دنیا

انڈیا: سامراج کی نظر میں، شکاری یا شکار؟

ناصر اقبال

آج کل دنیا اور خاص طور پر پاکستان میں یہ تاثر خاصا مضبوط ہے کہ انڈیا اور سامراج یعنی امریکہ باہم بہت زیادہ شیر و شکرہیں۔ انڈین سیاسی قیادت نے تو اندرون ملک اپنے عوام کو کامیابی سے اسطرح کا تاثر دے رکھا ہے کہ امریکہ اپنے ملکی اور عالمی اہم فیصلے بھی انڈین قیادت سے پوچھ کر کرتا ہے۔ حالیہ امریکی صدارتی و جنرل الیکشن میں انڈیا میں صدر ٹرمپ کی ممکنہ جیت کا ایمان کی حد تک یقین تھا۔ انڈین میڈیا اور عوام کو اس حد تک یقین دلایا گیا کہ چونکہ صدر ٹرمپ کی الیکشن مہم میں مودی جی پیش پیش ہیں اس لیے ان کی ہار کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

شکر ہے کہ دنیا کے معاملات انسانی خواہشات کے تابع نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ کی جیت کی صورت میں انڈین قیادت نہ جانے کونسے گستاخانہ دعوؤں اور خواہشات کی تمنا کر بیٹھتی۔ ہم آج کے مضمون میں سامراج دوستی کے انڈین دعوؤں کی حقیقت جانچنے کی کوشش کریں گے۔

یہ ایک اور علیحدہ سے بڑی یا متنازعہ بحث ہے کہ سامراج یا سامراجیت صرف امریکہ تک ہی محدود ہے یا وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بھی گلوبلائزیشن ہو گئی ہے۔ بحرحال انڈیا والے معاملے میں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑ تا کہ دنیا میں اسوقت کونسی سامراجیت نافذالعمل ہے۔ ہم نے تاریخی حقائق کی روشنی میں سامراجی نفسیات اور انڈین قیادت کی خواہشات کا آپسی موازنہ کرنا ہے اور بس۔

مجموعی طور پر انڈیا کی تحریک آزادی 1857ء سے 1947ء تک محیط ہے۔ 90 سالہ اس طویل تحریک کو بیشمار زاویوں، واقعات، سوچوں اور نظریوں کی رو سے دیکھا گیا ہے یا دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ہم یہاں مختصر کرتے ہوئے اس تحریک کے منظقی نتائج یا آخر کا ہی جائزہ لے پائیں گے۔ پوری تحریک آزادی کا خلاصہ دو طرح کے نعروں یا مطالبوں کی صورت میں ہوا۔ ایک یہ کہ انگریز برصغیر کو آزاد کر دیں اور دوسرا مطالبہ کہ انگریز پہلے دو قومی یا مذہبی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم کریں اور واپس جائیں۔ پہلے مطالبے کی سرخیل انڈین نیشنل کانگرس جبکہ دوسرے کی مسلم لیگ تھی۔ یہاں سے انگریز بہادر کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ اپنی نوعیت میں دو متضاد مطالبوں میں سے و ہ کس کے حق میں ووٹ کرے۔

اس وقت کی ہندو قیادت کو یہی یقین کامل تھا کہ انگریز سرکار چونکہ ان کی مٹھی میں ہے اس لیے برصغیر کی تقسیم نہیں ہو گی ”مگر یہ ہو نہ سکا“ اور باچا خان ایک عرصہ دوہائی دیتے رہے کہ نہرو اور گاندھی نے ہمیں بھیڑیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔

خیرجیسے تیسے بھی 1947ء میں برصغیر تقسیم اور آزاد ہو گیا۔ یہ نو آبادیوں کی آزادیوں کا دور تھا اور ہر آزاد ہونے والے ملک کو کھلی آپشن تھی کہ وہ یا تو سوویت بلاک کا حصہ بن جائے یا امریکی بلاک کا۔ اس وقت پاکستان نے نسبتاً جلدی فیصلہ کیا اور امریکی بلاک کا حصہ بن گیا۔ یاد رہے کہ اچھا کیا تھا اور برا کیا اسوقت یہ بحث نہیں ہے بحث یہ ہے کہ ہوا کیا۔ سیاسی بلاک کے ضمن میں اس وقت کی انڈین قیادت نے کوئی فوری فیصلہ نہ کیا کیونکہ اس انڈین قیادت کا خیال تھا کہ انڈیا بذات خود ایک وسیع، طاقت ور اور جدید ملک ہے اس لیئے اسے کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ لہٰذا تیسری آپشن کے طور پر 1961ء میں انڈیا نہرو جی قیادت میں غیر منسلک تحریک کا سرخیل بنا۔

