دنیا

خواتین کیلئے افغان کمیونسٹوں کا دور کہیں بہتر تھا: امریکہ مگرمچھ کے آنسو نہ بہائے

جلبیر اشقر

مترجم: سلیم شیخ

افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کے بعد سے امریکہ کی پوری سیاسی اشرافیہ افغان خواتین کے تاریک مستقبل کے غم میں رنج والم کی تصویر بنی بیٹھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظارہ آج سے بیس برس قبل کی صورتحال سے بڑی مماثلت رکھتا ہے جب گیارہ ستمبر کو القاعدہ کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں امریکہ نے القاعدہ کو فوری ختم کرنے اور افغان خواتین کو طالبان کے ظلم و اِستبداد سے آزاد کرانے کے مقاصد کو افغانستان پر لشکر کشی کے دو کلیدی محرکات کے طور پر پیش کیا تھا۔

درحقیقت امریکہ کی افغان خواتین سے ہمدردی سوائے ڈھونگ اور نا ٹک کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اگر امریکہ کا اصل چہرہ دیکھنا ہو تو ذرا سرد جنگ کے زمانے پر نظر ڈالئے جب یہی امریکہ بڑی بے شرمی سے حقوق نسواں کی بات کربے والی افغان جماعت کے خلاف پدرسری کے حامی بنیاد پرستوں کی حمایت کر رہا تھا۔

چلیں اگر (افغانستان پر لشکر کشی کے لیے) افغان خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کو آزادی دلانے کی دلیل کو مان بھی لیا جائے تو پھر آپ کس منہ سے ان خواتین کے غریب ملک پر دس سالہ سوویت قبضے کو غلط کہہ سکتے ہیں، کیونکہ بہرحال سوویت یونین کی مدد سے چلنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (پی ڈی پی اے) کی حکومت نے فرسودہ پدرسری روایات کی زنجیروں میں جکڑیں افغان خواتین کی آزادی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے تھے۔

پی ڈی پی اے کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات اور پھر حکومت کے خاتمہ کے بعد خواتین کے حقوق کی زبوں حالی کا مفصل احوال 2003ء میں سامنے آنے والی نیٹو کی مشیر، انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی)، کی ایک رپورٹ میں موجود ہے۔ دس سال بعد 2013ء میں شائع ہونے والی اسی آئی سی جی کی ایک اور رپورٹ، پی ڈی پی اے کی حکومت کے دوران اور اس کے زوال کے بعد خواتین کی حالت میں تبدیلی کا خلاصہ کچھ اسطرح کرتی ہے:

”داؤد حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار میں آنے کے بعد، پی ڈی پی اے نے خواتین کے لئے مساوی حقوق، لازمی تعلیم کے اقدامات کے ساتھ خواتین کی جبری اور طے شدہ شادیوں کے علاوہ چھوٹی بچیوں کی شادی کے روک تھام کا بھی وعدہ کیا۔ پی ڈی پی اے کی آنے والی تمام حکومتوں نے خواتین کی ملازمت کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ 1990ء کی دہائی کے وسط میں جب طالبان نے اقتدار پر قبضہ کیا اس وقت افغانستان میں 70 فیصد اساتذہ، تقریباً آدھے سرکاری ملازمین اور 40 فیصد ڈاکٹرز خواتین تھیں“۔

آئی سی جی کی رپورٹ گو کہ افغانستان پر سوویت قبضے اور پی ڈی پی اے کی حکومت کی جانب سے (خواتین کی ترقی کے لیے کئے گئے اقدامات کے) سختی سے نفاذ، مثلاً، اسکولوں میں لڑکے اور لڑکیوں کی علیحدہ علیحدہ تعلیم کو ختم کرکے مخلوط تعلیم کے فروغ وغیرہ جیسے اقدامات پر تنقید بھی کرتی ہے لیکن بہرطور اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی پی اے کے دورِاقتدار میں افغان خواتین کی حالت کو بہتر بنانے کی طرف واضح کوششیں (خاص طور پر شہری علاقوں میں) کی گئیں۔

پی ڈی پی اے حکومت کے ساتھ محاذآرا اسلامی قوتوں پر خواتین مخالف بنیاد پرست مذہبی گروہوں کا غلبہ تھا: درحقیقت 1980ء اور 1990ء کی دہائی کے افغان مجاہدین اور طالبان کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں، یہ سب دراصل ایک ہی رنگ کے مختلف شیڈز ہیں۔

2013ء کی آئی سی جی کی رپورٹ مزید کہتی ہے: ”مجاہدین نے پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے کیمپوں میں اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مہاجرین کی آبادی پر خواتین کے (معاشرے میں) کردار کے حوالے سے وہ ہی بنیاد پرستانہ مذہبی نقطہ نظر مسلط کیا جو جنرل ضیا الحق کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اسلام کی ایک رجعت و بنیاد پرستانہ تشریح سے مطابقت رکھتا تھا۔“

پاکستان کی فوجی آمریت کے علاوہ، مجاہدین کو امریکہ کے سب سے پرانے اور قریبی مسلم اتحادی ملک سعودی عرب، جو خواتین کے ساتھ بدترین سلوک کے لیے مشہور ہے، کی بھی مکمل مدد حاصل تھی۔ اور پھر واشنگٹن نے پی ڈی پی اے کی حکومت اور اس کے سوویت حماتیوں کے خلاف اپنی لڑائی کے لیے بھی انھی رجعتی قوتوں کا انتخاب کیا اور انھیں بھرپور مدد فراہم کی۔

