خبریں/تبصرے

عاصمہ جہانگیر کانفرنس: ان تمام کی شرکت جنہیں مین سٹریم میڈیا نظر انداز کرتا ہے (پہلی قسط)

فاروق طارق

گذشتہ ہفتے اور اتوار کو ہونیوالی لاہور میں ہونے والی یہ تیسری عاصمہ جہانگیر میموریل کانفرنس تھی۔ تینوں دفعہ یہ اجتماع لاہو ر کے مشہور ایواری ہوٹل میں ہوا۔ اس ہوٹل کے چاروں ہال اس کانفرنس کے لئے ریزرو تھے مگر مرکزی اجتماع اس کے لان میں لگی مارکی میں منعقد ہوتا ہے۔

مرکزی پلینری اجلاس کے علاوہ ایک ہی وقت میں چاروں جگہ ایونٹ کاانعقاد کیا جاتاہے۔ پہلی دفعہ ہر ایونٹ کے لئے زیادہ سے زیادہ 45 منٹس کا وقت رکھا جاتا تھا مگر اس دفعہ ایک گھنٹے سے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت رکھا گیا۔ اس بارپہلا افتتاحی اجلاس جو 20 نومبر کی صبح 11 بجے شروع ہوا، چند منٹس کی تاخیر کے ساتھ، تقریباً ساڑھے تین گھنٹے جاری رہا۔

اس اجلاس میں ہی زیادہ تر سینئر ججوں کو مدعو کیا گیا تھا اوریہی اجلاس تھا جس سے مختلف یورپین سفیروں نے بھی خطاب کیا۔ ہاں البتہ جو خطاب علی احمد کرد نے دلیری کے ساتھ کیا وہ مدتوں یاد رہے گا۔ ان کی تقریر کے دوران پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے نوجوان ساتھی بھرپور نعرے بازی کرتے رہے اور آزادی کے بلند شگاف نعرے لگائے گئے۔

اس کانفرنس کی تنظیمی کمیٹی کے رکن کے طور پر ہمارے لئے اس کانفرنس کو منظم کرنا ایک اعزاز کی بات تھی۔ عاصمہ جہانگیر کی دونوں بیٹیوں سلیمہ جہانگیر اور منیزے جہانگیر اور ان کے ادارے ایجی ایچ ایس کی ڈائریکٹر ندا علی نے دن رات کام کر کے اسے کامیاب بنانے کی جو کوشش کی وہ ہزاروں لاکھوں افراد کے دل و دماغ میں مدتوں یاد رہے گی۔

انکے ساتھ پاکستان سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کے عہدیداروں احسن بھون، عابد ساقی، اعظم نزیر تارڑ، صحافی احمد رشید، اور بعض دیگر افراد نے بھی انتھک کام کیا۔ کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ تو دس ماہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا مگر اس کی تیاری میں پچھلے تین ماہ مسلسل کام ہوا۔

پاکستان میں کسی بھی سماجی اجتماع میں اس قدر مقامی و عالمی سماجی و سیاسی رہنماؤں، سینئر ججوں اور وکیلوں کی تعدادشامل نہیں ہوئی جتنی اس دفعہ کے اجتماع میں شریک ہوئی ہے۔ یہ عاصمہ جہانگیر کو حقیقی خراج تحسین تھا۔ عاصمہ کا بیانیہ انکی وفات کے بعد ختم نہیں ہوا بلکہ پہلے سے زیادہ شدت سے پیش کیا جا رہا ہے۔

وہ تمام سیاسی و سماجی رہنما جنہیں کوئی اور مین سٹریم پلیٹ فارم نہیں ملتا اس کانفرنس میں خصوصی طور پر مدعو کئے گئے تھے۔ ان میں منظور پشتین اور میاں نواز شریف سر فہرست تھے۔ ان دونوں کے نام شائع شدہ پروگرام میں شامل نہ تھے تا کہ حکومت ان سے گھبرا کر اس اہم کانفرنس کے انعقاد میں کوئی رخنہ نہ ڈالے، مگر پھر بھی میاں نواز شریف کی تقریر کے آغاز میں ہی انٹرنیٹ تار کاٹ دئیے گئے۔ پورے علاقہ کو دو گھنٹے انٹرنیٹ سے محروم رکھا گیا۔ ہمیں بھی اس کا کچھ اندازہ تھا۔ اسی لئے متبادل انتظامات بھی کئے گئے تھے۔ متبادل کے طور پر میاں نواز شریف نے ایک سیٹلائیٹ فون کے ذریعے خطاب کیا۔

