خبریں/تبصرے

جموں کشمیر: 300 سے زائد افراد کیخلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم، احتجاج جاری

راولاکوٹ (حارث قدیر) پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقہ پونچھ سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک ایک ماہ کے اندر تینوں ڈویژنوں میں پھیل چکی ہے۔ پونچھ میں احتجاج کرنے والے 400 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں، جن میں سے 300 سے زائد ایسے افراد ہیں جن کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔

مجموعی طور پر 9 سے زائد مختلف مقدمات میں 400 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ ڈیڑھ درجن سے زائد افراد گزشتہ 15 روز سے زیر حراست ہیں۔ پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کرنے کے علاوہ گرفتار ہونے والوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ عابد عزیز نامی گرفتار رہنما کو پولیس کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعدپولیس نے اس وقت حوالات سے غائب کر دیا تھا، جب عدالت العالیہ کے نوٹس لینے پر ججز کو حوالات کا معائنہ کرنے کیلئے بھیجا گیا۔

تاہم بعد ازاں عدالت میں عابد عزیز کو پیش کیا گیا، جہاں تشدد اور جسم کے مختلف حصوں پر تیز دھار آلے سے پہنچائے گئے زخموں کو دیکھتے ہوئے عدالت نے عابد عزیز کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا۔ عابد عزیز کی حالت ابھی بھی تشویش ناک ہے۔

دوسری طرف مظاہرین اور پولیس کے مابین ہونے والے تصادم میں بھی 4 پولیس اہلکاران کے علاوہ کثیر تعداد میں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس تشدد کے بعد تمام پارٹیوں پر مشتمل اتحاد کے علاوہ مختلف علاقوں میں قائم عوامی ایکشن کمیٹیوں کے زیر اہتمام احتجاج کے سلسلے کو مزید شدید کر دیا گیا ہے۔ 2 اگست کو پونچھ ڈویژن بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، اس کے علاوہ ریلیاں اور جلوس بھی نکالے گئے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

پونچھ کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر راولاکوٹ میں احتجاجی دھرنا 28 جولائی سے جاری ہے۔ احتجاجی دھرنا میں مختلف علاقوں سے سیکڑوں کی تعداد میں شہری روزانہ کی بنیاد پر جلوسوں کی شکل میں شرکت کرتے ہیں۔ آل پارٹیز کے درجنوں رہنما دن رات اس احتجاجی دھرنا میں شریک ہیں۔

راولاکوٹ میں منعقدہ احتجاجی دھرنا کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ضلع سدھنوتی کے صدر مقام پلندری، ضلع باغ، تھوراڑ، منگ اور ہجیرہ میں بھی احتجاجی دھرنوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دارالحکومت مظفرآباد میں بھی احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا ہے، اس کے علاوہ کوٹلی اور میرپور میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین اور گرفتار شدگان کے خلاف تشدد کے خلاف یورپی ملک بلجیم میں بھی پاکستانی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ یورپ، برطانیہ اور امریکہ کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

مظاہرین اورحکومت کے مابین مذاکرات کیلئے ابھی تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ آل پارٹیز پیپلز رائٹس فورم کے ذمہ داران کی جانب سے منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ کسی سے بھی مذاکرات کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے ابھی تک فورم کی اس شرط پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ احتجاج بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اس خطے کے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ تاہم حکومت کی جانب سے مطالبات ماننے کی بجائے مظاہرین کے خلاف مقدمات قائم کرنے اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم تنویر الیاس نے مظاہرین کو بھارتی خفیہ ادارے کے ایجنٹوں کا ٹولہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا نہ صرف عندیہ دیا بلکہ راولاکوٹ میں تہاڑ جیل (بھارتی دارالحکومت دہلی کی بدنامہ زمانہ جیل) قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

جمعرات کے روز منظر عام پر آنے والی ایک اور ایف آئی آر میں کھائی گلہ کے مقام پر پر امن احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کیخلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس مقدمہ میں 30 سے زائد شہریوں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ابھی تک منظر عام پر آنے والے مقدمات کی تعداد 9 سے زائد ہے۔ تاہم مظاہرین کو خدشہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ مقدمات کا امکان موجود ہے، جنہیں ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے۔

اسی عرصہ میں بجلی کے بلات پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے نام پر 7 روپے فی یونٹ تک کا اضافی ٹیکس بلات میں شامل کیا گیا۔ ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کیلئے ٹورازم پروموشن ایکٹ 2019ء میں ترمیم کیلئے بل سیکرٹریٹ کو ارسال کیا گیا اور اس خطہ میں نافذ العمل عبوری آئین ایکٹ 74ء میں 15 ویں ترمیم کا مسودہ بھی منظر عام پر آیا۔

یوں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹیوں کے زیر اہتمام شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے مطالبات میں اضافے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں اور ٹریڈ یونینوں کے علاوہ طلبہ تنظیموں نے بھی شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی۔

اب احتجاجی تحریک کے بنیادی مطالبات میں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دینے، بجلی کے بلات میں شامل ہر طرح کے ٹیکسوں کا خاتمہ کرتے ہوئے بجلی کی قیمت خرید اور ترسیل کے مابین بے جا فاصلے کم کرنے، ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر سیاحتی مقامات کی 571 مربع کلومیٹر سے زائد اراضی کو بیرونی سرمایہ کاروں کے حوالے کئے جانے کا منصوبہ ترک کرنے، مجوزہ 15 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ فوری واپس لیتے ہوئے 24 اکتوبر کے اعلان آزادی کے مطابق آئین سازی اور حکومت سازی کا اختیار مقامی شہریوں کو دینے کا مطالبہ اور تمام تر مقدمات کو واپس لیتے ہوئے تمام اسیر رہنماؤں کو غیر مشروط رہا کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں کل 6 اگست کو پونچھ ڈویژن بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، اس دوران احتجاجی دھرنوں کے علاوہ جلسے اور جلوس بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام آج 5 اگست کو بھی اسی سلسلے میں ایک احتجاجی پروگرام راولاکوٹ میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس احتجاجی ریلی اور جلسہ سے چیئرمین سردارمحمد صغیر خان ایڈووکیٹ کے علاوہ دیگر رہنما خطاب کرینگے۔