1977ء سے 1981ء تک امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ میں قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے، زبیگنیف بریژنسکی نے طالبان کے کابل پر قبضہ کے دو سال بعد، 1998ء میں ایک فرانسیسی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے انتہائی فخر سے سر عام کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے یو ایس ایس آر کو ”اس کی ویت نام جنگ“ دی تھی جس نے ”سوویت سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے“۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انھیں ”اسلامی بنیاد پرستی کی حمایت کرنے اور مستقبل کے دہشت گردوں کو اسلحہ اور مشورے دینے پر افسوس ہے؟“ تو بریژنسکی نے بڑے سنکی پن سے جواب دیا: ”دنیا کی تاریخ میں سب سے اہم چیز کیا ہے؟ طالبان یا سوویت سلطنت کا خاتمہ؟ کچھ بپھرے ہوئے مسلمان یا پھر وسطی یورپ کی آزادی اور سرد جنگ کا خاتمہ؟“۔

کم از کم بریژنسکی نے، زلمے خلیل زاد کی طرح، طالبان کا دفاع کرنے کی تو کوشش نہیں کی۔ زلمے خلیل زاد ریگن اور بش سینئر کی انتظامیہ میں خارجہ اور دفاع کے محکموں میں خدمات انجام دینے کے بعد، جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں عراق اور افغانستان میں امریکی سفیر رہے اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کا انچارج بنائے جانے بعد، وہ گزشتہ اگست تک، افغانستان سے امریکی انخلا کی تکمیل تک یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔ 1996ء میں، خلیل زادنے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں یہ دلیل دی تھی: ”افغانوں بشمول طالبان کے مختلف دھڑوں اور پاکستانیوں کے ساتھ حالیہ بات چیت کی بنیاد پر مجھے یقین ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی شروعات کا خیر مقدم کریں گے۔ طالبان امریکہ مخالف ایران کی طرز کی بنیاد پرستی پر عمل نہیں کرتے بلکہ انکی اقداروعقائد سعودی نظام کے قریب تر ہیں“۔

حقوق نسواں کی علمبردار خواتین، خلیل زاد کی حقوق نسواں کے بارے میں تشویش کو ضرور سراہیں گیں، جو کہ واشنگٹن کے اس ابدی دوغلے پن کا نمونہ ہے۔

اس دوغلے پن کے مطابق ایران کی اسلامی بنیاد پرستی کو شکست دینے کے چکر میں سعودی عرب کے ہر گناہ کو معاف کردینے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کی جاتی حالانکہ دیکھا جائے تو مؤخر الذکر کے مقابلے میں، سابقہ (ایران) جمہوریت اور خواتین کی آزادی کی حوالے سے ایک روشن شمع کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

خلیل زاد نے دوبارہ جن تعلقات کی ایک نئی شروعات ہونے کی سفارش کی تھی انکے شروع نہ ہونے کی وجہ کم از کم افغان خواتین کے مستقبل کے بارے میں لاحق تشویش نہیں تھی بلکہ وجہ صرف اور صرف امریکی اہداف پر القاعدہ کے حملوں میں اضافہ تھا۔

ان حملوں کی وجہ سے بل کلنٹن نے 1997ء میں افغانستان میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانوں پر میزائل حملے کا حکم دیا تھا۔ باقی کہانی سب کو معلوم ہے: 11/9 اور بیس سال تک اس جنگ زدہ ملک میں تباہ کن نتائج کے ساتھ ختم ہوتی امریکہ کی مداخلت جسے پوری دنیا نے گذشتہ اگست میں دیکھا۔

اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ کیا مجموعی طور پر خواتین کی حالت امریکی سرپرستی میں اسلامی جمہوریہ افغانستان (2021-2004ء) کی حکومت کے دوران، یا پھر پی ڈی پی اے حکومت کے دوران زیادہ بہتر تھی۔ بہرحال اس بات سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے کہ پی ڈی پی اے حکومت کے برعکس، امریکی سرپرستی میں قائم اسلامی جمہوریہ افغانستان کی حکومت کو پدرسری کے حامی بنیاد پرستوں یعنی واشنگٹن کے پرانے افغان اتحادیوں اور مجاہدین کو جنہوں نے پی ڈی پی اے کی حکومت اور سوویت قبضے کا مقابلہ کیا تھا نئی حکومت میں جگہ دی گئی (تفصیلات ہیومن رائٹس واچ کی شائع ہونے والی سالانہ رپورٹس کے خواتین اور بچیوں کے حقوق کے بارے میں سیکشن میں موجود ہیں)۔

امریکی قیادت میں ہوئی اس افغان جنگ کا خمیازہ سب سے زیادہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، جہاں افغانوں کی اکثریت رہتی ہے، نے بھگتا اور بھاری مصائب برداشت کیے۔

افغانستان کی خواتین کی انقلابی تنظیم، جمعیت انقلابی زنان افغانستان (راوا) کا کہنا ہے کہ باوجود مسلسل اپیلوں کے کہ خواتین کو طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا حصہ بنایا جائے، باراک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے دور میں واشنگٹن کی جانب سے طالبان کے ساتھ ہونے والے امن کے عمل میں خواتین کی شرکت بہت معمولی رہی۔

اب یہ دعویٰ ایک لطیفہ بن چکا ہے کہ امریکہ نے طالبان سے اعتدال پسندی کے وعدے حاصل کیے ہیں۔ حالات اتنے خراب ہیں کہ اس مضحکہ خیز صورتحال پر ہنسا بھی نہیں جا سکتا۔

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