دنیا

بھوک سے افغان شہری مریں گے، طالبان کا دسترخوان سجا رہے گا

مونا نصیر

افغانستان میں حکمران بدلنے کے بعد کئی بحثیں شروع ہو گئی ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کے اقتدار کو جائز سمجھا جاسکتا ہے۔ افغانستان میں جو انسانی بحران جنم لے رہا ہے، اس پر بحث ہو رہی ہے۔ عالمی برادری میں طالبان کے اقتدار پر جاری بحث کے دوران بد قسمتی سے عام افغان لوگوں کے لئے زندگی اجیرن ہوتی جا رہی ہے۔

عام افغان شہری کی زندگی بالکل بدل کر رہ گئی ہے۔ ان کی زندگیاں ”مغربی غلامی کی زنجیریں توڑنے“ کا نمونہ تو بالکل نظر نہیں آ رہیں۔ یو این ڈی پی کے ایک تازہ سروے کے مطابق اگر عالمی برادری نے فور ی طور پر افغان شہریوں کی مدد نہ کی تو 97 فیصد آبادی غربت کی سطح سے بھی نیچے چلی جائے گی۔

میں سرحدی علاقے سے تعلق رکھتی ہوں اس لئے افغانستان کے عام لوگوں سے میرا رابطہ رہتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ طالبان سے پہلے بلاشبہ شدید بدعنوانیوں کی شکایتیں بھی عام تھیں،تشدد بھی جاری تھا لیکن بری بھلی ریاست موجود تھی جو اپنے فرائض ادا تو کر رہی تھی چاہے اس میں کتنی ہی غفلت برتی جا رہی تھی۔

جلال آباد سے تعلق رکھنے والی ایک کاروباری شخصیت کے مطابق بے روزگاری میں تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ کابل کے علاقے پل چرخی میں قائم ایک صنعتی پارک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں تین ہزار فیکٹریاں تھیں جہاں دس لاکھ افراد کام کر رہے تھے ان میں انجنئیر اور دفتری عملہ بھی شامل تھا مگر اب وہاں تیس ہزار مزدور رہ گئے ہیں، بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ اس انتظار میں ہیں یا تو یہ حکومت بدل جائے یا امریکہ اور مغربی طاقتیں کوئی راستہ تلاش کریں کہ طالبان کو امداد مل سکے جس کا وعدہ دوحہ معاہدے میں کیا گیا تھا۔

اس موقع پر اہم سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا طالبان بھی دوحہ معاہدے پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوں گے تا کہ عام لوگوں کی مشکلات ختم ہوں؟

گذشتہ انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار نے مجھے بتایا کہ طالبان گذشتہ حکومت کے ساتھ کام کرنے والے اہل کاروں کو کام کرنے کا موقع نہیں دے رہے،حتیٰ کہ تکنیکی سہولتیں فراہم کرنے والا عملہ بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

افغان نیشنل سٹینڈرڈ اتھارٹی (انسا)کے ایک سابق عہدیدار نے طالبان کے طرز عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ گذشتہ حکومت کے تحت ملازمت کرنے والے ہنر مند اور پڑھے افراد کی جانب طالبان کا رویہ قابل مذمت ہے اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ گذشتہ حکومت میں بھی ملازم تھے۔

بعض زبانی اطلاعات کے مطابق مختلف سرکاری شعبوں میں ملازمین کو تین تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ان میں مختلف جامعات کے اساتذہ بھی شامل ہیں۔ ان اساتذہ کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ نجی یونیورسٹیوں میں نہیں پڑھا سکتے۔ ذرا طالبان کی منطق دیکھئے:انساتذہ سے کہا جا رہا ہے کہ طالبان نے جس طرح گذشتہ بیس سال قربانیاں دیں،وہ بھی اسی طرح ریاست کے لئے قربانیاں دیں۔

طالبان کو ایک ملک چلانا ہے، یہ طریقہ کار تو ملک چلانے والا ہر گز نہیں۔نہ ہی اس طرح گذشتہ بدعنوان حکومتوں کے پیدا کردہ مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

عالمی برادری طالبان کے طریقہ کار کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ طالبان دوحہ معاہدے پر عمل نہیں کر رہے بلکہ ریاستی مشینری کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ مخالفین کو نشانہ بنایا جا سکے اور اپنے حامیوں کو نوازا جا سکے۔

جہاں تک آرٹ اور ثقافت کی بات ہے تو نئے اور پرانے طالبان میں قطعاََ کوئی فرق نہیں۔نسیم بخش جو بے مثال افغان گائک استاد رحیم بخش کے بھتیجے ہیں،نے طبلہ بجانا چھوڑ دیا ہے اور کابل کے مشہور و معروف کوچہ خرابات میں ڈھابہ لگا لیا ہے۔

کچھ لوگ تو افغانستان سے معاشی مجبوریوں کے ہاتھوں ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو طالبان پالیسیوں کی وجہ سے اپنی مرضی کی زندگی نہیں گزار سکتے۔ نسیم بخش کا کہنا ہے کہ طالبان یہ بتانے کی بجائے کہ کیا کچھ کرنے کی ممانعت ہے،بہتر ہے یہ بتا دیں کہ کیا کچھ کرنے کی اجازت بھی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ بہتر تو یہی ہو گا طالبان خود لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر جانے میں مدد فراہم کریں۔

بیروزگاری،تنگدستی اور مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔یو این ڈی پی کے عہدیدار کانی ونگراجہ کا کہنا ہے: ”حالیہ برسوں میں ایسی غربت کہیں کسی دوسرے ملک میں دیکھنے کو نہیں ملی“۔

ستم ظریفی دیکھئے کہ مغرب نے دوحہ معاہدے کے ذریعے طالبان کو جائز قوت کے طور پر اقتدار میں آنے کے لئے جواز فراہم کیا مگر اب افغان عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف افغان عام ہی بدترین حالات کا شکار رہیں گے،طالبان ماضی کی طرح اپنے لئے روزی روٹی کا بندوبست کرتے رہیں گے۔

بشکریہ: دی نیوز

مونا نصیر کا تعلق سابقہ فاٹا سے ہے۔ انہوں نے لندن یونیورسٹی سے انسانی حقوق میں ڈگری حاص کی ہے۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل @mo2005 ہے۔