نقطہ نظر

خیبر پختونخواہ: ’پی ٹی آئی والے خود کہہ رہے ہیں کہ وہ مرکزی حکومت کی وجہ سے ہارے‘

حارث قدیر

محمد سلیم کہتے ہیں کہ خیبرپختونخواکے بلدیاتی انتخابات میں آنے والے نتائج تحریک انصاف کی پالیسیوں، مہنگائی، بیروزگاری اور بیڈ گورننس کانتیجہ ہیں۔ ان کے بقول ”مستقبل کے انتخابات کے بیرومیٹر کے طور پر تو ان انتخابات کو دیکھا جا سکتا ہے، تاہم منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندگان کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہونگے کہ وہ مسائل حل کر سکیں۔ منتخب نمائندوں کا ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کام کرنا غیر جمہوری عمل ہے“۔

وہ خیبر پختونخواہ کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔ ہالینڈ سے انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی ہے اور آج کل ڈویلپمنٹ سیکٹر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے دوران انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر اپنی تحقیق مکمل کی تھی۔

خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سے متعلق ’جدوجہد‘ نے محمد سلیم کا ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی شکست کی آپ کے نزدیک وجوہات کیا ہیں؟

محمد سلیم: جہاں تک میں نے لوگوں سے بات کی ہے، پی ٹی آئی کی شکست کی سب سے بڑی وجہ انکا طرز حکمرانی ہی ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری کے اثرات بھی پی ٹی آئی کی ناکامی کی وجہ بنے ہیں۔ صحت اور تعلیم سمیت خدمات کے دیگر شعبوں میں بھی انکی کارکردگی بہت بری رہی ہے۔ اس حکومت نے خدمات کے شعبوں میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں لائی، صحت انصاف پروگرام تو شروع کیا لیکن سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کیلئے لوگوں کو خوار ہونا پڑتا ہے۔ صحت انصاف پروگرام میں زیادہ فائدہ نجی ہسپتالوں کے مالکان کو ہو رہا ہے، عام لوگوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے لیکن انکی تعداد بہت کم ہے۔ لوگوں کی اکثریت سرکاری ہسپتالوں میں جاتی ہے لیکن وہاں خدمات نہیں ملتی ہیں۔ تعلیم کے شعبہ کیلئے بھی جو وعدے کئے گئے تھے ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، ہر سال نجی سکولوں میں اندراج کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، سرکاری سکولوں میں داخلہ جات کا سلسلہ کم ہی ہوتا جا رہا ہے۔

جمعیت علما اسلام کو ملنے والا مینڈیٹ حقیقی ہے یا دھاندلی وغیرہ کا کوئی عمل دخل بھی نظر آتا ہے؟

محمد سلیم: میرے خیال میں جے یو آئی کو ملنے والا مینڈیٹ حقیقی ہے۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تک لوگوں کی رسائی بہت آسان ہے، مدرسوں اور مساجد میں ہی ہوتے ہیں، لوگوں کیساتھ میل جول رکھتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں دیگر جماعتوں کے لوگ بڑے حجروں اور حویلیوں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں اور ان تک عام انسان کی رسائی آسان نہیں ہوتی۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے بہت سنجیدگی سے اپنے امیدواروں کو سامنے لایا ہے اور مضبوط امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دینے کے حوالے سے بھی خصوصی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ جے یو آئی کا نام آتا ہے تو عام انسان کے ذہن میں یہی آتا ہے کہ سارے مولوی ہی ہونگے۔ تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے، امیدواران کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جن کا مولویوں والا کوئی بیک گراؤنڈ بھی نہیں ہے، حلیہ بھی نہیں ہے اور نہ وہ مولوی ہیں۔

ایسے میں جب افغانستان میں طالبان برسراقتدار ہیں، پشاور جیسے اہم شہر میں جے یو آئی کو ملنے والے اقتدار کے کیا اثرات ہونگے؟

