تاریخ

تاریخ کو کیسے سمجھا جائے؟

مجیب خان

”انسان غاروں میں رہتا تھا اور جانوروں کا شکار کرتا تھا، پھر اس نے پتھر کے مکان بنائے اور پہیہ ایجاد کیا“، یہ وہ چند الفاظ اور جملے ہیں جونصاب کی کتب میں قدیم انسانی تاریخ کے حوالے سے شامل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کی غار والی زندگی اور پھر جدید دور کی ایک دو تصاویر،جن میں شیشے کی بنی عمارات شامل ہوتی ہیں،اس طرح کے جملوں کے ساتھ شائع کی جاتی ہیں کہ طلبہ کے تاریخی ادراک کو پختہ کیا جا سکے اور یوں ہزاروں سالوں پر مبنی انسانی تاریخ اور ایک لازوال جدوجہد،جس کی ارتقائی شکل ہمارے سامنے موجود ہے، کو انتہائی معمولی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔چھلانگ وں کی صورت انسانی تاریخ کے مختلف ادوار کو بحث کا حصہ بنائے بغیر قدیم سماج سے جدید سماج تک سفر کی تشریح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہم جہاں سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے متروک کردار کو زیر بحث لاتے ہیں،وہیں ہمارا نظامِ تعلیم بھی انتہائی بوسیدہ اور کھوکھلا ہو چکا ہے۔ کتابوں سے لاشعوری طور پر نفرت، سیکھنے کے عمل سے کنارہ کشی اور جستجو کا قتل تعلیمی ادارے بطورِ خاص جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں تاریخ کا درست طور پر سمجھنا انتہائی مشکل ہے، تاریخ جو ایک آئینے کی حیثیت رکھتی ہے،جس سے انسان اپنے ماضی کی کتاب کو سامنے رکھتے ہوئے نہ صرف مستقبل کا تناظر تخلیق کرتا ہے بلکہ موجودہ حالات اور مروجہ نظام، معروضی معمولی و غیر معمولی حالات، معاشرتی رویوں،ان کی پیچیدگیوں اور مسائل کے حوالے سے بھی رائے قائم کرتا ہے۔ تاریخ کو سمجھے بغیر نہ تو موجودہ حالات کی درست تشریح ممکن ہے اور نہ ہی مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان اور اس کے زیر انتظام علاقوں میں جو تاریخی حوالے سے نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس میں تاریخ کا مطلب محض پاکستان کے قیام کی تاریخ ہے (جو حقیقت میں برصغیر کے خونی بٹوارے کی تاریخ ہے)۔ خصوصاً مطالعہ پاکستان،جو جھوٹی معلومات اور دائیں بازو کی رجعت کے سوا کچھ نہیں ہے،جس میں حملہ آور بادشاہوں اور لٹیروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور پھر ان کے مظالم کو ان کی فتوحات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ نہ صرف نصابی کتب بلکہ غیر نصابی کتابوں اور خصوصاً ادب کو سرکاری سرپرستی میں زہر آلود کیا گیا ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں رجعتی لکھاریوں کی انتہا پسندانہ تخلیقات نے معاشرے کی ایسی نفسیاتی پرورش کی جس کا اظہار آج ہمیں انتہا پسندی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کے مادی حالات نے ان رویوں کو پروان چڑھانے میں اپنا لازمی کردار ادا کیا ہے۔ معاشرتی علوم میں چند ممالک کی مختلف معلومات اور جغرافیائی سرحدوں کے متعلق بتایا جاتا ہے اور یہیں سے وہ بنیادی ذہن سازی کی جاتی ہے،جہاں جوان ذہنوں کے اندر انسانیت کو تقسیم کرنے والی سامراجی لکیروں کو زبانی یاد کرنا، اور اس غیر انسانی تقسیم کی سرحدیں اور تاریخیں زبانی یاد رکھنے کو انسان کی قابلیت اور معیار سمجھا جاتا ہے۔

تعلیمی اداروں کے اندر پڑھایا جانے والا یہ بے ترتیب اور بے ہنگم نصاب پھرطبقاتی فرق کیوجہ سے معاشرے کے اجتماعی رویوں میں مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے،جس کی وجہ سے ہمیں بیمار اور الجھن کا شکار ذہنیت پروان چڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ خاص کر نوجوان اس کا شکار ہوتے ہیں۔

یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے تاریخ کو درست طور پر کیسے سمجھا جا سکتا ہے؟ خیال پرستی کے مفروضوں کو جھٹک کر دیکھا جائے تو تاریخ کو سمجھنے کے لیے محض معلومات کافی نہیں ہیں کیونکہ میسر معلومات کا ٹھوس مادی اور سائنسی تجزیہ ضروری ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں کارل مارکس نے وہ بنیادی اور سادہ اوزار دریافت کیا ہے جس کی بنیاد پر مطلوبہ وقت کے سماج کی درست تشریح ممکن ہو سکتی ہے۔ ’تاریخی مادیت‘کی بنیاد پر ہم کسی بھی عہد کے مروجہ نظام، طریق پیداوار اور مادی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے،رائج الوقت سیاسی نظام اور معاشرتی مسائل کو سمجھ سکتے ہیں۔اسی بنیاد پر انسانی تاریخ کا ٹھوس مادی نکتہ نظر ہمارے سامنے استوار ہو سکتا ہے۔ سماج میں پیداوار کا مقصد اور پیداوار کے طریقہ کار کی بنیاد پر معاشی رشتے، سیاسی نظام اور ثفاقتی ڈھانچے تشکیل پاتے ہیں۔انسان اپنی زندگی کی بقا اور ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے مخصوص طرزِ پیدوار تشکیل دیتے ہیں،جس میں مخصوص پیداوری رشتے،معاشی، ریاستی اور سیاسی ڈھانچے تشکیل پاتے ہیں۔ اسی جدوجہد کے تسلسل کے دوران ایک وقت میں جا کر ذرائع پیداوار ترقی کرتے ہیں اور یوں ذرائع پیداوار ایک وقت میں پیداوری رشتوں سے متصادم ہو جاتے ہیں،جس کے نتیجے میں پیداور کے تبادلے کے طریقہ کار میں تبدیلیاں آتی ہیں۔یوں سماج میں موجود کشمکش ایک انقلاب کے نتیجے میں نئے طرز پیدوار اور نئے پیداواری رشتوں کو تشکیل دیتی ہے۔

اس سے پہلے مختلف تاریخی عوامل کی تشریح خیال پرستانہ مفروضوں پر کرنے کی کوشش کی جاتی تھی،جس کی وجہ سے مغالطے جنم لیتے تھے۔مختلف سماجی تبدیلیوں کا مؤجب دیوتاؤں کی فتح یا شکست کو سمجھا جاتا تھا۔اس کے برعکس آج جب ہم مارکسی طریقہ کار سے تاریخ کو سمجھتے ہیں،تو ہمیں ایک واضح اور درست تصور سمجھ میں آتا ہے،جس کو خیال پرستی نے مبہم اور الجھن زدہ کر رکھا تھا۔ اس سلسلے میں مارکسی استاد اور کارل مارکس کے ساتھی فریڈریک اینگلز کی تصنیف ”خاندان ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز“ ایک انتہائی دلچسپ اور تحقیق سے بھرپور تصنیف ہے،جس میں انسانی تاریخ کو تین ادوار وحشی دور، بربریت کا دور اور تہذیب کا دور میں تقسیم کر کے تاریخ کے ایک مارکسی اور حقیقت پسندانہ نکتہء نظر پر بحث کی گئی ہے۔موجودہ سماج میں تاریخ کے طبقاتی کردار کو فراموش کر کے مصنوعی تاریخ کو نوجوانوں کے شعور پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اربوں روپے تاریخی پروپیگنڈہ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا، سوشل میڈیا اور نصاب تک کے ذریعے جھوٹ کو ہر ایک شخص تک پہنچایا جاتا ہے اور اس کو اس پر یقین دلانے کی سعی کی جاتی ہے۔اب یہاں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے یہ تاریخی کھلواڑ کیوں ہو رہا ہے؟

اس کا انتہائی سادہ سا جواب یہ ہے کہ موجودہ نظامِ جبر کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جھوٹ بولا جائے اور جھوٹ پر یقین دلایا جائے۔ جھوٹ پڑھایا جائے اور جھوٹ دکھایا جائے۔ اس جھوٹ کے بغیر سرمائے کے جبر کو فطری بنا کر نہیں پیش کیا جا سکتا۔ حکمران طبقات اکثریتی محنت کش طبقے کے شعور سے ہمہ وقت خوفزدہ رہتے ہیں اور اس کو مفلوج اور رجعتی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ مارکسزم طبقاتی اور سیاسی شعور کا اعلی ترین اظہار ہے اور پوری دنیا کے محنت کش طبقے کی ذلت، محرومی اور مصائب سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی جدو جہد میں مارکسزم ہی واحد سائنسی متبادل ہونے کے طور پر پوری دنیا کے مظلوموں کے لیے ایک ساتھی دوست کی حیثیت رکھتا ہے، اورعالمی بورژوازی کا سخت ترین دشمن ہے۔بورژوازی اپنے اس دشمن کے خلاف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتی ہے اور پرولتاریہ کے شعور کو قید رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

