خبریں/تبصرے

لورالائی: یونیورسٹی میں طالبات کے اتن سے رجعتیوں کو ٹھیس لگی

امان اللہ کاکڑ

کل بروز جمعرات 23 ستمبر 2021کا دن پوری دنیا (جہاں پشتون آباد ہیں) میں پشتون کلچر ڈے کے طور پر منایا گیا۔ مختلف علاقوں میں یونیورسٹیوں، کالجوں، سکولوں میں سیمنار، مشاعرے، میوزک نائٹس وغیرہ کے پروگرام منعقد کئے گئے تھے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف لورالائی بلوچستان میں بھی اسی دن کی مناسبت سے پشتون کلچر ڈے کو منانے کیلئے یونیورسٹی آف لورالائی کے پشتو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک جاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں اساتذہ، طلباء، طالبات اور دیگر افراد نے شرکت کی۔ کلچر ڈے کے حوالے سے شرکاء نے تقاریر کی اور اس موقع پر طالب علموں نے پشتون ثقافت کے حوالے سے مقالے، پشتون ثقافتی اتن ، بانڈار، مزاحیہ خاکے، ڈرامے پشتون ثقافت کا حصہ انگئ، شعر  و شاعری نظمیں، چغکہ ، اور دیگر ٹیبلو پیش کئے جبکہ آخر میں طلباء کے ساتھ طالبات نے ڈھول کی تاپ پر اتن کیا۔

بلاشبہ عورتوں کی موجودگی کے بغیر ہر سیاسی، ادبی، فلاحی، تعلیمی اور علمی سرگرمی ایک ادھوری سرگرمی ہی ہوتی ہے اور ان کی موجودگی سے ہر پروگرام، سیمینار، مشاعرہ، احتجاج، جلسہ اور دیگر سرگرمیاں کامل سرگرمیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں کیونکہ عورت کے بغیر مرد اور مرد کے بغیر عورت کچھ بھی نہیں ہیں اور دونوں کی یکجہتی سے ایک مضبوط اور توانا افرادی قوت تشکیل پاتی ہے۔ اس اتحاد سے تشکیل پائے جانی والی افرادی قوت کے نتیجے میں ابھرنے والی مزاحمتی لہر کے سامنے دنیا کی کوئی رجعتی، قبائلی، مذہبی اور سامراجی قوت نہیں ٹہرسکتی کیونکہ اس گلدستہ کے باہمی اتحاد سے تمام مصنوعی اور مسلط کردہ روایات، نظریات، افکار، مغالطے، خوف اور منافقت دم توڑ دیتے ہیں۔ اس باہمی اتحاد و اتفاق سے خوفزدہ رجعتی، قبائلی، مذہبی اور تخریب کار یعنی تمام جاہل قسم کے لوگ ہر وقت لڑتے رہتے ہیں تاکہ انکی جاہلیت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور رجعت اور جاہلیت سرعام راج کرتے رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان جاہلوں نے عورت کو چادر اور چاردیواری کا اسیر بنادیا ہے۔ اس باہمی اتحاد سے خوفزدہ عناصر نے بڑی مکاری، چالاکی اور منافقت سے اس اتحاد کے پیٹ میں چھرا گھونپا ہے۔ نتیجتاً معاشرے کی آبادی کا آدھا حصہ دوہرے تہرے استحصال کا شکار ہوکر بدترین غلام اور قیدی کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ گھریلو مشقت سے لیکر کارخانے کی مشقت تک سب کچھ کرنے کے باوجود عورتوں کو گھریلو معاملات سے لیکر کارخانوں تک ہر چیز سے بےدخل اور غیر حصہ دار کر دیا گیا ہے۔ عورتوں کو تعلیم، کاروبار، سیاست اور دیگر اہم معاملات سے محروم رکھا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کھیل، ڈرائیوینگ، کاشتکاری، مینوفکچرنگ، تخلیق اور فائلٹ، وکیل، آفیسر، استاد الغرض کسی حوالے عورت مرد سے کم نہیں ہے لیکن اس کے باوجود زیادہ تر عورتوں کو ماسی اور نکرانی کا کام کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرنے دیا جاتا ہے۔ عورتوں کی صلاحیتوں کو دبا دیا گیا ہے اور انکو مفلوج بنا کے رکھ دیا گیا ہے۔ عورتوں کے ساتھ یہ ظلم کرنے کیلئے مختلف جھوٹے حربے استعمال کئے گئے ہیں۔ مغالطے پھیلائے گئے ہیں۔ اس موقع پر مذہب اور مذہب پرستوں نے ضرورت سے بھی زیادہ تجاوزات کئے ہیں کیونکہ وہ عورت کو ایک کامل انسان تک نہیں سمجھتے ہیں۔ اسی طرح پشتون کلچر ڈے کے موقع پر بلوجستان کے ضلع لورالائی میں پشتو ڈیپارٹمنٹ یونیورسٹی آف لورالائی کی طرف سے منعقدہ تقریب میں طالبات کی شرکت اور ثقافتی اتن پیش کرنے نے رجعتی، قبایلی اور مذہبی لوگوں کو خوب للکارا ہے۔ طالبات کی شرکت اور یہ شاندار موجودگی جاہلوں کے لئے پیٹ کے درد کا باعث بنی اور شدید ٹہس پہنچنے سے ان کے اندر غیرت اور مسلمانی دونوں سر اٹھانے لگیں۔ سوشل میڈیا پر بدتمیزی کا طوفان برپا کیا ہے۔ گالم گلوچ اور طعنوں کے ساتھ ساتھ ان طالبات اور انکے سرپرستوں کو غیرت اور مسلمانی کا جنازہ نکالنے والے قرار دیے گئے ہیں۔ یعنی ان کی غیرت اور مسلمانی کے مطابق ایک عورت کو چادر اور چاردیواری کے قیدی سے زیادہ حیثیت دینا بہت بڑی بےغیرتی اور کفر ہے۔ اس فرسودہ نظام میں لوگوں کے ذہنوں میں ایسے غلیظ اور پسماندہ خیالات سرایت کر گئے ہیں کہ اب اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کو یا کوئی بھائی اپنی بہن کو اپنا حق دلواتا ہے وہ شخص بے غیرت اور ضعیف الایمان ٹہرایا جاتا ہے۔ ایسے خیالات رکھنے والوں سے شاید کوئی بے غیرت ہی نہ ہو۔ حالات اتنے گُھٹن ہیں اور لوگ انتہاء تک فرسٹریشن کے شکار ہیں کہ ان کو کسی کے رقص میں بھی عریانی اور فحاشی نظر آتی ہیں۔ مذہبی جنونیت انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر معصوم طالبات کا تذلیل کیا جاتا ہے۔ ان کے والدین کو طعنے دیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف سماج کے اندر جبری طور پر عورتوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں۔ انکی حق تلفیاں ہوتی رہتی ہیں۔ عورتوں کے ساتھ ریپ جیسا بے شرم عمل کیا جاتا ہے۔ چھوٹی بچیوں کی ریپ زدہ لاشیں ملتی رہتی ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کے چہروں پر تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ ان کو تعلیم اور علاج سے محروم رکھا جاتا ہے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے غذائی قلت کے شکار ہیں۔ شہروں، بازاروں، لوکل ٹرانسپورٹ میں مسلسل طور پر عورتوں کو بے آبرو کیا جاتا ہے۔ مگر مجال ہے کہ یہ غیرت مند مسلمان ان زیادتیوں کا ایک لمحہ کیلئے بھی مزمت تک کریں۔ اس قسم کے موقعوں پر نہ ان کی غیرت جاگتی ہے نہ ان کی مسلمانی کو کوئی ٹھیس پہنچتی ہے مگر جب آزادی، تعلیم، حق اور ترقی کا موقع آتا ہے پھر رجعتی لوگ غیرت مند بھی بن جاتے اور مسلمان بھی ساتھ ہی لعنتوں، گالیوں، طعنوں اور نصیحتوں کی بھر مار شروع کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ کہ دوغلاپن کے حامل لوگ بڑے بے غیرت اور ضعیف الایمان ہیں جو سچ کی آواز تو بلند نہیں کرسکتے مگر کیچڑ اچھالنے، حوصلہ شکنی کرنے اور گالم گلوچ میں کسر نہیں چھوڑتے۔ لعنت ایسے رجعتی، مذہبی، قبائلی اور منافق لوگوں پر جو کسی مظلوم کا ساتھ نہیں دے سکتے اور بزدلی میں سب سے آگے پیش ہوتے ہیں۔