محمد سلیم: افغانستان کے حوالے سے گزشتہ حکومت میں جوکچھ ہو رہا تھا وہی جاری رہے گا، کوئی خاص تبدیلی شاید نہیں ہو گی۔ افغانستان کے حوالے سے پی ٹی آئی اور جمعیت علما اسلام (ف) کے موقف میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے پر خوش ہیں۔ میرا نہیں خیال کے جے یو آئی کی جگہ اگر پی ٹی آئی ہوتی تو کوئی خاص فرق ہوتا۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیا، اگر پی ٹی ایم اس انتخاب میں موجود ہوتی تو نتائج کچھ مختلف ہونے کی توقع کی جا سکتی تھی؟

محمد سلیم: پشتون تحفظ موومنٹ تو اپنے آپ کو سیاسی جماعت ہی تسلیم نہیں کرتی، وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی ایم ایک تحریک ہے۔ ان کے اثر و رسوخ والی جگہ بھی وزیرستان اور اس سے ملحقہ بنوں اور ڈی آئی خان وغیرہ کے علاقے ہیں۔ وزیرستان میں چونکہ الیکشن دوسرے مرحلہ میں ہونگے، اس وقت ہی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ حصہ لیتے ہیں یا نہیں اور اگر حصہ لیتے ہیں تو کیاصورتحال بن سکتی ہے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی انتخابات میں حصہ لیا اور اس نئی جماعت کی کارکردگی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

محمد سلیم: نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے بنوں اور لکی مروت وغیرہ میں کچھ امیدواران کھڑے کئے ہوئے تھے۔ یہ جماعت ابھی الیکشن میں رجسٹرڈ نہیں ہے، اس لئے ان کے لوگ آزاد امیدوار کے طور پر ہی کھڑے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ کونسلرز ان کے منتخب ہوئے ہیں۔ تاہم ان کی مضبوط جگہ وزیرستان ہے، دوسرے مرحلے میں وہاں الیکشن ہونگے تب ہی واضح ہو گا کہ انہیں کتنی حمایت ملتی ہے۔

کچھ علاقوں میں مزدور کسان پارٹی کے لوگ جیتے ہیں، کچھ جگہوں پر عوامی ورکرز پارٹی کے لوگ بھی جیتے ہیں، بائیں بازو کی مجموعی کارکردگی ان انتخابات میں کیسی رہی؟

محمد سلیم: مزدور کسان پارٹی چارسدہ میں ایک تحصیل ناظم کی نشست پر کامیاب ہوئی ہے، اس علاقے میں بائیں بازو کی ایک تاریخ رہی ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ جیتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے باقی حصوں میں اس طرح سے بائیں بازو کی سیاست ہو نہیں رہی ہے۔ البتہ یہاں بائیں بازو کی سیاست کی گنجائش بہت زیادہ ہے، مین سٹریم جماعتیں غریب اور پسے ہوئے طبقے کی بات بہت کم کرتی ہیں، انکا فوکس درمیانے طبقے پر ہی ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں آبادی کی بڑی اکثریت غربت سے دو چار ہے اور اگر بائیں بازو کی تنظیمیں پسے ہوئے لوگوں کی آواز بن جائیں تو انہیں بڑے پیمانے پر حمایت مل سکتی ہے۔

جمعیت علما اسلام تو کامیاب ہوئی ہے لیکن جماعت اسلامی کو اس قدر ووٹ کیوں نہیں مل سکا اور دیگر مذہبی جماعتوں کی کیا صورتحال رہی ہے؟

محمد سلیم: جمعیت علما اسلام اور جماعت اسلامی میں بنیادی فرق موجود ہے۔ جماعت اسلامی نے اسلام کے تحفظ کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، جبکہ جے یو آئی علما کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جے یو آئی ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر مسجد میں موجود ہے، مدرسوں کے علاوہ بھی جے یو آئی کی عوام میں جڑیں کافی مضبوط ہیں۔ یہ سیاسی طور پر لوگوں کو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح مطمئن بھی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سخت گیر دیوبندی مکتبہ فکر کی نمائندہ جماعت ہونے کے باوجود یہ جماعت کافی لچکدار رویے رکھتی ہے۔ امیدواروں کا انتخاب بھی سیاسی اور حلقہ کی صورتحال کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں، تھانے کچہری والے معاملات بھی حل کرتے ہیں۔ عوامی مسائل کے گرد ہی سیاست کو زیادہ محدود رکھتے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی عالم اسلام کے اتحاد وغیرہ پر زیادہ کام کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ عوامی سیاست میں کبھی بھی زیادہ اثر و رسوخ نہیں بنا سکی۔

