فن و ثقافت

شاکر ساؤنڈ سسٹم والا

مجیب خان

اندھیرے کی وحشت میں جب ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا مسلسل آوزیں انتہائی بھیانک معلوم ہوتی تھی جیسے کسی پر بے رحمانہ تشددکیا جا رہا ہو۔

”دور لے جاؤ ان کمبخت آوازوں کو، کہیں دور لیجا کر اس شور کو دفنا دو اور مجھے آوازوں کے تشدد سے چھٹکارا دلاؤ“۔ رات کے آخری پہر کانوں میں انگلیاں دئیے وہ معمول کی طرح نیند میں بڑبڑا رہا تھا اور اب اس کی یہ عادت اتنی مسلسل ہو گئی تھی کہ اس کی بوڑھی ماں کی وقتاً فوقتاً کھانسنے کی آواز کی طرح یہ شور بھی اس کی بیوی اور بچوں کو اجنبی نہیں لگتا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو پڑنے والے دوروں کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا اور اب تو اکثر اس کی بیوی کو اسے جگانا پڑتا۔ اس کی بیوی غنودگی کی حالت میں بڑبڑاتی ”شاکر چپ ہو جاؤ، شاکر گڑیا ڈر جائے گی“۔

اپنے خاوند کو سہارا دینے کی سعی کرتی اور کبھی کبھار جب شاکر معمول سے زیادہ بلند آواز میں ڈرتا اور شور مچاتا تو اس کی بیوی راشدہ کو اسے جنجھوڑ کر جگانا پڑتا۔ راشدہ دن بھر کی مشقت اور گھریلو کام کی وجہ سے تھکن سے اتنی چور ہوتی کے شاکر کو جگا کر واپس فوراً ہی نیند کی وادی میں چلی جاتی۔

شیوں میں ”ڈسٹربینس“ کبھی کبھار ہونے والا ایک ناخوشگوار واقع ہوتا ہے جبکہ بارش سے ٹپکتے چھتوں میں یہ ایک مسلسل کیفیت ہے جو اپنے تسلسل کی وجہ سے اجنبی اور اتنی کراہت زدہ محسوس نہیں ہوتی اور نا ہی کچی بستیوں کے رہائشی اس کیفیت کے سرزنشی رویے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

شاکر کی بڑی بیٹی روشنی جو بارہ سال کی تھی اکثر اس شور میں اس کی آنکھ کھل جاتی اور وہ سوچتی کے اس کا ابا نجانے کونسی آوازوں سے ڈرتا ہے؟ آوازیں بھلا کیسے آدمی کو اتنا خوفزدہ اور محبوط الحواس کر سکتی ہیں؟ یہ سب کتنا عجیب ہے کے آوازیں کسی بے رحم جیلر کی مانند کوڑے برساتی ہیں؟

اس کے تاثرات اپنے باپ کے اس عمل کو لیکر غصے اور ہمدردی سے ملے جلے ہوتے اور اکثر جب شاکر کا شور خوفناک حد تک ڈراؤنا ہوتا تو اس کی بیٹی اس کی وجوہات کے بارے میں گمان کرتی اور دادی کے تجزیے کے بارے میں سوچتی۔ دادی اکثر بد روحوں کو قصوروار ٹھہرتی۔ وہ زیادہ تفصیل سے اس کی گہرائی میں جانے کے بجائے واپس خواب میں چلی جاتی جو اکثر ٹوٹ جایا کرتا تھا۔

جب شاکر کا باپ زیر تعمیر فیکٹری میں کام کے دوران چھت گرنے کے باعث اپنے بہت سے ساتھی مزدوروں سمیت سائیں صاحب کی فیکٹری کی بنیاد میں ابدی نیند سو گیا تھا، شاکر گاؤں کے سکول میں چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ باپ کے چلے جانے کے بعد اپنے بہت سے دوستوں کی طرح شاکر کو بھی تعلیم کو خیرآباد کہنا پڑا اور سائیں صاحب نے مرنے والے مزدوروں کے بچوں کو کام پر رکھنے کی منظوری دیدی۔