تاریخ کے اجتماعی کردار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ہیروز بنائے جاتے ہیں اور انفرادی کامیابیوں کی داستانیں لکھی اور دکھائی جاتی ہیں۔ درحقیقت انسانی تخلیقات اجتماعی محنت کا نتیجہ ہیں اور خصوصاً انقلابات،جنہوں نے معاشرے کو سینکڑوں سال آگے کی طرف دھکیلا،کو بھی فرد واحد کا کارنامہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ یہ انسانی اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہوتاہے۔ تاریخ کے کردار کو انفرادیت سے منسوب کر کے، مسیحائی کرداروں کو متعارف کروا کے اجتماعیت کی طاقت اور جذبے کو ماند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انفرادیت کو پروان چڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ انفرادی مثالیں قائم کی جائیں تاکہ اجتماعیت کو فروغ نہ ملے، کیونکہ محنت کشوں کا اکٹھ اور اجتماعیت مقتدر حلقوں کے مصنوعی اور خود ساختہ اختلافات اور اخلاقیات کی موت ہے۔یہ تاریخ سے ثابت ہے کہ انقلابی تحریکوں میں جب اجتماعی شعور اور جذبات پروان چڑھتے ہیں تو فروعی قسم کے جھگڑے اور اختلافات انقلابی یلغار کی نظر ہو جاتے ہیں، نفرت محض ظالم کے لیے بچتی ہے، جو اپنے خوفناک انجام سے بچنے کے لیے ان کو پروان چڑھاتا ہے۔

تاریخ کے طبقاتی کردار کو سمجھنا موجودہ وقت میں خصوصاً نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کیونکہ بورژوازی کے زوال کے ساتھ ساتھ مسائل اور مظالم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج کا نوجوان جہالت،بیماری، مایوسی، بیروزگاری، لاچاری اور غربت کا شکار ہے۔ آج کی تاریخ حکمران طبقے کی تاریخ ہے۔ سیاسی افق پر سرمائے کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور غلاظتوں کی بارش انسانیت کا مقدر بنا دی گئی ہے۔ اس تمام ظلم اور استحصال کے خلاف لڑنے کے لیے تاریخ کے طبقاتی کردار کا ادراک نہایت ضروری ہے تاکہ بورژوازی کے پروپیگنڈہ کے خلاف نوجوانوں کی نظریاتی و شعوری تربیت کو مؤثر بنایا جا سکے۔ شعوری سمجھ بوجھ اس نظام کے خلاف لڑنے کے لیے بہترین ہتھیار ہے کیونکہ سرمایہ داری کے متبادل کے طور پر سوشلزم انسانی تاریخ میں ایک شعوری مداخلت ہے۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کے ہماری اجتماعی آزادی اجتماعی لڑائی کی متقاضی ہے اور اس کے لیے نوجوانوں کی شعوری جست لازمی ہے،جو کے تاریخ کو درست طور پر سمجھنے سے ممکن ہے۔

آج ہمیں جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے،وہ حکمرانوں کی تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کو فاتحین نے درباریوں سے لکھوایاہے اور آج ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ دربار کے دلالوں کے ان صحیفوں پر ایمان لایا جائے۔ ان سے تاریخ نے انتقام لیا ہے اور مستقبل میں بھی تاریخ کذابوں سے کڑا امتحان لے گی اور ان کی چمکتی ہوئی تصانیف،جن کو آج باعث فخر سمجھ کر شاہوں سے اعزازات لیے جاتے ہیں، تاریخ کا کچرا دان ان کا مقدر ہے۔اور سرمایہ داری کی موت سے ایک ایسے سماج کا جنم ہوگا،جہاں انسانی تحقیق اور شعور کی راہیں منافع کے زہر سے آلودہ نہیں ہوں گی اور انسانیت حقیقی معنوں میں کائنات کی تسخیر کے عمل کو ممکن بنا سکے گی۔

مجیب خان کا تعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے ہے۔ وہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جامعہ پونچھ کے چیئرمین ہیں۔