پاکستان

کیوں نہ بوسیدہ عمارت کو گرایا جائے؟

مجیب خان

گزشتہ کئی دہائیوں سے نیو لبرل اکانومی کے اطلاق کے بعد تعلیم اور علاج کو بھی کاروبار بنا لیا گیا۔ ایک طرف اگر تعلیم کو منڈی کی جنس بناتے ہوئے مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف ہمیں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت دن بدن خستہ حالی کی طرف گامزن نظر آتی ہے۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں پہلے سے کمزور اور ناکافی انفراسٹرکچر اس وقت تقریباً ناقابل استعمال ہو گیا، جب 17 سال قبل یہاں ایک زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے دیگر عمارتوں سمیت تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کردیا۔ المیہ یہ ہے کہ تقریباً دو دہائیوں کے گزر جانے کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کا انفراسٹرکچر مکمل نہیں کیا جاسکا اور بالخصوص دور دراز علاقوں میں موجود سکولوں کے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر سرکار کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جا سکی۔ الٹا ان اداروں کو مزید تباہ کرتے ہوئے نجکاری کی پالیسی کے تحت کئی پرائمری سکولوں کو خیبرپختونخواہ کی ایک این جی او کے حوالہ کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے۔ کچھ دور دراز علاقوں میں تو سرکاری سکول عملاً ختم ہو چکے اور محض سرکاری کاغذات میں موجود ہیں۔ اسی طرح کا ایک سکول تحصیل ہجیرہ کے گاؤں بیلہ چنیر کا سرکاری مڈل سکول ہے۔ اس سکول کی عمارت انتہائی بوسیدہ ہو جانے کی وجہ سے گزشتہ کئی سال تک یہاں پر موجود سٹاف اور پڑھنے والے طلبہ ہر وقت عمارت کے گر جانے کے خوف میں مبتلا رہتے تھے۔ اس مسئلہ پر توجہ دلانے کے مختلف طریقوں سے محکمہ تعلیم اور اعلیٰ حکام کو مطلع بھی کیا جاتا رہا، مختلف نوعیت کے احتجاجات بھی کئے گئے مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نا رینگی۔ بالآخر علاقہ کے نوجوانوں نے منظم ہوتے ہوئے خود ہی اس عمارت کو گرا کر تعمیر نو کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ عمل ایک طرف اگر محکمہ تعلیم، عہد حاضر کے حکمرانوں اور ان کے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے تو دوسری طرف محنت کش طبقے کے نوجوانوں کے احساس، جذبے اور حوصلے کو بھی عیاں کرتی ہے۔ یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ رضاکارانہ بنیادوں پر ناصرف سکولوں کی عمارات بلکہ اس سماج میں موجود تمام تر بوسیدہ انفراسٹرکچر کا خاتمہ کرتے ہوئے مکمل تعمیر نو اور بحالی کا جذبہ اور صلاحیت اسی سماج کے اندر موجود ہے جسے صرف قوت محرکہ کی ضرورت ہے۔

گورنمنٹ مڈل سکول بیلہ چنیر کی عمارت لمبے عرصے سے حکومت کی مسلسل لاپرواہی کی وجہ سے کھنڈر کا منظر پیش کر رہی تھی۔ اس بوسیدہ عمارت میں طلبہ کا تعلیم حاصل کرنا سیفٹی کا ایک بہت بڑا رسک تھا کیونکہ یہ عمارت کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتی تھی۔ مقامی حکمرانوں کو لاتعداد مرتبہ عمارت کی تعمیر کے حوالہ سے توجہ دلائی گئی اور بارہا احتجاج بھی کیے گئے لیکن ان کی مسلسل ہٹ دھرمی اور نا اہلی کی وجہ سے یہ عمارت مزید بوسیدہ سے بوسیدہ ہوتی گئی۔ انتہائی موسم کی صورت میں طلبا و طالبات کا یہاں پر تعلیم حاصل کرنا نا ممکن ہو گیا تھا اور سکول کی عمارت کے گرنے کے ڈر کی وجہ سے بارشوں کے دوران مسلسل چھٹی کرنی پڑتی تھی۔ اس ڈر اور خوف کے سائے میں تعلیم حاصل کرنا محض ذہنی دبا ؤ کا ذریعہ تھی نا کہ شعور حاصل کرنے کا۔ صورتحال انتہائی بگڑنے کی وجہ سے بیلہ چنیر یوتھ کے نوجوانوں نے حکمرانوں سے انتہائی مایوس ہو کر اس سکول کی تعمیر کا بیڑا خود اٹھایا۔ اس سلسلے میں چند نوجوانوں نے پہلی پیش قدمی کی، جس میں عقیل خان، رقیب (منشو بھائی)، ذیشان اور احتشام نے دیگر نوجوانوں کو متحرک کرتے ہوئے اس کام کا آغاز کیا۔ اور یہ تمام نوجوان مزاحمتی سیاست میں انتہائی متحرک بھی نظر آتے ہیں۔ انتہائی مشقت سے کام کا آغاز کیا گیا اور چند دنوں کے اندر ہی عمارت کو گرا کر نئی عمارت کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کے جذبات قابل ستائش ہیں جبکہ دوسری طرف یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ نوجوان اس سماج کی تشکیل نو کے لئے کس قدر سنجیدہ ہیں جبکہ حکومت سے مسلسل احتجاج کے باوجود مایوس ہونا بھی اہم سوال اٹھاتا ہے اور نام نہاد آزاد کشمیر کی حکومت کے کردار کا تجزیہ ضروری ہے۔