کچی بستی کے خستہ حال مکینوں پر مایوسی اور غم کا اجتماعی حملہ ہوا تھا جس کے بدلے میں ایک پوری نسل کو قربان ہونا پڑا لیکن مولوی صاحب نے شاکر کے باپ اور دیگر مزدوروں کے جنازے پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرنے والے خوش قسمت ہیں کے ان کو شہادت کی موت نصیب ہوئی۔ شاکر کو کبھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیسی خوش قسمتی ہے جو ان کے بچپن کو نگل گئی اور شاکر کی ماں کو بیوگی اور کسمپرسی کی کھائی میں دھکیل دیا۔ وہ سوچتا کہ ایسی خوشق قسمتی مولوی صاحب اور چند گھرانوں کو چھوڑ کر سب کے نصیب میں ہوتی تھی جس کی قیمت یہ اوائل عمری کی محنت مزدوری کر کے چکاتے۔

باپ کی موت کے چند سال بعد تک شاکر سائیں صاحب کی مختلف فیکٹریوں کی تعمیر میں کام کرتا رہا۔ اس کے بعد وہ سائیں صاحب کے چھوٹے بھائی، جنہیں سب لوگ چھوٹے سرکار کہتے تھے، کی ”ساؤنڈ سسٹم“ کی دوکان پر ملازم ہو گیا۔

شاکر کی ذمہ داری میں مختلف سماجی، سیاسی، ثقافتی اور مذہبی تقریبات میں ساؤنڈ سسٹم لیکر جانا اور پروگرام کے دوران ساؤنڈ سسٹم کے تمام تکنیکی کاموں کی نگرانی ہوتا تھا۔ اب گاؤں والے بھی شاکر کو ”شاکر ساؤنڈ والا“ کہنے لگے تھے۔ اسی دوران شاکر کی بوڑھی ماں کے مسلسل اسرار پر…چونکہ اب وہ گھریلو کام کرنے کے قابل نہیں رہی تھی اور شاکر کی بہن کا بھی بیاہ ہو گیا تھا…شاکر کی شادی راشدہ سے ہو گئی۔ شادی کے بعد راشدہ کے لیے صرف گھر بدلا تھا حالات کی تنگی ویسی ہی تھی جیسی باپ کے گھر میں تھی۔

شاکر کو ساؤنڈ سسٹم کے ساتھ ہر روز مختلف تقریبات میں جانا پڑتا جس میں ساؤنڈ سسٹم اور دوکان کے مالک چھوٹے سرکار کو فیس ادا کرنے کے بعد انتہائی قلیل اجرت ملتی جس میں شاکر مشکل سے اپنی اور خاندان کی زندگیوں کو گھسیٹ سکتا تھا۔ شاکر کو اجرت بھلے کم ملتی تھی لیکن شاکر کو دن بھر اور راتوں میں بھی اکثر بہت ساری آوازیں سننے کو ملتیں تھیں۔ ساؤنڈ سسٹم کے ساتھ بیٹھے ہوئے شاکر ہر طرح کے لوگوں کو سنتا۔ ساؤنڈ سسٹم اور مختلف آوازیں شاکر کی زندگی کا حصہ بن گئی تھیں۔

کبھی یہ نامور سیاست دان ہوتے جو کسی دوسرے سیاستدان کو گالم گلوچ کرتے یا پھر مختلف موقعوں پر ایسے وعدے کیے جاتے جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔ چہرے بدلتے رہتے الفاظ وہی ہوتے کہنے والا مختلف ہوتا۔ گاؤں کے چودھری صاحب کی آواز ہمیشہ ایک جیسی ہوتی جس میں ہر آنے والے لیڈر کی چاپلوسی کرتے۔ اب تویہ سطریں شاکر کو بھی زبانی یاد ہو گئیں تھیں۔ ان آوازوں کے ساتھ لوگوں کی تالیوں کی آواز اور قہقہوں کی آوازیں بھی شامل ہوتیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ آوازیں شاکر کے دل د دماغ پر گہرائی سے اثر انداز ہونا شروع ہو گئی تھیں لیکن شاکر کی بیٹی روشنی اس بات سے انجان تھی کے یہ اس کے باپ کو رات میں ستانے والی آوازیں اس سماج کی طرف سے ساونڈ سسٹم کا تحفہ ہیں۔ اس کی دادی کو بھی نہیں پتا تھا کہ اس کے بیٹے کو پراسرار نفسیاتی تکلیف پہنچانے والی بدروح ”ساؤنڈ سسٹم“ تھا۔

