تاریخ

ایک سیاسی رہنما جس کی زندگی عاجزی اور انکساری سے عبارت تھی

محمد اکبر نوتیزئی

ترجمہ: قیصر عباس

کوتاہ قامت، مضبوط کاٹھی، سیاہ بالوں اور مونچھوں کے ساتھ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی زندگی کا سیاسی سفر ایک نوجوان رہنما سے شروع ہو کر ملک کے ممتاز بلوچ لیڈر تک سست بھی تھا اور طویل بھی۔

طالب علم رہنما کی حیثیت سے وہ 1955ء میں ون یونٹ کے خلاف احتجاج میں شامل رہے۔ فوجی آمر جنرل ایوب خان کے دور میں انہوں نے بلوچ طلبہ کے وظائف اور ان کے حقوق کی جنگ جاری رکھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے بالوں کی سیاہی تو سفیدی میں بدل گئی لیکن اپنی قوم کے حقو ق کی جدوجہد کا جذبہ آخری سانس تک اسی طرح جوان رہا۔

وہ 1945ء میں پیدا ہوئے، 1962ء میں اپنے آبائی علاقے باغ سے میٹرک پاس کیا اور خضدار سے ایف ایس سی کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ وہ ایک ہونہار طالب علم تھے جس کی بنیادپر انہیں ڈاؤ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔

اس دوران سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں اور 1967ء میں بلوچ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (بی ایس او) کے بانی صدر کی حیثیت سے سیاسی منظر نامے میں دکھائی دئے۔ یہ بائیں بازو کی تنظیم تھی جس کی بنیاد عالمی سرد جنگ کے دوران رکھی گئی تھی۔ ایک طویل عرصے تک یہ تنظیم نہ صرف بلوچستان بلکہ کراچی کی بلوچ آبادی اور لیاری میں حقوق کی جدوجہد میں ایک اہم کردار ادا کرتی رہی۔

بی ایس او اب ایک مرکزی سیاسی حقیقت تھی اور نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے اشتراک سے کام کر رہی تھی جو اس وقت مشرقی اور مغربی پاکستان میں بائیں بازو کی ایک نمایاں سیاسی جماعت بن چکی تھی۔ ابھی وہ میڈیکل کے طالب ہی تھے کہ انہیں قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کا موقع ملا۔ ان کا تعلق بلوچستان کے امرا طبقے سے نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی قبائلی سردار کے بیٹے تھے لیکن اس ماحول میں بھی جہاں اشرافیہ ہی سیاسی محاذ پر قابض تھی، انہوں نے بلوچ نوجوانوں کی جرات مندانہ قیادت کی۔

ایک عرصے تک نظر انداز کرنے کے بعد بالآخر میڈیا کو ایک غریب کسان کے اس بیٹے کا نوٹس لینا ہی پڑا جب وہ آخری والی قلات کے بیٹے پرنس یحی ٰخان کو شکست دے کر قومی اسمبلی پہنچ گیا۔ ان انتخابات میں نیپ نے بھی بلوچستان کی تین اور نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اپنی زندگی کے ستتر سال انہوں نے حقوق کی جدوجہد میں گزارے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے اور نواب خیر بخش مری نے 1973ء کے آئین پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں نے جب اس سلسلے میں ان سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا:

”آپ کو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں کئی قومیتں رہتی ہیں جن کی اپنی ایک تاریخ ہے، ثقافت ہے اور زبان ہے۔ میں نے آئین پر دستخط اس لئے نہیں کئے کہ اس وقت کی قومی اسمبلی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر تیا ر نہیں تھی۔ ریاست کے آئین میں ان نسلی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہونی چاہئے جو نہیں تھی۔“

ان کی پوری زندگی ملک کے تمام پسماندہ طبقوں اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے میں گزری اور اس جدوجہد کے دوران انہیں کئی بار جیلوں میں اسیر ی کے دن بھی گزارنے پڑے۔ ہمیشہ ان کا سوال یہی ہوتا کہ ریاست بلوچوں سمیت تمام نسلی اقلیتوں اور استحصال زدہ طبقوں کے حقو ق کی حفاظت کیوں نہیں کرنا چاہتی؟ ان کا کہنا تھا کہ ان قومیتوں کی تاریخ صدیوں پرانی ہے جب کہ پاکستان تو صرف ستر سال پہلے وجود میں آیاتھا۔