یہاں کا حکمران طبقہ ہمیشہ سے متروک کردار کا حامل رہا ہے۔ مقامی اسمبلی ایک سامراجی ایجنٹ کا کردار ہی ادا کر سکتی ہے اور یہاں کے محنت کشوں کے مسائل حل کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ صحت اور تعلیم کے لیے بجٹ کا انتہائی کم حصہ مختص کیا جاتا ہے اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ بجٹ کا یہ قلیل حصہ بھی بدعنوانی اور نا اہلی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ سرکاری سکولوں کو ریاستی سر پرستی میں تباہ کر کے نجکاری کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں تاکہ پرائیویٹ ایجوکیشن مافیا زیادہ سے زیادہ لوٹ مار کر سکے۔ پہلے سے برباد شدہ معیشت کی وجہ سے محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن بن چکی ہے اور بنیادی ضروریات کا حصول ایک عیاشی بن چکا ہے۔ اس تمام پس منظر میں پہلے سے موجود مہنگی تعلیم کے اوپر مزید کٹوتیاں اور جبر محنت کش طبقے کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی سازش کا ہی اک حصہ نظر آتا ہے۔ مظفر آباد اسمبلی کٹھ پتلی تماشوں کی ایک آماجگاہ بن چکی ہے۔ عوامی تحریکوں کے پیش نظر جمہوری پابندیاں لگائی جا رہی ہیں اور جبر و استحصال کا ہر ایک گھناونا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

بڑے پیمانے پر ریاستی وسائل کی لوٹ مار اور مقامی حکومتوں کی عیاشیاں اس خطے کے محکوم لوگوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں بیلہ چنیر یوتھ کے نوجوانوں کی یہ عظیم کاوش قابل تحسین ہے۔ اگرچہ یہ چیزیں سیاسی دباؤ کو کم کرتی ہیں لیکن اس سکول کے معاملے میں مزید کوتاہی یا تاخیر طلبہ کے جانی نقصان کا باعث بن سکتی تھی اور معصوم طلبہ کی زندگیوں کو ریاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ایک مجرمانہ فعل کے مترادف تھا۔ اور سکول کی تعمیر کا یہ عمل دوسری طرف تعلیم کی نجکاری کے خلاف رکاوٹ ہے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اشتراکی بنیادوں پر سماج کو تشکیل دیا جا سکتا ہے اور نوجوانوں میں اس کی صلاحیت اور جذبہ دونوں موجود ہیں۔ نوجوان اس سماج کے بوسیدہ ڈھانچے کو منافع اور شرح منافع پر مبنی نظام کو اکھاڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکمران طبقے کی طرف سے مسلسل حملے اور لوٹ مار ان نوجوانوں کو اس نظام اور اس کے حواریوں کے خلاف غم و غصے اور نفرت کو مجتمع کرتے ہوئے انقلابی تحریک کی صورت میں اپنے ہر زخم کا بدلہ ان کے بنائے ہوئے غیر انسانی اور غیر فطری نظام کو اکھاڑ کر لیا جائے گا۔ ایک سکول نہیں، ایک ہسپتال نہیں ایک گھر نہیں بلکہ تمام سماج کو یکسر بدلنے کے لیے نوجوانوں کا درست نظریات سے لیس ہو کر مزاحمتی سیاست میں متحرک ہونا ضروری ہے۔ ہم ایک نئے سماج کی بنیاد ضرور رکھیں گے لیکن ایک مزدور انقلاب کے ذریعے، جہاں پر حکمرانوں کو ایوانوں سے بے دخل کر کے وسائل پر اجتماعی جمہوری قبضہ کیا جائے گا۔ اور ہمارے مشترکہ وسائل پر ہمارا قبضہ ہو گا جن کو اس خطے کی لوگوں کی ضروریات کی تکمیل میں استعمال کیا جائے گا نہ کہ کسی ایک فیصد حکمران طبقے کی عیاشیوں کے لیے وسائل کو برباد کیا جائے گا۔

بیلہ چنیر کے نوجوانوں کو ایک مرتبہ پھر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کئے لئے پیغام ہے کہ یہ نظام اور اس کا تمام تر انفراسٹرکچر بالکل بیلہ چنیر مڈل سکول کی عمارت کی طرح بوسیدہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ یہ خود گرے، آگے بڑھو اور پورے سماج کی تشکیل نو میں اپنا کردار ادا کرو۔ کیونکہ:

خود گرے گی تو کئی لوگوں کا مدفن ہو گی
کیوں نہ بوسیدہ عمارت کو گرایا جائے؟

مجیب خان کا تعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے ہے۔ وہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جامعہ پونچھ کے چیئرمین ہیں۔