120 ممالک پر مبنی یہ اتحاد اور فیڈل کاسترو، جمال ناصر، مارشل ٹیٹو، سویکارنو جیسے لیڈروں کی موجودگی کے باوجود یہ اپنے اغراض و مقاصد میں قطعاً مجرد یا خصی ثابت ہوا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اتحاد آج بھی دنیا میں موجود ہے مگر آج کی نوجوان نسل نے شاید ہی اس کے بارے میں کبھی سنا یا پڑھا ہو۔ اس اتحاد کودنیا کے پانچ بڑوں امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کی کبھی بھی یا کسی بھی سطح پر حمایت حاصل نہیں رہی۔

ہمیں اس اتحاد کے لیڈروں یا ممالک (انڈیا سمیت) کی نیتوں پر کوئی شک کرنے کی ضرررت نہیں مگر کیا کریں دنیا کے چوہدریوں کا جو نہ کسی کی نیت کو دیکھتے ہیں اور نہ کسی کی مجبوری کو مجبوری سمجھتے ہیں۔ وہ تو بس دنیا کو صرف اپنی ہی عینک سے دیکھتے ہیں۔ اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ جیسے الفاظ سے یہ سخت نفرت کرتے ہیں اور رہی غیر جانبدار ہونے کی بات تو یہ سراسر بغاوت اور دشمنی کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔

پنجابی کہاوت ہے کہ اونٹوں کے تاجر یا ساربان اپنے اونٹوں کے باڑے کے معمولی سوراخوں کو بھی بند کر دیتے ہیں کہ کہیں ان کے اونٹ ان سوراخوں میں سے فرار نہ ہو جائیں۔ ساربان اپنے معاملات میں کس قدر محتاط ہوتے ہیں اس نسبت سے سامراج کے احتیاطی پیمانوں کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

غیر جانبدار تحریک سے انڈیا کو تو کچھ حاصل نہ ہوا البتہ کانگریس اور نہرو خاندان سامراجی نشانے بازوں کے نشانے پر آ گیا۔ آج کی کانگریس شوکت عزیز ٹائپ کے وزیر اعظم یعنی منموہن سنگھ جی کو نامزد کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور حتیٰ کہ کانگریس کی سربراہ بھی ایک غیر انڈین خاتون ہے۔

نہرو کا انڈیا جمہوریت، سیکولرازم، عالمی امن وبھائی چارے، انسانی حقوق کی بنیاد پر اپنے آپ کو عالمی یا بڑی طاقت کے طور پر منوانے کا متمنی رہا لیکن ناکام رہا۔ اسی دوران انڈیا بیکوقت سوویت اور امریکہ کی کاسہ لیسی میں بھی ملوث رہا۔ مشہور انڈین فلم ایک پھول دو مالی (بالغوں کے لیے) شاید اسی پلاٹ پر بنائی گئی۔

انڈین سیاسی قیادت نے اپنے آپ کو منوانے کے لئے ایک یو ٹرن لیا اور اپنے ہمسائیہ ممالک سے چھیڑ خانی کی پالیسی اپنائی۔ چین اور پاکستان سے جنگیں، بھوٹان اور نیپال سے راہداری کی مد میں جگا ٹیکسوں کی وصولی، افغانستان اور سری لنکاہ میں سیاسی و فوجی مداخلت وغیرہ۔ انڈین قیادت کا خیال تھا کہ شاید ان حرکتوں سے وہ بڑی طاقتوں کو متاثر کر پائے گا لیکن نتیجہ بر عکس رہا۔ بڑے بدمعاشوں کی موجود گی میں بھلا کسی چھوٹے بدمعاش کو کھلی چھوٹ مل سکتی ہے۔ اس ساری جان سوزی کا حاصل صرف جنرل نیازی اور جنرل اروڑھہ سنگھ کی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر ہے جسے آج بھی جگہ جگہ پتہ نہیں کیوں دیکھایا جاتا ہے۔ یہاں ہم ایک لمحے کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ پاکستان کو انڈیا ہی نے توڑا۔ مگر اس کے بدلے میں انڈیا کو کیا ملا کوئی تمغہ، نوبل، کوئی خطاب، سلامتی کونسل کی رکنیت اور ترقی وغیرہ۔ بس صرف گلاس توڑا بارہ آنے۔

