خبریں/تبصرے

سوشل میڈیا کا خوف: کابل میں انٹرنیٹ کی رفتار کم

کابل (یاسمین افغان) طالبان نے احتجاجوں پر تشدد کی خبروں اور ویڈیوز کو روکنے کیلئے انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکشن کی بندش کا حربہ اپنانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

جمعرات کے روز کابل کے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروسز کو طالبان نے بند کرنے کے اقدامات جاری کئے۔ جمعرات کے روز کابل کے علاقوں قصبہ، خیر خانہ، خواجہ بوغرا، دشت برچیں اور دیگر جگہوں پر انٹرنیٹ کی سروسز معطل رہیں۔

مقامی صحافیوں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کا سلسلہ روکنے اور ’مسعود ڈے‘ کے موقع پر نان پشتون علاقوں میں ممکنہ احتجاج کا راستہ روکنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ یاد رہے، 9 ستمبر احمد شاہ مسعود کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منایا جا تا ہے۔ احمد شاہ مسعود ’شمالی اتحاد‘ سے وابستہ ایک جنگی سالار تھے جنہیں القاعدہ نے ہلاک کر دیا تھا۔ افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد شمالی اتحاد نے احمد شاہ مسعود کو ایک اہم قومی رہنما بنا کر پیش کیا۔

ایک صحافی کے مطابق انہیں ٹیلی کمیونیکیشن ذرائع سے معلوم ہوا کہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش کیلئے طالبان کی طرف سے احکامات جاری کئے گئے ہیں اور یہ احکامات علی الصبح سے دوپہر کے 2 بجے تک انٹرنیٹ معطل رکھے جانے کے تھے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق جن علاقوں میں انٹرنیٹ بند کیا گیا ان میں تاجک لوگوں کی اکثریت آباد ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں ہزارہ برادری کی آبادی اکثریت میں ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ گذشتہ پیر سے جاری مظاہروں میں پشتون، تاجک، ہزارہ اور دیگر افغان لسانی گروہوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔ بعض طالبان نواز حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ مظاہرے صرف ایک لسانی گروہ کر رہا ہے جو درست نہیں۔