان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میوزک نے اپنے موسیقی کے آلات کو تباہ کر دیا ہے۔ افغانستان کی آرکسٹرا ٹیم کے ارکان اپنے گھروں کو چلے گئے اور وہ دوبارہ نہیں بجائیں گے۔ سب ختم ہو گیا۔“

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