پھر انڈیا کو خیال آیا کہ ایٹم بم بنا لینے سے سلامتی کونسل کی ممبرشپ مل سکتی ہے بس پھر کیا تھا ایٹمی پروگرام شروع، ایٹمی ہتھیار بھی تیار کر لیے، دھماکے بھی ہو گئے مگر سلامتی کونسل میں پھر بھی جگہ نہ مل سکی البتہ انڈین ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کا سنہری موقع فراہم کر دیا۔ انڈیا نے شاید تین دھماکے کیے جواب میں پاکستان نے پانچ دھماکے داغ دیئے۔ نو نقد نہ تیرہ ادھار۔

90ء کی دہائی کے تقریباً آخری سالوں میں انڈیا نے ایک میزائل ٹیسٹ کیا اور میڈیا پر بڑی شد و مد کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس میزائل کی مار آسٹریلیا تک ہے۔ اسوقت ہم یہی سمجھے کہ شائد فاصلہ یا رینج بتانے کی غرض سے آسٹریلیا کا نام لیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں آسٹریلیا میں فسادات ہوئے اور انڈین شہریوں کی مار پیٹ کے علاوہ ان کی دکانوں وغیرہ کو نذر آتش بھی کیا گیا۔ اسی اثنا میں انڈیا نے دنیا کی دوسرے یا تیسرے نمبر کی بڑی نیوی کا دعویٰ بھی کر دیا۔ اسوقت ہمیں انڈیا اور آسٹریلیا کے تضاد کی سمجھ آئی کہ بحر ہند کے تجارتی و دیگر معاملات کا انچارج یا نگران آسٹریلیا کو مقرر کیا گیا تھالیکن انڈیا نے بحر ہند کی تجارت کو کنٹرول کرنے کی تمنا میں نا صرف آسٹریلیا بلکہ پانچ عالمی چوہدریوں سے بھی متھا لگا لیا۔

نوم چامسکی اپنی تحریوں میں اکثر طنزیہ ذکر کرتے ہیں کہ امریکی دربار میں غنڈہ ریاستوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ چنانچہ مودی جی نے تمام اخلاقیات، انسانی و اقلیتی حقوق، سیکولرازم، جمہوری روایات کو پس پشت ڈال کر، تلواریں نکال کر اور ہٹلر والی بولیاں بول کراو ر ایک پورے غنڈے کا روپ دھار کر صدر ٹرمپ کے دربار میں پیش ہوئے اور افغانستان میں انڈیا کے رول کی بات کی تو جواب میں ٹرمپ صاحب نے کہا کہ انڈیا امریکہ کے ساتھ تجارت کر کے خاصے ڈالر کماتا ہے۔ اب انڈیا کو چاہیے کہ ان میں سے کچھ ڈالر افغانستان میں بھی خرچ کرے۔ (یہ تمام بات چیت یوٹیوب پر موجود ہے دوست حوالے کے لیے آسانی سے دیکھ سکتے ہیں) یوں لینے کے دینے پڑ گئے۔ سقوط کابل کے بعد انڈین قیادت ملکی میڈیا پر ان تین بلین ڈالروں کے نقصان کو یاد کر کر کے روتی ہے جو صدر ٹرمپ کے کہنے پر مودی سرکار نے افغانستان میں امریکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انوسٹ یا خرچ کیے تھے۔
ؓ
ؓؓؓحالیہ عام انتخابات کے بعد اپنی وکٹری کی تقریر میں مودی صاحب نے فرمایا کہ وہ بھاری اکثریت حاصل کر چکے اب دنیا کو چاہیے کہ انڈیا کو سلامتی کونسل کا چھٹا ملک تسلیم کر لے۔ ایسے لگتا تھا جیسے مودی صاحب نے الیکشن جیت کر دنیا پر کوئی احسان کر دیا ہو۔ تخت نہ ملدے منگے۔

آج کل میڈیا میں ’QUAD‘ کے بڑے چرچے ہیں ارکان ممالک میں امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان شامل ہیں اور مسئلہ و مقصد بحر ہند میں تجارتی معاملات کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اوپری سطور میں ہم نے اس مسئلہ پر انڈیا اور آسٹریلیا کے باہمی تضاد کا ذکر کر چکے ہیں۔ اب انڈین قیادت اس چکر یا خواہش میں ہے کہ امریکہ بحر ہند کی نگرانی کا تاج آسٹریلیا کے سر سے اٹھا کر انڈیا کے سر پر رکھ دے۔ مگر حسب سابق یہ بھی شاید نہ ہو سکے۔

ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے 1968ء کے تحت صرف امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے ایٹمی ہتھیار ہی قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاصے پاپڑ بیلنے کے بعد بھی انڈیا ابھی تک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو قانونی درجہ نہیں دلا سکا۔

’NSG‘ گروپ یا لندن کلب جس کے دنیا کے 48 اہم ممالک ممبر ہیں اور وہ دنیا میں ایٹمی پرزہ جات، ٹیکنالوجی کی خرید و فرخت کے معاملات کو دیکھتے ہیں ”قدرتی طور پر“ انڈیا بھی اس کلب کی ممبر شپ کا خواہش مند ہوا۔ 2010ء سے 2017ء تک مختلف اوقات میں امریکہ، روس، فرانس کے صدور انڈیا کو ممبرشپ کی تسلی کرا کے، چکمہ دے کر یا شنید سنا کر اپنا اپنا مال اور طیارے بیچتے رہے۔ حتیٰ کہ ترکی اور ساؤتھ افریقہ جیسے ملک بھی اس چکر میں اپنا سودا انڈیا کو بیچ گئے۔ 2019ء میں ہونے والے ابھی تک کے آخری اجلاس میں انڈیا کی ممبرشپ کے معاملے پر پہلے آسٹریلیا نے انڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا بعد میں چین نے ویٹو کر کے معاملے کو غیر معینہ مدت تک کے لیے کھو کھاتے کر دیا۔

دو یا اڑھائی سال پہلے جب ابھی نندن والا وقوعہ ہوا ہی تھا تو اس وقت انڈیا پر جنگی جنوں سوار تھاتو اس وقت انڈین قیادت نے فوری طور پر روس کو جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور توپوں وغیرہ پر مشتمل خاصا بڑاآرڈر دیا۔ موقع کی مناسبت اور نزاکت کو دیکھتے ہوئے روس نے تمام رقم ایڈوانس میں حاصل کی اورچھ مہینے کا وعدہ کر لیا۔ چھ مہینے کے بعد بجائے مال دینے کے روس نے جواب دیا کہ اس بات کی گارنٹی دی جائے کہ یہ اسلحہ چین اور پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ چنانچہ کو ئی گارنٹی دی گئی ہو گی۔ پھر کام شروع ہوا۔ تین یا چار مہینے کے بعد روس نے پھر ہاتھ کھڑے کر لیے کہ کرونا و با کی وجہ سے لیبر چھٹی پر اور کارخانے بند لہٰذا مال کی سپلائی نہ ہونے پر معذرت۔ البتہ ایڈوانس کے معاملے پر ابھی تک روسی یا انڈین قیادت کی طرف سے کوئی مستند خبر نشر نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ امریکہ ابھی تک ’F-16‘ طیاروں کی سپلائی کی مد میں ایک عرصہ دراز سے پاکستان کی خاصی بڑی رقم دبائے ہوئے ہے۔

گزرے ہوئے چند سالوں کے دوران انڈیا کا علاقائی اثرورسوخ چاہ بہار، ایران سے فارغ ہوا، سری لنکاہ اور نیپال کے بعد پھر افغانستان۔ اگلی باری بنگلہ دیش اور بھوٹان کی لگی ہوئی ہے۔

ابھی سقوط کابل کے بعد ’عالمی برادری‘ نے سماجی طور پر ایران، پاکستان، چین، روس اور ترکی وغیرہ کی ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے کہ وہ کابل کے عبوری معاملات کو دیکھیں اور اپنا کوئی کردار ادا کریں۔ انڈیا کردار ادا کرنے کی بے پناہ خواہش اور 3 بلین ڈالر کے خسارے یا قربانی کے باوجود تمام کھیل سے باہر۔

سامراج اور سامراجی قربت کی خواہش کس طرح قیامت ڈھایا کرتی ہے سنیں ایک محب وطن ہندوستانی کی زبانی۔ ابھی چند دن پہلے مودی سرکار کے ایک بڑے اتحادی اور بزرگ سیاسی رہنما جنرل جی ڈی بخشی ایک ملکی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور ہاتھ جوڑ کر زارو قطار روتے ہوئے میڈیا اور عوام کو دوہائی دے رہے تھے کہ ”انڈیا دنیا میں اکیلا رہ گیا“۔

نوٹ: یو ٹیوب پر یہ کلپ آسانی سے دستیاب ہے۔

ناصر اقبال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے پاکستان کی ترقی پسند تحریک کیساتھ وابستہ ہیں۔