تاریخ

فادر آف ماڈرن پنجاب

ڈاکٹرمظہرعباس، ڈاکٹر محمد ابرار ظہور

برصغیر میں برطانوی راج کے دوران پنجاب کو ایک جدید مسلم صوبے میں تبدیل کرنے کا سہرا فضل حسین (-1877 1937ء) کے سر جاتا ہے۔ انھوں نے پنجابیوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے متعدد منصوبے متعارف کرائے۔ مثال کے طور پر، انھوں نے بطور وزیرِتعلیم، ممبر بورڈ آف ریونیو اور ممبر ایگزیکٹو کونسل وائسرائے (برائے تعلیم، صحت اور زمینداری معاملات) خدمات انجام دیتے ہوئے پنجابیوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے نہ صرف بیش بہا اصلاحات نافذ کیں بلکہ اہم ترین قوانین بھی متعارف کرانے میں اپنا مثالی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر پنجاب کے عام لوگوں، محنت کش طبقے اور مزارعین، کے حقوق کے تحفظ کے لئے ان کی گراں قدر خدمات نہ صرف قابل ستائش بلکہ ناقابل فراموش بھی ہیں۔

انگریزوں سے مخالفت لینے اور علیحدہ ہونے کے بجائے، فضل حسین نے سرسید احمد خان (دی فادر آف ماڈرن انڈیا) کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے راج کے ساتھ تعاون کیا۔ انھوں نے صوبے کے دیہی طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک ”رورل بلاک“ قائم کیا۔ یہ ”رورل بلاک“ بعد میں 1923ء میں ”پنجاب نیشنل یونینسٹ پارٹی“ کی تشکیل کی بنیاد بنا، جس کا مقصد پنجاب میں ”ڈی آرکی“ کی کامیابی کو یقینی بنانا، بھارت کے لیے ”ڈومنین سٹیٹس“ حاصل کرنا اور ”پنجاب لینڈ ایلینیشن ایکٹ“ کو تحفظ فراہم کرنا تھاتاکہ دیہی علاقوں کے پسماندہ طبقات کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

پنجابیوں کے لئے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ہندوستان کے وائسرائے لارڈ لنتھگو (1936–1943ء) نے 26 اکتوبر 1937ء کو گورنمنٹ کالج لاہور میں فضل حسین میموریل لائبریری کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کہا: ”وہ ایک عظیم سوچ رکھنے والے ایک عظیم سیاستدان، ماہر تعلیم، پنجابی، مسلمان اور سب سے بڑھ کر ایک عظیم ہندوستانی تھے۔“ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سر ایچ ڈی کریک نے فضل حسین میموریل لائبریری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لنتھگو کے الفاظ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ”وہ (فضل حسین) اپنے ملک، صوبہ اور سماجی گروہ یا برادری کی ترقی کے بہت بڑے خواہاں تھے۔“

سولہویں صدی عیسوی میں راجستھان سے پنجاب ہجرت کرنے والے ایک معروف راجپوت بھٹی خاندان میں پیدا ہونے والے میاں فضل حسین نے گورنمنٹ ہائی سکول پشاور اور گورنمنٹ کالج لاہور سے سکول اور کالج کی تعلیم مکمل کی۔ 1897ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ پروفیسر سر ٹی ڈبلیو آرنلڈ کے مشورے پر انگلینڈ چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی کے کرائسٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ ملٹن کی ”آریوپجیٹیکا“، مل کی ”لبرٹی“ اور مزینی کی ”ڈیوٹیز آف مین“ نے نہ صرف انھیں بے حد متاثر کیا بلکہ ساتھ ساتھ یہ راہنمائی بھی فراہم کی کہ وہ انفرادی آزادی کی قدر کریں اور داد دیں جو کہ ایک مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔ اس عمل نے انھیں ایک طرف خود غرضی کو فنا کرنے اور دوسری طرف مزارعوں اور محنت کشوں کے لئے قربانی کے جذبے سے سرشار کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور یوں وہ ایک مضبوط اور عظیم شخصیت بن کر ابھرے۔

