دنیا

کولن پاول: طاقتور جنرل جس نے امریکی استعماریت کے ہاتھ مضبوط کئے

قیصر عباس

امریکی جنرل کو لن پاول (General Colin Powell) جنہوں نے مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں فوجی حملوں کے ذریعے استعماریت کے ہاتھ مضبوط کئے، گزشتہ دنوں کوویڈ کے ہاتھوں 84 برس کی عمر میں زندگی کی جنگ ہار گئے۔ ذاتی طور پر انہیں صاف گو، مدبر اور ملنسار فوجی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں ایک ایسی متنازعہ فوجی شخصیت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جنہوں نے ہمیشہ عالمی جنگوں میں اہم فیصلے کرتے وقت انہیں جائز قرار دیا لیکن بعدمیں انہی کو غلط کہہ کراپنی قابلیت اور فیصلہ سازی کو مشکوک بھی بنایا۔

انہوں نے نیو یار ک کے ایک سیاہ فام، غریب خاندان میں جنم لیا۔ ان کے والد جمیکا کے تارک وطن مزدور تھے اوریہ وہ دور تھا جب اقلیتوں، خصوصاً افریقی النسل باشندوں کا داخلہ دکانوں اور شراب خانوں میں ممنوع تھا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے کالج کی تعلیم مکمل کی اور فوج میں کمیشن حاصل کیا۔

وہ امریکی فوج کے اہم عہدوں کی بلندی کو چھو کر ملک کے پہلے افریقی النسل صدارتی مشیر اور وزیر خارجہ کے عہدوں تک بھی پہنچے۔ جنرل کولن پاول نہ صرف امریکی فوج کی اہم پالیسیوں کے خالق رہے بلکہ انہوں نے سیاسی اور بین الاقوامی حلقوں میں نمایاں حیثیت حاصل کرنے کے علاوہ ملک میں عوامی سطح پر مقبولیت بھی حاصل کی۔

انہوں نے ویت نام جنگ میں بھر پور حصہ لیا اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جان بچانے پر فوجی اعزازات بھی حاصل کئے۔ جنگ کے دوران امریکی فوج کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کی تحقیق پر مامور ہوئے اور اپنی رپورٹ میں اس واقعے پر ایک متنازعہ موقف اختیار کیا۔ اس حملے میں امریکی فوجیوں نے نہتے ویت نامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاک کیا تھا۔ جنرل کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے باوجود امریکی افواج اور ویت نامی شہریوں کے درمیان اچھے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔

وہ عراق میں دو اہم امریکی فوجی مہمات کا بھی اہم حصہ رہے۔ 1991ء میں عراق پر پہلے حملے میں صدر جارج ہربرٹ واکر بش نے کویت پر عراقی قبضے کے بعد اتحادیوں کے ساتھ مل کر اسے صدام حسین سے نجات دلائی۔ کولن پاول نے ایک اعلیٰ فوجی افسر کے طور پر اس جنگ میں عسکری حکمت عملی کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔

بش سینئر کے بیٹے جارج ڈبلیو بش نے صدر بننے کے بعد 2003ء میں اپنے والد کے مشن کو پورا کیا اور عراق پر قبضہ کرکے صدام حسین کی آمریت کا خاتمہ بھی کیا۔ یہ جنرل پاول ہی تھے جنہوں نے امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے عراق پر حملے کی بے بنیاد توجیہات پیش کیں جن کی آڑ میں فوجی حملے کا جواز پیش کیا گیا۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں میں انہوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عراق میں صدام حسین نے خطرناک ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کو چھپا رکھا ہے جنہیں تباہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بعد ازاں انہوں نے خود تسلیم کیا کہ جن دلائل اور ”حقائق“ کو جنگ کی وجہ قرار دیا گیا تھا وہ ملک کی خفیہ ایجنسیوں کی جھوٹی کہانیوں کا حصہ تھے۔

اس کے بعد انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور بش کے دوسرے صدارتی دور میں کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ اس دوران انہیں ان کی رجعت پسند رپبلکن پارٹی نے صدارتی امیدوار بھی بنانے کی کوشش کی لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ وہ رفتہ رفتہ اپنی سیاسی پارٹی کی انتہائی رجعت پسندانہ پالیسیوں دور ہوتے گئے اور مخالف ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکہ کے پہلے افریقی النسل صدر براک وبامہ کی حمائت کی۔ بعد میں ناکام صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور موجودہ صدر بائیڈن کی حمایت بھی جاری رکھی۔

عراق پر حملوں نے، جن میں جنرل پاول کا ہاتھ بھی تھا، مشرق وسطیٰ کی سیاست کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور آج کا مشرق وسطیٰ، اس کی خانہ جنگی اور عام لوگوں کی مشکلات کی ابتدا ان ہی فوجی اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ امریکی مداخلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کے بعد ایران کو خطے کی اہم مملکت کے طور پرابھرنے میں مدد ملی اور اس کا اثر ورسوخ عراق اور خطے کے دوسرے ملکوں تک بڑھ گیا۔ خطے میں امریکہ کی مستقل موجودگی نے باہمی اختلافات اور تشدد کو ہوا دی اور اس کے نتیجے میں ابھرنے والی دہشت گردی آج نہ صرف امریکہ بلکہ خطے کے بیشتر ممالک کے لئے ایک بڑ ا چیلنج ہیں۔

جنرل کولن پاول کی فوجی پالیسیوں کو امریکہ میں احترام سے دیکھا جاتاہے۔ ان کے نزدیک جنگ صرف اس وقت جائز ہے جب اس کے مقاصد واضح ہوں، اسے مالی اور سیاسی ذرائع مہیا کئے جائیں اور فوجی اقدامات کو عوامی اور بین الاقوامی حمائت حاصل ہو۔

لیکن دنیا کے غریب ملکوں کے لئے وہ امریکی سامراج کے عسکری آلہ کار کے طورپر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے فوجی اور سیاسی ا صولوں اور عملی میدان میں ان کے فیصلوں میں ایک واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ اپنے پورے فوجی کیریر میں انہوں نے کئی غلط فیصلے کئے اور بعدمیں اپنی غلطیاں بھی تسلیم کیں۔ یہی تضاد ات ان کی سیاسی اور عسکری زندگی کی میراث ہیں۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