کانفرنس سے تین روز پہلے ہماری تنظیمی کمیٹی کے اجلاس میں اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، جو اہم وکیل رہنما مدعو نہ تھے انہیں مدعو کیا گیا۔ اس دفعہ حکومت نے اس کانفرنس میں شرکت کے لئے عالمی مندوبین کو ویزا جاری کرنے میں بہت کنجو ی سے کام لیا۔ ویزے دئیے ہی نہ گئے۔ مگر پھر بھی فواد چوہدری ایک سیشن کے مہمان خصوصی تھے۔ کانفرنس میں میاں نواز شریف کے کانفرنس کے دوسرے روز خطاب کے پبلک اعلان کے بعد فواد چوہدری نے آنے سے انکار کر دیا۔

ایک دوسرے کو سننا اور گفتگو و بات چیت اور رواداری کا جو سبق عاصمہ جہانگیر نے ساری عمر دیا، تحریک انصاف نے اس کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ گوبعض سینئر ججوں نے اس روایت کا احترام کیا اور سب کے سب آئے۔ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ علی احمد کرد کچھ بھی کہہ سکتے ہیں (جو انہوں نے کہہ دیا)۔ ان کا جواب چیف جسٹس گلزار احمد نے غصے سے دیا مگر جواب تو دیا بائیکاٹ تونہیں کیا۔

میں اس وقت سٹیج کے قریب تھا، ان کا غصہ دیدنی تھا۔ وہ عدلیہ کی آزادی پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں عدلیہ کاپورا دفاع کر رہے تھے اور پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔

مگر ان کے برعکس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے علی احمد کرد کی تقریر کو اپنے خطاب میں خراج تحسین پیش کیا اور ان کا بار بار شکریہ ادا کیا۔ اطہر من اللہ کے ساتھ مل کر ہم نے بھی عدلیہ بحالی کی تحریک کا پورا ساتھ دیا تھا۔ وہ اس وقت معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ترجمان تھے۔ ہمیں ان کے گھر جانے کا بھی اتفاق ہوااور جلسے جلوسوں میں اکٹھے گفتگو کرنے کا بھی۔ وہ جج ہو کر بھی نہ صرف تنقید برداشت کر رہے تھے بلکہ تنقید کو خوش آمدید بھی کر رہے تھے۔

جس بات کو توقع ہمیں جسٹس قاضی فیض عیسیٰ سے تھی وہ اطہر من اللہ نے پوری کر دی۔ قاضی فیض عیسیٰ نے بڑی معتدل تقریرکی اور مذہبی حوالے بھی دیتے رہے جبکہ وہ 16 صفحات پر مبنی ایک مقالہ لکھ کر لائے تھے جسے کانفرنس میں تقسیم بھی کیاگیا۔

جیسے ہی چیف جسٹس گلزار احمد تقریر کرنے آئے، حقوق خلق موومنٹ کے ساتھیوں نے علی وزیر کو رہا کرو کے زبردست نعرے لگائے۔ منیزے جہانگیر کے ساتھ ہم بھی ان کے پاس پہنچے اور انہیں نعرے بازی سے روکا اور انہیں پیچھے ہٹنے کو کہا۔ خوشی ہے کہ ہمارے ساتھیوں نے ہماری اس بات کو مانا اور خاموشی اختیار کی مگر جو وہ چاہتے تھے وہ حاصل کیا جا چکا تھا۔ شائد چیف جسٹس کے غصے کا باعث بننے والے یہ نعرے بھی تھے مگر انہوں نے نعرے لگانے والوں کا ذکر بھی نہ کیا اور نام لے لے کے علی احمدکرد کے بارے بولتے رہے۔

علی احمد کرد کی تقریر فوری وائرل ہو گئی اور عدلیہ کے ججوں کا روائتی بیانیہ کہ عدلیہ آزاد ہے کا توڑ فوری طور پر مقبول ہو گیا۔ چیف جسٹس ثبوت مانگ رہے تھے اور 21 نومبر کو احمد نورانی نے وہ ثبوت فراہم کر دئیے اب دیکھنا ہے کہ کتنا دم ہے چیف جسٹس گلزار احمدمیں۔ کیا وہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی لیک ہونے والی آڈیو پر کوئی اقدام اٹھائیں گے۔ وقت ہی بتائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عدلیہ کی مزید بدنامی ہو گی۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بھی کانفرنس کی اگلی صفوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو کوئی قابل ذکر پذیرائی نہ ملی۔ نہ انہیں ملنے والوں کا کوئی رش تھا۔ وقفہ کے دوران کانفرنس کے دلہا علی احمد کرد کو سینکڑوں نے گھیرا ہوا تھا۔ (جاری ہے)

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