شاکر کو بہت سی آوازیں بہت عجیب معلوم ہوتی تھیں۔ مثال کے طور پر جیسے چمک دمک والے لباس میں ملبوس، مہنگی گاڑیوں سے اتر کر مزدوروں کے حقوق کے متعلق چیخنے والے وڈیروں کی آوازیں۔ ان کی آمد کے وقت ان کے گلے میں ڈالے جانے والے سستے ہار انکے مہنگے لباسوں پر کتنے عجیب دکھتے تھے۔ آوازوں کے علاوہ یہ ہار بھی اسے خوابوں میں نظر آتے تھے۔

اس کو ستانے والی آوازوں میں بڑی سی توند والے مولوی صاحب کی صبر و شکر کی تلقین کی آوازیں بھی شامل ہوتیں۔ شاکر کو مولوی صاحب اور سیاستدانوں کی آوازاں میں ایک مماثلت بھی سنائی دیتی۔ شاکر کی آوازوں کے مجموعے میں ثقافتی دنوں کے اوپر کی جانے والے زور دار تقریروں کی آواز بھی شامل تھیں۔ اپنی رسومات،اقدار اور ثقافت کو ایک دن میں زندہ کرنے والے اگلے ہی دن بالکل مختلف اور الٹ نظر آتے، جیسے خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی ثقافت کا گلا گھونٹا جا رہا ہو۔ اور پھر یہ آوازیں شاکر کو سوچنے پر مجبور کرتیں کے مخصوص لباس کو سال کے ایک دن میں پہننا کیسی ثقافت ہے۔

کبھی کبھار شاکر مزدوروں کے جلسوں میں ساؤنڈ سسٹم لیکر جاتا لیکن یہ کم ہی ہوتا تھاکیونکہ اکثر وہ شاکر جیسے لوگ ہی ہوتے۔ وہ بشکل اس کی فیس ادا کرتے لیکن شاکر کو اس کام میں ایک یہ سکون ہوتاکہ وہ اپنے جیسوں کی آوازئیں سن رہا ہے۔ کہیں نا کہیں یہ آوازیں شاکر کے اپنے جذبات کی ترجمانی بھی کر رہی ہوتیں۔

مزدور رہنما جن مسائل کا ذکر کرتے اکثر شاکر کو لگتا کے یہ اس کی اپنی آواز ہے، اس کے اندر کی آواز۔ فریب کاری ان جلسوں میں نظر نہیں آتی تھی۔ شاکر اپنے کام کی وجہ سے طبقوں کی تقسیم کو بھی پہچاننا شروع ہو گیا تھا۔

رات سوتے ہوئے یہ سب آوازیں شاکر ساؤنڈ والے کے دماغ میں ہر روز دھماکوں کا مؤجب بنتیں۔ آئے روز ہونے والی تقریبات اور ان کی آوازوں کے تضادات شاکر کے لیے مسلسل ذہنی اضطراب کا باعث بن رہے تھے لیکن وہ ان سے کہیں دور بھاگ کر نہیں جا سکتا تھا۔

شاکر سٹیج کے پیچھے بیٹھ کر سارا تماشہ دیکھتا تھا۔ شاکر برسوں سے امیر اور سہولت یافتہ طبقے کی آوازیں سن رہا تھا جو بناوٹ میں بہت خوبصورت اور سچی محسوس ہوتی تھیں۔ شاکر نے محسوس کر لیا تھا کے لوگوں کو سٹیج پر جو دکھایا جاتا ہے حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایک لمبے عرصے تک آوازیں اور مناظر سننے اور دیکھنے کے بعد شاکر نے جان لیا تھا کے ایک بہت بڑا سٹیج ہے جس پر سیاستدان، شرفا، ملا اور وڈیرے ناٹک کر رہے ہیں اور ان کی آوازیں جھوٹ پر مبنی ہیں۔

نیند میں شاکر اب سب کو بتاتا پھرتا تھا:”حقیقت چھپائی جا رہی ہے، یہ تم سے جھوٹ بول رہے ہیں“۔

راشدہ نے محسوس کیاکہ اب شاکر رات کو ڈرتا نہیں ہے بلکہ آوازوں سے اپنے کسی دشمن کو ڈرا رہا ہے۔

ایک رات راشدہ نے دیکھا کہ شاکر نے کانوں میں انگلیاں نہیں دے رکھی تھیں بلکہ راشدہ نے جب اسے جھنجھوڑا تو وہ کہہ رہا تھا ”یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں آگے بڑھو اور ساؤنڈ سسٹم کو توڑ دو“۔

مجیب خان کا تعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے ہے۔ وہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن جامعہ پونچھ کے چیئرمین ہیں۔