بار ایٹ لا مکمل کرنے کے بعد انگلینڈ سے وطن واپسی پر انھوں نے اپنا اندراج ”پنجاب چیف کورٹ“ میں کرایا اور وکالت شروع کر دی۔ وہ اپنے کیریئر کے ابتدائی سالوں میں کافی کامیاب رہے اور ایک پیشہ ور وکیل ہونے کی وجہ سے اچھی شہرت حاصل کی۔ اس کی تصدیق ان کے بیٹے اور سوانح نگار عظیم حسین نے کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”پہلے مہینے میں ہی انھوں نے تین اہم مقدمات جیتے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فضل حسین کی بطور وکیل یہ بہت اچھی شروعات تھی جس کی بدولت وہ اپنے مستقبل کے بارے میں خاصے پر امید ہو گئے۔“

کچھ سال سیالکوٹ میں قانون کی پریکٹس کرنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے، جہاں انھوں نے ”آبزرور“ میں اپنے کالم لکھنا شروع کئے۔ ایک بار جب ان کے دوست شیخ عبدالقادر کلکتہ میں تھے، انھوں نے ”آبزرور“ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور پنجاب کے مسلمانوں کو درپیش مختلف سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے اداریے بھی لکھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس وقت کے معروف ادبی اردو میگزین ”مخزن“ میں تعلیم، سماجی اصلاح، فلسفہ اور سیاست پر سنجیدہ مضامین بھی لکھے۔

اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جنھوں نے انجمن حمایت اسلام لاہور کی مختلف شاخیں قائم کیں اور پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، ایبٹ آباد اور بٹالہ میں اس کے زیراہتمام سکول کھولے۔ میاں فضل حسین عام طور پر ہندوستانی مسلمانوں اور خاص طور پر پنجابی مسلمانوں کو منظم کرنے اور انھیں تعلیم کے ذریعے شعور دینے میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ اسی مقصد کے حصول کے لئے سیالکوٹ میں رہتے ہوئے بھی وہ کمیونٹی کے کاموں اور انجمن کے ساتھ جڑے رہے۔

جب سیالکوٹ کی مسلم کمیونٹی حکیم میر حسام الدین، جو کہ مسجد کے متولی تھے، کے مسئلہ پر منقسم تھی (کچھ لوگوں کا موقف تھا کہ ان کا جھکاؤ احمدیہ فرقے کی طرف ہے، جبکہ بعض کا خیال تھا کہ ایسا کچھ نہیں تھا) تو انھوں نے مداخلت کی اور سول سوٹ کے بچنے کے لئے انجمن حمایت کی مقامی شاخ قائم کی اور متنازع مسجد کے انتظام کی ذمہ داری اس تنظیم کو سونپی۔

اس واقعہ نے ان کی توجہ نہ صرف یتیم بچوں کی دیکھ بھال بلکہ ان کی تعلیم کی طرف بھی مبذول کرائی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے انجمن کی مدد سے ایک مدرستہ القرآن کی بنیاد رکھی اور اس کی لائبریری کے لیے وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کتابیں بھی عطیہ کیں۔ یہ انجمن اسلام سے ان کی زندگی بھر وابستگی کا آغاز تھا جو لاہور میں قیام کے دوران بھی جاری رہا۔ انھوں نے پنجابی مسلمانوں کی اس سرکردہ تنظیم کی مختلف حیثیتوں میں خدمت کی۔

پنجابیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تنظیموں کے قیام اور فروغ کا ان کا سفر یہاں نہیں رکا بلکہ انھیں ”مسلم لیگ“ قائم کرنے کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ مسلم لیگ صرف صوبہ پنجاب تک محدود تھی اور اس کے بارے میں صرف چند لوگ ہی جانتے ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ اس تنظیم کے قیام کا پس منظر انجمن حمایت اسلام لاہور میں دھڑے بندی تھی۔

انجمن دو دھڑوں میں منقسم تھی: ایک دھڑے کی سربراہی میاں شاہ دین کر رہے تھے، جو سرسید احمد خان کی بنیادی روایت پر سختی سے عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کو سیاست میں فعال شمولیت سے دور رکھنا چاہتے تھیاور دوسرے دھڑے کی سربراہی میاں فضل حسین کر رہے تھے، جو ترقی پسند خیالات رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں فروری 1906ء میں لاہور کے ہم خیال پنجابی مسلمانوں کی مدد سے ”مسلم لیگ“ قائم کرنا پڑی تاکہ مسلمانوں کو ادارہ جاتی اور تنظیمی پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔

یہ نئی سیاسی تنظیم بھی پرانی دھڑے بندی سے نہ بچ سکی اور اس نے اپنا اثر و رسوخ اس وقت کھونا شروع کر دیا جب اس نے اپنے مقاصد سے ہٹنا شروع کر دیا جس کی بنیادی وجہ میاں فضل حسین اور میاں شاہ دین کے درمیان اختلافات تھے۔ فضل حسین پنجابی مسلمانوں کے ”ترقی پسند“ گروہ (جن میں پیر تاج الدین، ملک برکت علی، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، خلیفہ شجاع الدین، چوہدری شہاب الدین اور غلام بھیک نیرنگ شامل تھے) کے رہنماکی حیثیت سے میاں محمد شفیع کو صوبائی مسلم لیگ کا صدر بنانا چاہتے تھے۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران میں، بنیادی طور پر ترکی کے جرمنی کا ساتھ دینے کے فیصلے کی وجہ سے، مسلمانوں میں برطانوی مخالف جذبات میں اضافہ ہوا اور نتیجتاً آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس ایک دوسرے کے قریب آ گئیں جس کے نتیجے میں 1916ء میں لکھنؤ میں معاہدہ ہوا۔ یہ فضل حسین اور ان کے ترقی پسند گروہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا جو پنجاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حامی تھے۔ انھوں نے لاہور میں برکت علی محمڈن ہال میں ایک جلسہ کیا اور میاں محمد شفیع کی قیادت کی مذمت کی اور نئی پنجاب مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کیا۔ ان کوششوں اور پیش رفتوں کے نتیجے میں فضل حسین صوبائی کانگریس کے صدر اور مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری بن گئے۔

ان کے سیالکوٹ سے لاہور منتقل ہونے کے فیصلے نے انھیں پنجاب یونیورسٹی، حکومت پنجاب کے محکمہ تعلیم اور انجمن کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا جسے انھوں نے تاحیات جاری رکھا۔ حکومت پنجاب نے اْنھیں پنجاب ٹیکسٹ بک کمیٹی کا رکن نامزد کیا اور پنجاب یونیورسٹی نے انھیں اپنا فیلو نامزد کیا۔ بعد میں وہ 1913ء میں فیکلٹی آف اورینٹل لرننگ اور 1915ء میں فیکلٹی آف لا کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ کمیونٹی کی بہتری کے لیے تعلیم میں ان کی دلچسپی اور کام اس وقت عروج پر پہنچے جب وہ 1922ء میں پنجاب کے وزیر تعلیم بنے۔ بطور وزیر تعلیم ذمہ داری سنبھالنے کے بعد فضل حسین نے پنجاب میں تعلیم کی بہتری کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں۔ انھوں نے تعلیم کے میدان میں وسعت، معیشت، کارکردگی اور مساوات کا چار نکاتی پروگرام شروع کیا۔ ان اصلاحات کی وجہ سے پنجاب برٹش انڈیا کے پسماندہ ترین صوبوں کے گروپ سے جدید ترین صوبوں کے گروپ میں منتقل ہو گیا۔

مزیدیہ کہ وہ مکتبوں اور مدرسوں کے بجائے غیر فرقہ وارانہ اداروں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم رہے۔ تعلیم کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں گورنمنٹ کالج لاہور کی لائبریری (میاں فضل حسین میموریل لائبریری) ان کے نام سے قائم کی گئی۔ مائیکل او ڈائر نے تعلیم کے شعبے میں ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ان الفاظ میں تعریف کی: ”ان کی محنت، لگن اور عظیم صلاحیت نے انھیں ایجوکیشن سلیکٹ کمیٹی کا سب سے قیمتی رکن بنا دیا۔ اور ان کے مشوروں اور علم نے 19- 1918ء میں لازمی پرائمری تعلیم کے بل کی تیاری اور بعد ازاں منظوری میں بہت کلیدی کردار اد اکیا۔ یہ بل بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا بل تھا، جو کہ متعلقہ میونسپل اور ڈسٹرکٹ بورڈز کے مقامی آپشن پر مبنی تھا اور اس کی کامیاب منظوری بنیادی طور پر دو افراد، سر فضل حسین اور مسٹر رچی (ڈی پی آئی)، کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ اس بل نے آنے والے سالوں میں پنجاب (خاص طور پر دیہی پنجاب) میں پرائمری تعلیم کی ترقی کی راہ ہموار کی خاص طور پر اس وقت جب سر فضل حسین وزیر تعلیم تھے۔ یہ قابل ذکر کامیابی انہی کی انتھک محنت کی بدولت ممکن ہو پائی۔“