اگرچہ ان کی آواز ریاست کے مقتدر حلقوں کی سماعتوں سے کوسوں دور رہی لیکن ایک ایسا پاکستان ہمیشہ ان کی زندگی کا خواب تھا جہاں وفاق کی تمام اکائیوں کونہ صرف برابری کے حقوق بلکہ یکساں طاقت بھی حاصل ہو۔

ڈاکٹر حئی کا انتقال پنجاب کی حدود میں ملتان، سکھر موٹر وے پر ٹریفک کے ایک حادثے میں ہوا جب وہ حیدر آباد سندھ میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد واپس آ رہے تھے۔ وہ اکثر ملک کی قومیتوں کی یک جہتی کے لئے سیاسی سرگرمیوں میں شریک رہتے تھے۔

ان کی پوری زندگی عاجزی و انکساری کا نمونہ رہی اور ان کی نظریں ہمیشہ زمین پر رہتیں۔ ان کے پاس سفر کے لئے کار تو کیا ایک موٹر سائیکل تک نہیں تھی۔ لمبی مسافتوں کے لئے اکثر وہ پیدل سفر کرتے اور گرزتی ہوئی کاروں سے لفٹ لیا کرتے۔

کوئٹہ کے ایک مکین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اکثر ڈاکٹر حئی کو بازار سے گھر جاتے ہوئے سریاب روڈ پر سائیکل کے پیچھے بیٹھے دیکھا۔ لوگوں کا استقبا ل کرنے میں ہمیشہ وہی پہل کرتے اور جب بھی لوگوں سے ملتے تو ہاتھ جوڑ کر ان کی تعظیم کیا کرتے۔

کہتے ہیں دوسروں پر اعتراض کرنا بہت آسان ہوتاہے۔ ڈاکٹر حئی پر بھی ہرطرح کے بہتان لگانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کسی نے مجھے بتایا کہ اگرچہ وہ ایک غریب کسان کے بیٹے تھے لیکن انہوں نے کچی ڈ سٹرکٹ اور سریاب روڈ کوئٹہ میں سینکڑوں ایکڑ زمین کی ملکیت حاصل کر لی تھی اور ان کی درویشی صرف دکھاوا تھی۔ اگر واقعی یہ سب درست تھا تو دولت کی اس ریل پیل کے آثار کہیں تو نظر آتے؟

کچھ ناقدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈاکٹر حئی سیاسی طورپردقیانوسی خیالات کے حامل تھے۔ ان کے مطابق بلوچ قوم کے حقوق ہمیشہ ان کی زبان پر رہتے حالانکہ انہیں یہ تمام حقوق پہلے ہی حاصل ہو گئے تھے۔ بلوچستان کے حالات پر نظر دوڑائیے تو ان دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ بلوچستان میں انہیں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا ہے اوران کے ناقدین اس سے خائف تھے اور یہ اعتراضات حقیقت کے بجائے مبالغہ آمیزی اور حسد پر مبنی تھے۔

قومی اسمبلی کی رکنیت کے علاوہ ڈاکٹر حئی انیس سو نوے کی دہا ئی میں سینٹر بھی رہے۔ اپنی سیاسی زندگی میں وہ میر غوث بخش بزنجو کی پاکستان نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل موومنٹ سمیت صوبے کی کئی سیاسی جماعتوں کے صدر بھی رہے۔ 1987ء میں انہوں نے بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کی بیناد رکھی اور 2004ء میں نیشنل پارٹی (این پی)کی قیادت کی۔ 2018ء میں این پی سے اختلافات کے بعد انہوں نے ایک نئی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی۔

گل خاں نصیرمینگل ایک ترقی پسند شاعر تھے جن کا بلوچی کلام غربا اور استحصال زدہ طبقوں کے مسائل کا ترجمان ہے۔ ان کی ایک مشہور نظم کی یہ سطر ڈ اکٹر عبدالحئی بلوچ کی پوری ز ندگی کی داستان بھی ہے:

’میرا ہنسنا اور میرا رونا سب غریبوں کے ساتھ ہے‘۔

بشکریہ: روزنامہ ڈان

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