خبریں/تبصرے

سعودی عرب میں حکومتی وفد کیخلاف نعرے بازی کرنیوالے 5 گرفتار

حارث قدیر

سعودی عرب نے مدینہ منورہ میں پاکستان کے حکومتی وفد کے خلاف نعرے بازی اور کھینچا تانی کرنے کے واقعہ میں ملوث 5 افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

سعودی حکام نے ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ مدینہ پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کیا ہے، جنہوں نے پاکستانی شہریت کی حامل خاتون اور ان کے ساتھیوں پر مسجد نبوی کے صحن میں نازیبا الفاظ سے حملہ کیا تھا۔

قبل ازیں پاکستان میں موجود سعودی سفارتخانے نے بھی بعض پاکستانی شہریوں کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی لیکن تعداد نہیں بتائی تھی۔ مدینہ پولیس نے بھی گرفتار ہونے والوں کے نام تاحال ظاہر نہیں کئے ہیں۔

جمعہ کے روز ہی وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور حکومتی عہدیداران کے خلاف نعرے بازی کی مذمت کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ سعودی حکام سے مناسب کارروائی کی درخواست کی جائیگی اور ایسے افراد کو سعودی عرب سے ملک بدر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت یہ بھی سوچ رہی ہے کہ ان کے خلاف پاکستان میں بھی مقدمات قائم کئے جائیں۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یہ تمام سازش پاکستان میں بنائی گئی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر داخلہ اس میں خود ملوث ہیں۔ انہوں نے کال ریکارڈز حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر اس بابت کچھ صحافی بھی یہ اطلاعات دے رہے ہیں کہ یہ منصوبہ سابق وزیر اعظم ہی کی ایما پر بنایا گیا اور اس کیلئے خصوصی طور پر برطانیہ سے کچھ افراد سعودی عرب گئے۔

صحافی احمد نورانی سمیت کچھ دیگر صحافیوں نے بھارتی شہری انیل مسرت پر بھی اس سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ احمد نورانی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر سعودی عرب میں انیل مسرت کی گرفتاری کی خبر درست ہے تو یہ بہت خوش آئند پیش رفت ہے۔‘

تاہم سعودی حکام کی جانب سے گرفتار ہونے والوں کے نام اور شہریت ظاہر نہیں کئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ترکی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے کے بعد احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنوں کو گرفتاریوں اور ملک بدری جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔

یہ واقعات جہاں پاکستانی سیاست میں پولرائزیشن اور عدم برداشت کے حد سے زیادہ بڑھ جانے کی غمازی کرتے ہیں، وہیں ریاست کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کی گہرائیوں کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

اگر سعودی عرب میں کیا جانے والا اقدام عمران خان کی ایما پر کیا گیا ہے (جس کے قوی امکانات موجود ہیں) تو یہ تحریک انصاف کی قیادت کے سیاسی بانجھ پن اور فسطائی رجحان کے دوبارہ طاقت حاصل کرنے کیلئے پاگل پن کی حد تک جانے کے عزائم کو ظاہر کر رہا ہے۔

یہ واقعہ پاکستان میں آئینی کھلواڑ کی وارداتوں کا ہی تسلسل لگ رہا ہے۔ تاہم پاگل پن میں کیا گیا یہ اقدام اتنی آسانی سے ہضم کرنا تحریک انصاف کی قیادت کیلئے مشکل ہو گا۔ عجلت میں کئے جانے والے مہم جوئی پرمبنی فیصلے عمران خان کی سیاست کو مزید بند گلی میں داخل کرتے جا رہے ہیں۔ تاہم طاقت کے ایک اہم عنصر کی حمایت کے باعث عمران خان کو سیاست سے آؤٹ کرنے کا عمل کافی سست روی پر مبنی ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

شہری درمیانے طبقے اور لمپن بورژوازی کے ملغوبے پر کھیلنے والے اس فسطائی رجحان کو سماج سے اکھاڑنے کیلئے تیز ترین جراحی ناگزیر ہے۔ جتنا یہ عمل سست روی کا شکار ہو گا، غلاظتیں اور تشدد کا عنصر سماج میں اتنا ہی گہرا ہوتا جائے گا۔

موجودہ حکومت اس فسطائی رجحان کے خلاف سخت اقدامات کرنے سے ابھی تک کتراتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ عدم تشدد پر مبنی پالیسی کا بار بار اظہار جہاں حکومتی ناکامیوں کو ظاہر کر رہا ہے، وہیں حکمرانوں کے ان خدشات کو بھی ظاہر کر رہا ہے کہ تحریک انصاف کوبزور طاقت کچلنے کی کوشش میں حالات قابو سے باہر ہو کر نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

سماج پر چھائی غلاظتوں اور محرومیوں کا خاتمہ نہ تو حکمران طبقہ کے بس میں ہے اور نہ ہی اس نظام میں وہ گنجائش باقی ہے، جس کی بنیاد پر سماجی اور معاشی مسائل کا حل کیا جا سکے۔ محنت کش طبقہ ہی وہ واحد طاقت ہے جو سیاسی میدان میں اپنا اظہار کرتے ہوئے اس نظام کو تبدیل کر کے ایک منصفانہ اور انسانی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