پاکستان

تاریخ بدلنے والا ایک شرمناک معاہدہ

فاروق طارق

ایک معاہدہ ابھی تحریک انصاف نے تحریک ِلبیک پاکستان (ٹی ایل پی) سے کیا جس کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ ایک معاہدہ مسلم لیگ حکومت نے نومبر 2017ء میں کیا تھا اسی تحریک لبیک سے۔ اس وقت جو راقم نے لکھا وہ تقریباً آج کے معاہدے سے مماثلت رکھتا ہے۔ اُس معاہدے نے تحریک لبیک کو 2018ء کے انتخابات میں تیسری بڑی قوت بنا دیا۔ اب دیکھتے ہیں تحریک لبیک سے تحریک انصاف کا معاہدہ کیا انہیں تحریک انصاف کی جگہ دوسری بڑی سیاسی قوت بنائے گا یا نہیں؟ ذیل میں پیش ہے وہ مضمون جو راقم نے 2017ء میں لکھا تھا۔

مسلم لیگی حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان 27 نومبر 2017ء کو ہونے والا شرمناک معاہدہ پاکستان کی تاریخ بدلنے والا کہلایا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں دور رس منفی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ معاشرہ مزید رائیٹ ونگ سمت رخ اختیار کرے گا اور مذہبی جنونیت کے پھیلاؤ کی نئی اطراف سامنے آئیں گی۔ فوجی اداروں کی سویلین معاملات میں مداخلت مزید کھل کر سامنے آئے گی۔

یہ ایک بدترین معاہدہ ہے جس میں مسلم لیگ نے اپنی باگیں کسی اور کے ہاتھوں تھما دی ہیں۔ اب اس کو کون کون اور ہانکے گا یہ وقت اور حالات بتائیں گے۔ مسلم لیگی حکومت کو اس دھرنے نے جتنا نقصان پہنچایا ہے شائد اتنا عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں نے بھی نہ پہنچایا ہو، وہ ناکام دھرنے تھے، یہ ایک کامیاب دھرنا تھا۔ کامیابی کی اپنی ہی بات ہوتی ہے۔ ایک کامیابی کئی اور کا راستہ کھول دیتی ہیں۔

دھرنے کا آغاز اس وقت میں ہوا جب مسلم لیگی حکومت پہلے ہی بحرانوں کا شکار تھی۔ اپنے لیڈر سے ہاتھ دھونے کے صدمے سے یہ ابھی باہر نہ آئی تھی کہ ایک اور کا سامنا کرنا پڑ گیا، اس دھرنے کو آغاز سے ہی سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ اسے تحریک لبیک کے ووٹوں کی طرح ٹریٹ کیا گیا کہ یہ آٹھ دس ہزار ووٹ لینے والی پارٹی اور گروپ ہے اسے ٹھیک کر لیں گے۔ مگر اس گروہ کی سماجی طاقت بڑھتے ہوئے مذہبی جنون میں پوشیدہ تھی جس کا اندازہ نہ لگایا جا سکا۔

دھرنا اس وقت سامنے آیا جب ریاست کے ادارے آپس میں الجھے ہوئے تھے۔ کوئی یگانگت نہ تھی۔ سرمایہ داری نظام کے بحران کی شدت کا اندازہ انکی ریاست کے اداروں کے ایک دوسرے سے تعلقات سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ادارے نے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا، دوسرا پاور فل ادارہ اس فیصلے کی کھلی یا بعض اوقات پوشیدہ طور پر حمائیت کر رہا تھا۔ ادارے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے سیاسی پتوں کو کھلا رہے تھے اور خوب چالیں چلی جا رہی تھیں۔

تحریک لبیک کو بھی انہی اداروں میں کسی کی پوری اور کسی کی ادھوری حمائیت حاصل تھی۔ مذہبی لبادے نے اسے خوب اوڑھ رکھا تھا۔ مذہبی استعمال کی ایک نئی جدت سامنے آ رہی تھی۔ صوفی ازم کے پرچاری اور درباروں مزاروں والے اب امن کے گیت چھوڑ کر وہ زبان استعمال کر رہے تھے جو اس کی نیچر میں ہی نہ تھی۔ ”پین دی سری“ کا استعمال کثرت سے جاری تھا۔ یہ ملیٹینسی کا ایک نیا پہلو تھا۔

