خبریں/تبصرے

جبری گمشدگیاں بند کی جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل

لاہور (جدوجہد رپورٹ) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جبری گمشدگیوں کو مکروہ عمل قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مشتبہ عسکریت پسندوں کو بغیر کسی مقدمے کے برستوں تک جبری لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کریں۔

’ڈان‘ کے مطابق زندہ بھوتوں (Living Ghosts) کے عنوان سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں تنظیم نے گمشدہ افراد کے اہل خانہ کو اپنے زیر حراست رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کو بیان کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی زیر قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک سیکڑوں پاکستانی انسانی حقوق کے کارکنان، طلبہ اور صحافی لاپتہ ہو چکے ہیں۔

حراست میں لئے گئے افراد میں ادریس خٹک بھی شامل تھے، جو 2019ء میں ملک کے شمال مغرب میں سفر کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔ انکی گمشدگی کے ہفتوں بعد حکام نے تسلیم کیا کہ وہ غداری کے غیر متعین الزامات کے تحت ان کی حراست میں تھے۔ ادریس خٹک لاپتہ ہونے سے پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کیلئے کام کرتے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگی ایک ظالمانہ عمل ہے جس نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان میں سیکڑوں خاندانوں کو ناقابل تلافی تکلیف دی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیا کے قائمقام محقق ریحاب ماہور کے مطابق اپنے پیاروں کو کھونے اور ان کے ٹھکانے یا حفاظت کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے دکھ اور غم کے ساتھ ساتھ یہ خاندان خرابی صحت اور مالی مسائل سمیت دیگر طویل المدتی اثرات کو بھی برداشت کرتے ہیں۔