اب وقت اور حالات بدل گئے ہیں اب ان طالبات کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ ایسی غلیظ باتوں کی پرواہ کرنےسے بہتر ہے کہ اپنے سلب کئے گئے حقوق تک رسائی حاصل کریں اور اپنی منزل مقصود تک جا پہنچیں۔

سرخ سلام تقریب میں شرکت کرنے والی طالبات کو بالعموم اور پرفارم کرنے والی طالبات کو بالخصوص جو اس رجعتی ماحول میں بڑی بہادری کا مظاہرہ دکھا کر پورے اعتماد کے ساتھ سر خرو ہوئیں۔ اب آئندہ مزید تیاری، نئے جذبوں، ہمت اور حوصلے کے ساتھ انٹری کرنی ہے کیونکہ اس قبائلی اور مذہبی غلامی کی زنجیریں ایسی بہادر، پُر اعتماد اور حوصلہ مند طالبات ہی توڑ سکتی ہیں اور ان رجعتی جاہلوں کو یوں کہہ کر کہ "اے لوگو! تیرا کیا میں جانوں میرا خدا جانے” آگے اپنی منزل کی طرف ڈیرے ڈالنے کی جستجو قائم رکھنا ہوگی۔ بالآخر ان خوف زدہ قوتوں کو شکست دے کر جیت ہماری ہی ہوگی۔

امان اللہ کاکڑ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس (زراعت) کے طالب علم ہیں۔ قلعہ سیف اللہ سے تعلق ہے۔ طبقاتی جدوجہد کے کارکن اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