خبریں/تبصرے

جموں کشمیر میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کیخلاف ترقی پسند قوتوں کا ردعمل

راولاکوٹ (حارث قدیر) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں کالعدم جیش محمد اور جماعۃ الدعوۃ کی سرگرمیوں کے خلاف ترقی پسند تنظیموں نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے خوف و ہراس پھیلانے، چندہ جمع کرنے کے سلسلہ اور ہوائی فائرنگ کے واقعات کا تدارک کرنے اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گزشتہ چند ماہ سے کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بالخصوص رمضان کے مہینہ میں کالعدم تنظیموں نے شہری اور دیہی علاقوں کی مساجد میں چندہ جمع کرنے کے علاوہ دیہی علاقوں کی مساجد میں افطار پروگرامات کا انعقاد کرتے ہوئے نہ صرف نوجوانوں کو ’جہاد‘ کیلئے بھرتی کرنے پر آمادہ کرنے کی مہم چلائی بلکہ اکثر مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی ہے۔

گزشتہ روز جمعہ کو مختلف دیہی مساجد میں کالعدم تنظیموں کے نمائندوں نے ’جہاد‘ پر خصوصی تقاریر کیں اور دل کھول کر چندہ دینے کے علاوہ نوجوانوں کو ’جہاد‘ میں حصہ لینے کی دعوت بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں مبینہ کارروائیوں کے دوران بھارتی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے نوجوانوں کے آبائی دیہاتوں میں بڑے اجتماعات کا انعقاد کر کے مزید نوجوانوں کو ’جہاد‘ کیلئے تیار کرنے کی مہم بھی عروج پر ہے۔

شہروں میں منعقد کئے جانے والے جلوسوں، دیہی علاقوں کے پروگرامات اور مساجد کے سامنے چندہ مہم کے دوران فوٹو گرافی کرنے یا ویڈیو بنانے کی کوشش کرنے والوں سے موبائل فون چھیننے اور دھمکیاں دینے کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ترجمان سردار عمر حیات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کالعدم جیش محمد اور لشکر طیبہ کے چندہ جمع کرنے والے کارکنوں کو منع کرنے پر ان کے رہنماؤں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بیان کے مطابق گزشتہ جمعہ کو راولاکوٹ کی ایک مسجد کے باہر چندہ جمع کرنے پر لبریشن فرنٹ یو کے زون کے رہنما یاور بٹ سے سے الجھنے کی کوشش کی گئی تھی اور گزشتہ روز اسی طرح کا واقعہ گاؤں بنجونسہ میں جامع مسجد میرال گلہ میں پیش آیا ہے۔ جہاں لبریشن فرنٹ یوکے زون کے نائب صدر جاوید اختر کو چندہ جمع کرنے سے منع کرنے پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع پونچھ کے چیئرمین سبحان عبدالمالک نے بتایا ہے کہ گزشتہ دنوں راولاکوٹ کے نواحی گاؤں دھمنی میں کالعدم جیش محمد کے لوگوں نے ایک جلسہ منعقد کیا۔ جلسہ کے دوران چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی۔ اس جلسہ کے دوران چند سرکاری اہلکاران ویڈیوز بنا رہے تھے، جن سے کالعدم تنظیم کے اہلکاران نے موبائل فون چھین کر ویڈیوز اور تصاویر ڈیلیٹ کر دیں اور انہیں مستقبل میں ایسا نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی۔ ان کے مطابق جلسہ میں موجود چند نوجوانوں نے بھی ویڈیو بنانے کی کوشش کی جسے سختی سے روکا گیا ہے۔

سردار عمر حیات خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ لبریشن فرنٹ اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کی مکمل حفاظت کرنے کی بھرپور طاقت اور صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم حکومت کے اداروں کو بھی متنبہ کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو خود لگام ڈالی جائے۔ بصورت دیگر اس ساری صورتحال کو بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھایا جائے گا اور ریاست کا دہرا معیار بھی پوری دنیا پر واضح کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل راولاکوٹ کے ہی نواحی گاؤں جالوٹھ میں اسی طرح کے ایک جلسہ کے دوران ہوائی فائرنگ کی ایک ویڈیو اور کچھ آڈیو ریکارڈنگز منظر عام پر آنے کے بعد ضلع سدھنوتی میں منعقدہ اسی نوعیت کے جلسہ میں کالعدم تنظیم کی قیادت کو جانے سے روک دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے کچھ روز بعد راولاکوٹ میں ہتھیاروں سمیت ایک جلوس نکالا گیا، جس کی ویڈیو بنانے والے نوجوانوں سے اسلحہ کے زور پر موبائل فون چھین لئے گئے تھے۔

این ایس ایف کے ترجمان و ایڈیٹر عزم بدر رفیق نے اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکمرانوں کا دہرا معیار ہے۔ ایک طرف کالعدم تنظیموں پر پابندیوں کے اعلانات اور دعوے کئے جا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو مین سٹریم میڈیا میں آئے بغیر بھرپور طریقے سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے مدد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

ایک منظم منصوبہ کے تحت اسلحہ اور گن کلچر کو پروموٹ کر کے بیروزگاری اوردیگر مسائل سے تنگ نوجوانوں کو عسکریت پسندی کیلئے تیار کیا جا رہا ہے۔ معصوم نوجوانوں کو مذہب کے نام پر استعمال کر کے اپنے تذویراتی مقاصد کے حصول کیلئے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ یہی کالعدم تنظیمیں اسلحہ اور منشیات کے کلچر کو پروان چڑھانے میں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ تمام ترقی پسند قوتوں کو معاشرے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی مسلط کرنے کی ان کوششوں کے خلاف یکجا ہو کر آواز بلند کرنا ہوگی۔ حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے ہونگے، اگر ان قوتوں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی، ان کی سرگرمیوں کو روکا نہ گیا تو ہم بھرپور رد عمل دینے پر مجبور ہونگے۔ ہم کسی صورت اس خطہ کے امن کو تباہ نہیں ہونے دینگے، نہ ہی اس خطے کے نوجوانوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے دینگے۔