دھرنے کو ابتدائی طور پر میڈیا کی نظروں سے دور رکھنے کی خاص ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ ”تھک ہار کر یہ چلے جائیں گے“ کی سوچ حاوی تھی۔ مسلم لیگی رہنماوں کے دماغوں پر ”میڈیا نہ دکھائے گا تو انہیں کون پوچھے گا“ والی سوچ حاوی تھی۔ میڈیا پولٹیکس والے، عوام سے کٹے یہ رہنما میڈیا غلامی کے طوق میں اتنے جکڑے گئے تھے کہ انہیں راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کی مشکلات نظر ہی نہ آتی تھیں۔ منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا مگر مسلم لیگی یہ سوچ رہے تھے کہ اس کا نقصان دھرنے والوں کو ہو گا۔ لوگ خود انہیں گالیاں نکالیں گے، ان کو بے نقاب ایسے ہی کیا جائے۔

مگر عوام درست طور پر سوچ رہے تھے کہ دھرنے کو اٹھانے کی ذمہ داری حکومت اور ریاست کی ہے۔ ان کو تکلیف سے نکالنا حکومت کا کام ہے۔ مگر حکومت غائب تھی وہ ”دیکھو اور انتظار کرو“ کی پالیسی پر گامزن تھی۔ مگر عوام میں یہ پالیسی دکھوں اور تکلیفوں کا باعث بن رہی تھی۔

جب حکومت حرکت میں آئی تو پھر بھی عدالت کو اسکا مورد الزام ٹھہرا رہی تھی۔ ”ہم تو ابھی بھی کچھ نہ کرنا چاہتے تھے، یہ تو انتظامیہ کا فیصلہ تھا میں تو اس کے ذاتی طور پر خلاف تھا“ اس سے زیادہ ”خصی“ وزیر داخلہ شائد آج تک پاکستان کی تاریخ میں نظر نہیں آتا۔

پولیس ایکشن ابتدائی طور پر کامیاب نظر آتا تھا اور وہ بھی کسی بڑے جانی نقصان کے بغیر، مگر دھرنے کے قریب پہنچ کر پسپائی کس طرح ہوئی اور کس کے احکامات پر ہوئی؟ یہ گتھی ابھی سلجھنے والی باقی ہے۔

ایک ریاستی ادارہ اگر پوری تیاری کے بعد بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو تو اس کے الٹ نتائج نکلنے لازمی ہیں۔ آپ جنگ شروع کریں اور کامیاب نہ ہوں تو اقتدار تو خطرے میں پڑتا ہی پڑتا ہے۔ 65ء کی جنگ کے بعد ایوب آمریت کی چھٹی ہوئی، 71ء کی جنگ کے بعد یحییٰ آمریت فارغ ہوئی۔ کارگل کے بعد نواز شریف کو مشرف آمریت نے جیل بھیج دیا۔

عمران اور طاہر القادری دھرنوں کے دوران انگلی کھڑی ہی نہ ہوئی۔ اس بار تو انگلی کئی دفعہ کھڑی ہوئی، کبھی کھلے بندوں اور کبھی اشاروں کناروں میں۔ حکومت ان کو بلاتی تھی، یہ نقص نکالتے تھے احکامات میں، کبھی عدالتی حکم کے پیچھے چھپتے تھے اور کبھی ماضی کی روایات کے پردے میں۔ ”ہمارا کام ہجوم منتشر کرنا نہیں، گولی چلانے کا حکم عدالت نے نہیں دیا“ یہ کام تو انہوں نے ماضی میں بار بار کئے تھے مگر اب کرنا نہ تھا۔ پولیس کو بھی کنٹرول کیا ہوا تھا۔ جب پولیس، فوج اور عدالت آپ کے ساتھ نہ ہو تو پھر ایسا ہی شرمناک معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔

یہ ایک شرمناک معاہدہ ہے، ایک ٹوٹل سرنڈر ہے۔ آپ گاڑیاں جلائیں، میٹرو سٹیشن جلائیں، راستے بند کریں، گالیاں نکالیں، اشتعال انگیز تقریریں کریں، پولیس پر آنسو گیس کے گولے چلائیں، مگر اس معاہدے کے تحت ریاست اپنے کئے کو تو بھرے گی مگر آپ کو سات ہزار گناہ معاف ہیں۔

