خبریں/تبصرے

مراد سعید کی لاجواب کارکردگی: محکمہ ڈاک 40 ارب بجلی کے بل ادا کرنے سے قاصر

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان پوسٹ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، کے الیکٹریک اور دیگر پبلک سروس ایجنسیوں کے وصول کردہ 40 ارب روپے سے زائد کے یوٹیلیٹی بلات کی رقم ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

’ڈان‘ کے مطابق اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے سیکرٹری پاور نے جمعرات کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، وزارت خزانہ اور مواصلات کے نمائندوں، پاکستان پوسٹ کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں یہ کہا گیا کہ ایندھن فراہم کرنے والوں اور بجلی پیدا کرنے والوں کے واجبات کو ختم کرنے کی حکومتی ضمانت کے باوجود پاور کمپنیوں کو مہنگے بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ حکام کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں پاور ڈویژن نے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’پوسٹ آفیسرز جولائی 2021ء سے اپنے بجلی کے بل کی وصولی کو غیر قانونی طور پر برقرار رکھے ہوئے ہیں اور جمع کی گئی رقم انہیں منتقل نہیں کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نقدی کی بڑی کمی ہے۔‘

یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان پوسٹ مراد سعید کی سربراہی میں وزارت مواصلات کے تحت کام کرتی ہے، جو گزشتہ ماہ جاری کی گئی 10 بہترین کارکردگی والی وزارتوں کی فہرست میں سرفہرست ہے۔

ادھر سیکرٹری مواصلات ظفر حسن نے مختلف یوٹیلٹی ایجنسیوں کو وزارت کی جانب سے 36.643 ارب روپے کی ادائیگیوں کی تصدیق کی ہے اور وزارت خزانہ سے اپنی ذمہ داریوں کو ختم کرنے کیلئے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ سیکرٹری نے وضاحت کی کہ پاکستان پوسٹ ایک طویل عرصہ سے یوٹیلیٹی بلات کی وصولی سمیت دیگر اداروں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ’فنڈز مختلف کمپنیوں کی جانب سے جمع کئے جاتے ہیں اور مرکزی اکاؤنٹ نمبر 1 میں جمع کئے جاتے ہیں اور فنانس ڈویژن کی جانب سے فنڈز کے اجرا پر متعلقہ شراکت داروں کو جاری کئے جاتے ہیں۔‘

اس عمل کو وزارت خزانہ نے بند کر دیا ہے، جو اب پاکستان پوسٹ کو صرف ملازمین اور آپریشنل اخراجات سے متعلق فنڈز جاری کر رہی ہے۔ پارٹنر تنظیموں کی جانب سے جمع کی گئی رقوم کو کلیئر نہیں کیا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے واجبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سیکرٹری مواصلات کا کہنا تھا کہ ’فروری کے وسط تک 36.643 ارب روپے کے واجبات جمع ہو چکے تھے اور کمپنیاں ان کی منظوری کیلئے سخت دباؤ ڈال رہی تھیں۔‘

اجلاس میں سیکرٹری مواصلات نے سیکرٹری فنانس حامد یعقوب شیخ سے کہا کہ ’کمپنیوں کی جانب سے پاکستان پوسٹ کے ذریعے اکٹھے کئے گئے 36.643 ارب روپے کے فنڈز جاری کئے جائیں اور اکاؤنٹ نمبر 1 میں جمع کئے جائیں تاکہ ان کے واجبات کو جلد از جلد ادا کیا جا سکے۔‘

اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 10 بجلی کمپنیوں کی کل 35.34 ارب روپے کی رقم پاکستان پوسٹ کے پاس پھنسی ہوئی ہے جبکہ 4 ارب روپے سے زائد دیگر ایجنسیوں جیسے گیس کمپنیوں اور کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد واٹر سپلائی ایجنسیوں کی رقوم پھنسی ہوئی ہیں۔

واجبات میں ملتان الیکٹرک کے 8.2 ارب روپے، لاہور الیکٹرک کے 5.14 ارب روپے، پشاور الیکٹرک کے 4.9 ارب روپے، کے الیکٹرک کے 4.1 ارب روپے، گوجرانوالہ الیکٹرک کے 4 ارب روپے، فیصل آباد الیکٹرک کے 3 ارب روپے، حیدرآباد الیکٹرک کے 2.4 ارب روپے، اسلام آباد الیکٹرک کے 1 ارب، کوئٹہ الیکٹرک کے 900 ملین اور سکھر الیکٹرک کے 700 ملین روپے کے واجبات شامل ہیں۔

Roznama Jeddojehad
+ posts