اگر قوم پرست سمجھی جانیوالی جماعتیں اے این پی، پی کے میپ اور این ڈی پی وغیرہ اتحاد کر کے انتخابات میں جاتے تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے؟

محمد سلیم: قوم پرست جماعتوں کے اثر و رسوخ والے علاقے مختلف ہیں۔ مثال کے طورپر پختون خوا ملی عوامی پارٹی بلوچستان کے پشتون اکثریت والے علاقوں میں مضبوط ہے، عوامی نیشنل پارٹی پشاور اور مالاکنڈ ڈویژن میں مضبوط ہے اورکچھ جنوبی پختونخوا میں بھی اثر و رسوخ موجود ہے، این ڈی ایم نئی جماعت ہے اور ان کا اثر و رسوخ وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر یہ مل کر الیکشن لڑیں تو فائدہ تو ضرور ہو گا، قوم پرستوں کا ووٹ تقسیم نہیں ہو گا اور شاید زیادہ لوگ جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

کہاجاتا ہے کہ دوسرے مرحلے میں جن علاقوں میں الیکشن ہونگے وہاں مسلم لیگ ن کی مضبوط پوزیشن ہے، کیاپہلے مرحلے کے نتائج کا اثر دوسرے مرحلے پر بھی پڑے گا؟

محمد سلیم: پہلے مرحلے کے نتائج کا اثر دوسرے مرحلے پر بھی کسی حد تک پڑے گا۔ مسلم لیگ پہلے مرحلے میں بھی سیٹیں بیشک کم جیتی ہے لیکن اچھا خاصہ ووٹ لیا ہے۔ صوابی کی ایک تحصیل میں انہوں نے الیکشن جیتا ہے، یہ اے این پی کا گڑ ھ رہا ہے۔ صوابی کی دیگر تحصیلوں میں بھی انہوں نے اچھے خاصے ووٹ لئے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ ن اچھی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ ہزارہ ڈویژن کے اضلاع میں الیکشن ہونے ہیں، جہاں ن لیگ مضبوط سمجھی جاتی ہے، مالاکنڈ میں امیر مقام اچھا اثر ڈالنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی شرکت کس حد تک رہی اور کتنی خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا؟

محمد سلیم: میں جب صوابی میں پولنگ اسٹیشنوں پر گیا تو اچھی خاصی خواتین ووٹ ڈال رہی تھیں۔ مخصوص نشستوں پر خواتین کونسلرز تو بنی ہیں لیکن تحصیل ناظم کیلئے کوئی خاتون بطور امیدوار کھڑی نہیں ہوئی ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں کی بھی کمزوری ہے کہ وہ کسی خاتون کو تحصیل ناظم کے امیدوار کے طور پر سامنے نہیں لا سکیں۔ ووٹ دینے کی حد تک تو شمولیت رہی ہے، تاہم الیکشن لڑنے میں خواتین کی شمولیت بہت کم تھی۔ پشاور کے کچھ علاقوں میں خواتین نے انتخابی مہم میں حصہ لیا ہے، باقی جگہوں پر خواتین الیکشن مہم میں بھی شامل نہیں رہی ہیں۔

کے پی کے میں وہ کیا بنیادی مسائل ہیں جن کے گرد الیکشن لڑا گیا اور ووٹروں کے فیصلہ کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

محمد سلیم: اپنی یونین کونسل میں کچھ سیاسی کارکنوں سے میری بات چیت ہوئی، تمام ہی جماعتوں کے کارکنان اس بات پر متفق تھے کہ جب وہ الیکشن مہم کے دوران ووٹ مانگنے گئے تو انہیں یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ پارٹی کا منشور اور پروگرام کیا ہے۔ لوگوں کے ساتھ کیا وعدہ کریں کہ پارٹی اقتدار میں آ کر کیا اقدامات کرے گی۔ اس سے یہ تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ پارٹیوں نے کن بنیادی مسائل پر الیکشن مہم چلائی ہو گی۔

