خبریں/تبصرے

طالبان کیخلاف پورا افغانستان غیر اعلانیہ ہڑتال پر ہے

یاسمین افغان

15 اگست 2021ء کو طالبان کابل میں داخل ہوئے اور صرف ایک دن پہلے پوری ریاست اس خوف کے باوجود معمول کے مطابق کام کر رہی تھی کہ طالبان کسی بھی لمحے کابل میں داخل ہو جائیں گے۔ طلبہ اسکولوں، یونیورسٹیوں میں جا چکے تھے، سرکاری ملازم دفاتر میں تھے، پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، ٹریفک پولیس، بینک اور اقوام متحدہ کے دفاتر کابل کے قریب طالبان کے انتشار کے باوجود کام کر رہے تھے۔

دنیا نے دیکھا کہ اس کے بعد کیا ہوا، دنیا کے ہر نیوز چینل نے یہ بریکنگ نیوز دی: ”طالبان کابل میں داخل ہو گئے، صدارتی محل میں طالبان، پولیس ہیڈ کوارٹر وغیرہ میں بھی طالبان۔“

اگلے دنوں میں کابل کے رہائشی خوف اور غیر یقینی صورتحال سے گھروں میں رہے لیکن پھر عورتیں اور مرد سڑکوں پر آئے اور اپنے حقوق کا مطالبہ کیا۔ ہاں مگر معمولات زندگی بحال نہیں ہو سکے۔ حیران کن طور پر طالبان کی جانب سے سابق سرکاری ملازمین سے بار بار ملازمتوں پر واپسی آنے درخواست کرنے کے باوجود ان میں سے اکثریت گھروں میں ہی رہی۔

ایسا لگتا تھا جیسے کابل اور پورا ملک عام ہڑتال پر ہے اور دنیا نے ابھی تک اس پر غور نہیں کیا کہ پورا ملک غیر اعلانیہ عام ہڑتال پر ہے۔

سرکاری دفاتر پر زیادہ تر طالبان کا قبضہ ہے جو اسے چلانا نہیں جانتے اور یہاں تک کہ کمپیوٹر چلانے کے لیے سابق ملازمین کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن طالبان حکومت کے بار بار بلانے کے باوجود سابق سرکاری ملازمین بڑی حد تک گھروں میں ہی رہے ہیں۔

رابعہ بلخی ہسپتال سے منسلک ڈاکٹر وجیہا (فرضی نام) نے ایک گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ’’اگرچہ طالبان نے ہمیں بار بار کام پر واپس بلایا اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے لوگوں کو ہماری ضرورت ہے لیکن پھر بھی بہت سی خواتین ڈاکٹر اپنی ملازمتوں پر واپس نہیں آئیں، حقیقت میں یہ طالبان کے قبضے کی مخالفت کر رہی ہیں۔“

انہوں نے مزید کہاکہ ”کون ایک ظالمانہ حکومت کے تحت کام کرنا چاہتا ہے جس کا واحد مقصد افغانوں کی تذلیل اور دہشت پھیلانا ہے۔ میرے جیسے کچھ لوگ اب بھی کام کرنا چاہتے ہیں لیکن میں نہیں جانتی کہ کب تک ایسا ہو گا۔ میں دوسروں کی بھی اس حکومت کیلئے کام نہ کرنے کی حمایت کرتی ہوں۔“

کچھ ملازمین اپنی ملازمتوں پر واپس آ گئے ہیں، جیسے کچھ اساتذہ، ڈاکٹر، سابق ملازمین لیکن بڑی تعداد میں ملازمین اپنے دفاتر میں واپس نہیں آئے۔

کابل کے مکروریان علاقے کے ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ ”میں کابل کے ایک نجی اسکول میں ٹیچرہوں۔ جب طالبان نے اعلان کیا کہ پرائمری طلبہ اپنی کلاسوں میں واپس آ سکتے ہیں، حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ صرف اساتذہ کی اکثریت اپنی ملازمتوں پر واپس نہیں آئی بلکہ طلبہ کی اکثریت اب بھی گھروں میں رہ رہی ہے۔ ہر کلاس میں 4 یا 6 طلبہ ہوتے ہیں جبکہ ہمارے پاس عام طور پر 25 سے 27 طلبہ ہوتے ہیں۔“

ان کے شوہرنے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ ”میں ان سرکاری وزارتوں میں سے ایک کے لیے کام کرتا ہوں جن کے ملازمین کو واپس آنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن اکثریت میری طرح اپنی نوکریوں پر نہیں آ رہی۔ کون چاہتا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ذلیل ہو یا کسی ناخواندہ ملا کی سربراہی میں کام کرے؟“

انہوں نے مزید کہاکہ ”یہ آسان نہیں ہے، کیونکہ ہمیں مالی مسائل بھی ہیں لیکن ہمیں ان وحشیوں کو خاموشی سے ہی نہ کہنے کی ضرورت ہے۔ وہ ہمارے بغیر کچھ نہیں کر سکتے اور ہم بھی ان کے حکم کے تحت کام نہیں کر سکتے اس لیے ہم دور رہتے ہیں۔“

دریں اثنا کابل یونیورسٹی نے طالبان کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کی طرف اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں اور اپنے ملاؤں کو تعلیم یافتہ پروفیسرز سے تبدیل کریں اور خواتین طالب علموں کو بھی واپس آنے دیں اور اس طرح یونیورسٹی کے 70 پروفیسرز مستعفی ہو گئے اور مرد طلبہ کی اکثریت بھی گھروں میں رہ رہی ہے۔

’یاسمین افغان‘ صحافی ہیں۔ وہ ماضی میں مختلف افغان نیوز چینلوں کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کر چکی ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ان کا قلمی نام استعمال کیا جا رہا ہے۔