اور تو اور میجر جنرل رینجرز آپ کو پبلک میں اتنے کامیاب ایکشن کے بعد پیسے بھی بانٹتا نظر آئے گا۔ ”یہ آپ کے آنے جانے کا خرچہ ہے ہم کیا آپ کے کچھ نہیں لگتے“ اپنوں پر گولیاں نہ چلانے والوں کا دعویٰ کرنیوالوں نے پاکستانی تاریخ میں در جنوں مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس دھرنے نے ریاست کی جانب سے تمام شہریوں سے برابری کے سلوک کے دعویٰ کی دھجیاں بھی بکھیر دی ہیں۔ بابا جان نے عطا آباد جھیل کے متاثرین کی جدوجہد کی اور جلوسوں کی قیادت کی، دھرنے نہیں دئیے، وہ گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ہاتھوں عمر قید بھگت رہا ہے، سپریم کورٹ نے بعد ازاں ہائی کورٹ کی جانب سے اسے بری کرنے کے فیصلے کو ختم کر کے اس کی عمر قید سزا بحال کر دی۔

اوکاڑہ میں جلسے جلوسوں اور پرامن ریلیوں کے علاوہ تو انجمن مزارعین کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار اور دیگر رہنماؤں نور نبی، ندیم اشرف اور ملک سلیم جکھڑ کا کوئی اور قصور نہیں ہے وہ سب جیلوں میں درجنوں مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں بھگت رہے ہیں، ان کا حقیقی قصور تو ملٹری فارمز کی زمینوں کی ملکیت کا مطالبہ کرنا ہے جسے وہ سو سال سے زیادہ کاشت کر رہے ہیں۔

اگر اوکاڑہ کے مزارعوں، بلوچ سیاسی کارکنوں، سندھی قوم پرستوں یا مزدوروں کسانوں کی دیگر پرتوں نے ایسا کوئی دھرنا دیا ہوتا تو ان پر کئی بار گولی چل چکی ہوتی اور کئی درجن مقدمات درج ہو جاتے۔ ظاہر ہے محنت کش عوام تو اپنے نہیں ہیں۔

ریاست کا اپنے تمام شہریوں کی جانب متعصبانہ رویہ اس دھرنے نے سورج کی روشنی کی طرح بے بقاب کیا ہے۔

معاہدے نے مذہبی جنون کو پھیلنے کا ایک نیا سنہری موقع عطا کیا ہے۔ ریاست مزید مذہبی ہو گی۔ آئین میں مزید مذہبی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ پاکستان ایک نیا افغانستان بن رہا ہے۔ ابھی مسلم لیگی حکومت ٹارگٹ پر ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اب جو تھوڑی بہت لبرل ازم باقی ہے وہ بھی کنزروی ٹزم میں تبدیل ہونے کی جانب جا سکتی ہے۔ ترقی پسندی تو دور کی بات اب نظر آتی ہے۔ بدلہ ہے سوچ کو اس دھرنے نے۔ وہ بھی مزید رائٹ ونگ کی جانب۔مذہبی جنونیت کی یہ نئی شکل ایک اور طرز کی فاشسٹ سوچ بن کر ابھر رہی ہے۔ یہ ایک نئی فاشزم کا ظہور ہو رہا ہے۔ جو مذہبی جنونیت کی سابقہ شکلوں کا ہی ایک نیا تسلسل ہے۔ یہ براہ راست جسمانی حملوں کے ساتھ ساتھ ذہنی حملوں سے کام لے رہی ہے۔ یہ سوچ کو عوامی سطح پر فاشسٹ سوچ کے قریب لے جانے کے راستے پر گامزن ہے۔

تاریخ میں بڑے واقعات اور جنگیں عوامی سطح پر سوچ کو تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ہی واقعہ ہوا ہے۔ ایک ایسا گروہ جو کل تک نہ تھا آج پورے پاکستان میں ہے۔ وقت بدلتے وقت نہیں لگتا۔ مگر وقت مزدور طبقات کے جانب اور حمائیت میں نہیں بدلہ بلک دوسری جانب ٹرن لے گیا ہے۔ اس کا اظہار اب زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آئے گا۔

بات اب مسلم لیگی ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ کب، کیسے اور کس طرح یہ رخصت ہوں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

ضرورت ہے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی، اب صرف لیفٹ یونٹی ہی نہیں بلکہ مزید دھاروں کو جن میں ترقی پسندی کی کوئی بھی شکل ہو کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ایک نئے براڈ بیس ترقی پسند الاینس کا متقاضی ہے۔ چیلنجز بڑھتے جا رہے ہیں ہماری جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ اس کو آیڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