خبریں/تبصرے

بجٹ اجلاس کے بعد وزیر اعظم تنویر الیاس کے خلاف عدم اعتماد کا امکان

راولاکوٹ (نامہ نگار) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی اسمبلی میں بجٹ سیشن وزیر اعظم تنویر الیاس کی حکومت کیلئے لائف لائن کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ بجٹ سیشن کے ختم ہوتے ہی تحریک عدم اعتماد لائے جانے اور حکومت گرائے جانے کا امکان ہے۔ حکومت نے دفاعی حربے کے طورپر بجٹ پیش کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے ٹائم حاصل کرنے کیلئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ طاقتور حلقوں سمیت پاکستان کی وفاقی حکومت مظفر آباد کی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے تبدیلی پر تیار ہو چکے ہیں۔ حکومت یہ چاہتی ہے کہ انہیں کچھ وقت مل جائے تاکہ صورتحال کو دوبارہ معمول پر لانے کیلئے کوئی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ تاہم وزیر اعظم تنویر الیاس کی کارکردگی سے متعلق ایسے رپورٹس پیش کی جا چکی ہیں کہ جن کی بنیا دپر انکی حکومت کے خاتمے کیلئے رضامندی ہو چکی ہے۔

اس سلسلہ میں اپوزیشن لیڈر چوہدری لطیف اکبر نے پریس کانفرنس میں بھی یہ اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم راتوں کو جاگتے اور دن کو سوتے ہیں۔ جلد اس حکومت سے عوام کی جان چھڑوائیں گے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’ایک مدہوش شخص کو وزیراعظم بنایا گیا ہے، وزرا پورا دن بیٹھ کر کابینہ اجلاس کا انتظار کرتے ہیں اور شام کو پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم ابھی سوئے ہوئے ہیں۔ جون ختم ہونے والا ہے ابھی تک بجٹ تیار نہیں کیا جا سکا ہے۔‘

اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کو جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ جلد یہ حکومت تبدیل کی جائے گی۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف اداروں کی ڈائری اور رپورٹس میں بھی وزیر اعظم تنویر الیاس سے متعلق اسی طرح کی باتیں تحریر کی گئی ہیں، جو الزام اپوزیشن لیڈر کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