خبریں/تبصرے

’عمران خان آرمی چیف کو جلد گھر بھیج کر جنرل فیض کو چیف بنانا چاہتے تھے‘

لاہور (جدوجہد رپورٹ) وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ڈی جی آئی ایس آئی کا تبادلہ رکوانے کی کوششوں کے پس پردہ وجوہات سے متعلق صحافی اسد علی طور نے نئے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔

اپنے وی لاگ میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلی ٹرم کیلئے فوجی اشرافیہ کی جانب سے حمایت کا سلسلہ ترک کئے جانے کی اطلاع کے بعد وزیراعظم عمران خان آرمی چیف کو جلد گھر بھیج کر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔

اسد طور کا کہنا تھا کہ ماہ ستمبر کے اوائل میں وزیراعظم آفس میں وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مابین ملاقات ہوئی، مذکورہ ملاقات میں ہی جنرل باجوہ نے عمران خان کو یہ بتایا کہ اب فوج کا ادارہ نیوٹرل ہو گا، حکومت اور اپوزیشن کو اگلے دو سال کے دوران لیول پلینگ فیلڈ فراہم کی جائیگی، الیکشن میں جو بھی جیتے گاوہی حکومت بنائے گا، فوج کسی کے جیتنے اور ہارنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔

انہوں نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذکورہ ملاقات کے بعد عمران خان سخت غصے کی کیفیت میں بڑبڑاتے سنائی دیئے، اس کے علاوہ انہیں انٹیلی جنس معلومات بھی فراہم کی گئی تھیں کہ مسلم لیگ ن کیلئے راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔

مذکورہ ملاقات کے بعد عمران خان نے لاہور کے گورنر ہاؤس میں اپنے قریبی لوگوں سے ملاقات کی اور جنرل باجوہ کو نیوٹرل کرنے کے حوالیس ے حکمت عملی بنائی گئی۔ اس ملاقات میں شاہ محمود قریشی بھی شامل تھے۔

اسد طور کے مطابق اس ملاقات میں طے کیا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئندہ سال مارچ تک ڈی جی آئی ایس آئی رہ سکتے ہیں، تب آرمی چیف کو قبل ازوقت ریٹائر کر کے گھر بھیج دینگے اور نئے آرمی چیف کے طور پر جنرل فیض حمید کی تقرری کر دی جائیگی۔ بعد ازاں وزیراعظم نے فیض حمید کو بھی آئندہ آرمی چیف کے لئے گرین سگنل دیکر تیار رہنے کا کہہ دیا تھا۔

تاہم یہ خبر آرمی چیف اور کور کمانڈرز تک بھی پہنچ گئی، جس کے بعد کور کمانڈرز کانفرنس میں متفقہ طو ر پر تبادلہ جات کے حوالے سے اعلانات کئے گئے اور وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ وہ نوٹیفکیشن جاری کریں، نوٹیفکیشن جارینہ ہونے کی صورت آئی ایس پی آر کی جانب سے خبر دی گئی۔

ادھر معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ گل بخاری نے ایک بھارتی جریدے میں لکھے گئے مضمون میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سعد رضوی کو حکومت کی جانب سے مقدمہ سے دستبردار ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر رہا کیا گیا ہے۔