شاعری

موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن: مخدوم محی الدین

قیصر عباس

حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

یہ شعر آج بھی اکثر لوگوں کو یاد ہے مگر اس کے خالق کا نام شاید کچھ ہی لوگوں کی یادداشت میں زندہ ہو۔ اس شعر کے خالق کا نام مخدوم محی الدین ہے جو بیسویں صدی کے ہندوستان میں ترقی پسند شاعری کی علامت تھے۔ انہوں نے نہ صرف ایک شاعر کی حیثیت سے بلکہ ایک عملی سیاست دان کے روپ میں بھی لوگوں کے مسائل کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔

وہ ترقی پسند سیاست کے نہ صرف کارکن بلکہ اس کی ادبی اور فکری اساس کے بانیوں میں شامل تھے۔ اردو شاعری کے اہم لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے عملی سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کیا اور جمہوری سیاست کا حصہ بن کر مساوات اور سماجی انصاف کی جدوجہد جاری رکھی۔

مخدوم محی الدین (1908-1969ء) کا تعلق حیدر آباد دکن کے ایک غریب اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور پھر ایم اے کیا۔ سٹی کالج میں اردو کی درس و تدریس میں مصروف رہے پھر استعفیٰ دے کر ترقی پسند تحریک کے لئے زندگی وقف کر دی۔ کمیو نسٹ پارٹی کے سیکرٹری رہے اور پھر انجمن ترقی پسند مصنفین کی رہنمائی بھی کی۔ سیاسی تحریکوں کے دوران اسیری کی صوبتیں بھی جھیلیں۔ 1956ء میں کمیونسٹ پارٹی انڈیا کی نمائندگی کرتے ہوئے آندھرا پردیش اسمبلی کی رکنیت حاصل کی اور تادم مرگ اس کے رکن رہے۔

مخدوم نے اپنی غزلوں اور نظموں کی بنیاد پر مقبولیت حاصل کی لیکن قطعات اور رباعی میں بھی مشق سخن جاری رکھی۔ سرخ سویرا، گل تر اور بساط رقص ان کی شاعری کے تین مجموعے ہیں۔ فلموں، ڈراموں اور ا سٹیج کے لئے بھی نغمہ نگاری کی۔ ان کا کلام عام لوگوں کے مسائل، زندگی کی جدوجہد اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کرتا نظر آتا ہے۔

ان کی زیر نظر نظم ”چاند تاروں کا بن“ برصغیر میں جدوجہد آزادی سے شروع ہو کر سامراجی تسلط سے آزادی اور پھر مستقبل کی امید پر ختم ہوتی ہے۔ نظم میں تحریک آزادی میں لوگوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے اور پھر آزادی کے بعد عدم مساوات اور سیاسی رہنماوں کی بداعتدالیوں اور پالیسیوں کا نوحہ سنا کر لوگوں کو بہتر مستقبل کے حصول کے لئے ایک اور جدوجہدکی ترغیب دی گئی ہے۔

موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھی جگمگا تا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی تھی مگر

تشنگی میں بھی سر شار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لئے
منتظر مرد و زن
مستیاں ختم، مدہوشیاں ختم تھیں، ختم تھا بانکپن
رات کے جگمگاتے مہکتے بدن

صبح دم ایک دیوار غم بن گئے
خار زار الم بن گئے
رات کی شہ رگوں کا اچھلتا لہو

جوئے خوں بن گیا
کچھ امامانِ صد مکروفن
ان کی سانسوں میں افعی کی پھنکار تھی
ان کے سینے میں نفرت کا کالا دھواں
ایک کمیں گاہ سے
پھینک کر اپنی نوک زباں
خون نور ِ سحر پی گئے

رات کی لچھٹیں ہیں اندھیرا بھی ہے
صبح کا کچھ اجالا بھی ہے
ہمدمو!
ہاتھ میں ہاتھ دو
سوئے منزل چلو
منزلیں پیار کی
منزلیں دار کی
کوئے دلدار کی منزلیں
دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو

آفتاب احمد آفاقی نے ”جوش بانی: ترقی پسند نظم نمبر“ میں اس نظم کا تجزیہ کرتے ہوئے تحریر کیا تھا: ”مخدوم کی شاعری مجموعی طور پر تین فکری جہتوں سے مرکب کہی جا سکتی ہے جو انقلابی فکر، ان کے جذبہ حب الوطنی اور ان کے رومانی طرز فکر سے عبارت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقسیم اس عہد کے بیشتر ترقی پسند شعرا کے کلام میں نظر آتی ہے۔ مخدوم کے ذہنی و فکری برگ و بار جس دور میں پروان چڑھے، اس دور کے بدلتے ہوئے حالات، سرمایہ داری کی لعنتیں، غلامی، غربت، افلاس، قحط، جنگ آزادی اور اس تمام رد عمل سے ایک حساس اور بیدار ذہن کا محفوظ رہنا مشکل تھا۔ شاعری میں انحراف اور بغاوت کی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ ترقی پسند شعرا کے اثرات نے اس رفتار کو مزید تیزکر دیا تھا۔“

حوالہ

جوش بانی: ترقی پسند نظم نمبر، (مرتبین: اقبال حیدر، علی احمد فاطمی) جولائی 2010ء تا جون 2011 ء، الہ باد۔

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