شعبہ تعلیم میں خدمات انجام دینے کے علاوہ انھوں نے صوبے کی سیاسی ترقی کے روشن مستقبل لیے مقامی خود مختار اداروں کو اہمیت دی۔ انھوں نے نہ صرف ڈسٹرکٹ بورڈز کو دیہی لوکل سیلف گورنمنٹ کے قیمتی آلات کے طور پر سدھار دیا بلکہ 1908ء کی ڈی سینٹرالائزیشن کمیٹی کی تقریباً بھولی ہوئی سفارشات کو بھی اہمیت دی اور 1921ء کے پنجاب پنچایت ایکٹ کے ذریعے قانونی پنچایتیں بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس ایکٹ کے ذریعے لوکل سیلف گورنمنٹ کے اداروں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور ان میں بہتری لائی گئی۔

1926ء اور 1930ء کے درمیان بورڈ آف ریونیو کا رکن ہونے کے ناطے انھوں نے حکومتی مطالبات اور ساہوکاروں جیسے معاشی پرجیویوں کے خلاف کسانوں کے مفادات کی حفاظت کی۔ انھوں نے 1901ء کے ”لینڈ ایلینیشن ایکٹ“ کو کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور قرضوں سے نجات دلانے کی اپنی پالیسی کا سنگ بنیاد سمجھا۔ مثال کے طور پر، پنجاب ہندو سبھا نے لاہور ہائی کورٹ سے دو فیصلے حاصل کیے تھے: ”ایک مطلع زرعی قبیلے کے ایک دیوالیہ رکن کی زمین فروخت کرنے کی اجازت دی گئی اور دوسرا کسی بھی قسم کے حکم کے نفاذ میں زمین کو الگ کرنے کی اجازت دی گئی۔“ پنجاب کے کسانوں کو ان احکامات کے نقصان دہ اثرات سے نجات دلانے کے لیے فضل حسین نے پنجاب لینڈ ایلینیشن (ترمیمی) ایکٹ متعارف کرایا۔

وہ انگریزوں اور مقامی غیر مسلم گروہوں (کمیونٹیز) کے ساتھ باہمی تعاون میں گہری دلچسپی رکھتے تھے، خاص طور پر دستیاب آئینی طریقوں پر عمل کرتے ہوئے پنجابیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے سر چھوٹو رام کی مدد سے 1923ء میں ”پنجاب نیشنل یونینسٹ پارٹی“ قائم کی۔ اس سیاسی جماعت نے انھیں پنجاب کو جدید بنانے کا ایک بڑا اور نادر موقع فراہم کیا۔ اس تنظیم کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے دیہی برادریوں، بنیادی طور پر کسانوں، کے مفادات کی مؤثر طریقے سے وکالت اور حفاظت کی۔ انھوں نے پنجاب کے دیہی طبقوں کو سیکولر اور سیاسی بنیادوں پر اکٹھا کیا، باوجود اس حقیقت کے کہ ان دنوں ہندوستانی عوام زیادہ تر مذہبی بنیادوں پر تقسیم تھے۔

انھوں نے 1930ء سے 1935ء تکوائسرائیکی ایگزیکٹو کونسل (برائے تعلیم، صحت اور زمینداری معاملات) کے رکن کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے 1933ء میں عبدالغفار خان اور ڈاکٹر خان صاحب جیسے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی حاصل کی۔

وہ پنجاب کو سول نافرمانی کی تحریک سے آزاد رکھنے کے لیے بے چین تھے کیونکہ پنجاب بڑی حد تک عدم تعاون کی تحریک سے آزاد اور غیر متاثر رہا تھا۔ دہلی میں رہنے کی وجہ سے وہ تقریباً پانچ سال تک پنجاب سے دور رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنے صوبے سے قریبی رابطہ رکھا اور پنجاب کی سیاسی، تعلیمی، اور معاشی ترقی کے لیے اپنی توانائیاں وقف کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے۔

دیہی پنجابیوں کے مفادات کے فروغ اور تحفظ کے لیے تعلیم، سیاست اور معیشت کے شعبوں میں اصلاحات متعارف کرانے اور قانون سازی کے اقدامات شروع کرنے کے لیے ان کی انمول خدمات کی وجہ سے انھیں ”فادر آف ماڈرن پنجاب“ کہنا بالکل درست ہو گا۔

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔

ڈاکٹر محمد ابرار ظہور نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور یونیورسٹی آف سرگودھا میں شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے چیئرمین ہیں۔