خبریں/تبصرے

طالبانی برقعے کے خلاف افغان خواتین کی رنگ برنگی مزاحمت

یاسمین افغان

افغان خواتین کے روایتی لباس کی آن لائن مہم اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے یونیورسٹی کی طالبات کے لیے سخت ڈریس کوڈ متعارف کروایا۔ دیہی علاقوں میں افغان خواتین صدیوں سے مختلف شوخ رنگوں پر مشتمل روایتی افغان لباس پہنتی ہیں اور افغانستان کے ہر علاقے میں ایک دوسرے سے ملتا جلتا لیکن مختلف سلائی کا انداز ہے۔ یہ کپڑے شوخ رنگوں پر مشتمل اور طالبان کی طرف سے متعارف کروائے گئے کپڑوں سے بالکل برعکس ہیں، جو کہ سر سے پاؤں تک سیاہ حجاب ہے اور کالے دستانے ہیں۔

مصنف اور مزاح نگار خاتول مومند نے ٹویٹر پر اپنے روایتی افغان لباس میں ایک تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”یہ میرے قبیلے مومند میں خواتین کا لباس ہے۔ انتہائی عربی حجاب کو یہاں نہ لائیں۔“

افغان خواتین، جو صحافی اور سماجی کارکن ہیں، کی جانب سے پوسٹ کی گئی تصاویر خوبصورت روشن رنگوں میں ہیں۔ کچھ پشتون روایتی لباس پہنے ہوئے ہیں جبکہ کچھ ہزارگی روایتی لباس پہنے ہوئے ہیں اور کچھ نے بدخشی، بلوچی، نورستانی روایتی لباس پہنے ہوئے ہیں۔

بی بی سی سے منسلک صحافی ثنا صفی نے اپنی تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہے اور لکھا ہے کہ ”تو پھر افغان خواتین کیسے کپڑے پہنتی ہیں؟ وہ پوچھتے ہیں۔ اس طرح۔ اگر میں افغانستان میں ہوتی تو میرے سر پر دوپٹہ ہوتا۔ یہ لباس اتنا ہی پرانا اور روایتی ہے جتنا میں /آپ حاصل کر سکتے ہیں۔“

پیمانہ اسد نے اپنے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ ”یہ افغان ثقافت ہے۔ میرا روایتی لباس۔ ہمارا ثقافتی لباس وہ برا لباس نہیں ہے جو طالبان نے پہن رکھا ہے “۔

انسانی حقوق کی کارکن سپوزمے ماسید نے اپنے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ ”یہ ہمارا مستند افغان لباس ہے۔ افغان خواتین اس طرح کے رنگین اور معمولی لباس پہنتی ہیں۔ کالا برقعہ کبھی بھی افغان ثقافت کا حصہ نہیں رہا۔“

ایک شہری اور انسانی حقوق کی کارکن حمیرا نے اپنی تصویر ایک کیپشن کے ساتھ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ہزارگی روایتی کپڑے ہیں۔ رنگا رنگ ہزارگی لباس میری ثقافت سے ہیں۔ لمبا سیاہ حجاب افغانستان کی تمام خواتین کی نمائندگی نہیں کرتا۔“

مریم ستانکزئی نے ٹویٹر پر سرخ اور سبز رنگ کے روایتی لباس میں اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے اور لکھا کہ ”کوئی بھی میرے وجود کو ایک رنگ تک محدود نہیں کر سکتا۔ نہ آج اور نہ ہی کل۔“

افغانستان کے اندر بہت سی خواتین نے کالے حجاب کے خلاف رد عمل ظاہر کیا ہے۔

خیرخانہ کی رہائشی شازیہ (فرضی نام) نے مجھے بتایاکہ ”ہمارے روایتی کپڑے روشن اور خوبصورت ہیں اور افغانستان کی خوبصورتی کی نمائندگی کرتے ہیں۔“

خیرہ کی ایک اور رہائشی ہما (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ ”گزشتہ افغان حکومت نے خواتین کو کسی خاص انداز میں لباس پہننے پر مجبور نہیں کیا۔ ہم نے اپنے روایتی معاشرے کے مطابق کپڑے پہنے ہیں۔ میں نے ہمیشہ اپنے سر کو دوپٹے سے ڈھانپے رکھا ہے لیکن میرے خاندان کی کچھ خواتین نے نیلے رنگ کا برقعہ پہنا ہوا تھا۔“

وحیدہ (فرضی نام) نے مزید کہاکہ ”کوئی بھی افغان خواتین پر کالا حجاب نہیں مسلط کر سکتا۔ طالبان اپنے سخت ڈریس کوڈز سے افغان خواتین کا دم گھٹانا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں غیر انسانی بنانا چاہتے ہیں لیکن ہم نہیں مانیں گے بلکہ ایک روشن پرندے کی طرح اٹھیں گی۔“

کئی سالوں سے میں نے اپنی دادی اور خاندان کے دیگر لوگوں سے سنا ہے کہ دیہی علاقوں کی خواتین ہمیشہ کھیتوں میں جاتی ہیں اور کھیتوں میں صرف سر پر دوپٹے پہن کر کام کرتی ہیں اور افغان روایتی لباس خاص مواقع جیسے شادی، آزادی کے دن اور اسی طرح کے دیگر ایام میں پہنا جاتا تھا۔

اس مہم کا آغاز بہار جلالی نے کیا تھا جو کہ ایک مورخ ہیں۔ وہ روایتی افغان لباس میں اپنی تصاویر شائع کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