عام طور پر ضمنی اور بلدیاتی الیکشن میں لوگ اقتدار میں موجود جماعت کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کیلئے یہ بہت بڑا دھچکا ہے کہ وہ شکست سے دو چار ہوئے۔ حالانکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے لوگوں کو دھمکیاں بھی دیں، انکے رہنما یہ کہتے رہے کہ اگر ہمارے امیدوار کو ووٹ نہ دیا گیا تو تحصیل میں کوئی ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے جائیں گے۔ ان سب دھمکیوں کے باوجود پی ٹی آئی کو ووٹ نہیں دیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ لوگوں کو مہنگائی، بیروزگاری اور بیڈ گورننس نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ انہیں ووٹ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں ملا ہے۔ تاہم صرف مرکزی حکومت کی پالیسیاں ہی نہیں مقامی رہنماؤں کے اپنے اقدامات اور مقامی حکومت کی پالیسیاں بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر سکی ہیں۔ جس تبدیلی کا دعویٰ کر کے وہ آئے تھے، ویسی تبدیلی نہیں دکھا سکے، سپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر ذمہ داران نے اپنے رشتہ داروں کو ٹکٹ دیئے اور لوگوں نے خاندانی سیاست کو مسترد کر دیا۔

انتخابات میں غیر معمولی نتائج کی ایک وجہ شاید یہ بھی تھی کہ جو امیدوار جس گاؤں سے کھڑا ہوتا تھا، وہ گاؤں اس امیدوار کو سارے ووٹ دینے کی کوشش کرتا تھا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو، بعض جگہوں پر ایک گاؤں کے ووٹ بہت زیادہ پڑنے کی وجہ سے بھی امیدوارکامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں پارٹیوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔

عام انتخابات، صوبائی انتخابات اور موجودہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کو کیسے دیکھتے ہیں؟

محمد سلیم: ایک بڑا فرق تو یہ ہے کہ شہری علاقوں سے پی ٹی آئی کو شکست ہوئی ہے اور دیہی علاقوں میں کامیابی ملی ہے۔ عام انتخابات اور صوبائی انتخابات میں شہری علاقوں میں پی ٹی آئی کو بڑا ووٹ ملا تھا اور امیدواران کامیاب ہوئے تھے۔ تاہم شہری علاقے سمجھے جانے والے پشاور کے پانچ اضلاع کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کا صوابی سے ایک امیدوار کامیاب ہوا، مردان اور چارسدہ سے کوئی کامیاب نہیں ہو سکا، پشاور سے ایک اور نوشہرہ سے دو امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بونیر کی 5 تحصیلوں میں سے 4 تحریک انصاف جیتی ہے، جو نشست ہاری ہے وہ بھی بہت کم مارجن سے ہاری ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کے بھی الزامات آئے تھے، پھرشاید یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ الیکشن جعلی تھا اور شہری علاقوں سے پی ٹی آئی کو جتوایا گیا تھا۔

بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے کیا فرق پڑتا دیکھتے ہیں؟

محمد سلیم: گزشتہ بلدیاتی انتخابات 2015ء میں ہوئے تھے، ان میں بھی یہ مسئلہ تھا کہ ضلعی ناظم کے پاس اختیارات بہت کم تھے۔ اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ بیرومیٹر کی طرح ان الیکشن سے مستقبل کے عام انتخابات کا ٹرینڈ معلوم ہو جاتا ہے۔ تاہم بلدیاتی انتخابات کا جو مقصد ہوتا ہے کہ صوبے سے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں، وہ نہیں ہو رہا ہے۔ سیاسی سرگرمی ہو گئی ہے، لیکن جب یہ منتخب نمائندے حلف لیں گے تو ان کے پاس کام کرنے کے اختیارات بہت کم ہونگے۔ یہ ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کام کرینگے جو ایک غیر جمہوری اقدام ہے۔ حقیقی جمہوریت کیلئے صحت، تعلیم اور واٹر سپلائی سمیت دیگر شعبہ جات کے اختیارات بلدیاتی اداروں کو دینے ہونگے۔ بدقسمتی سے اس لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت دیئے گئے اختیارات حقیقی جمہوریت کو مضبوط کرنے والے نہیں ہیں۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