پاکستان

وزیر اعظم تنویر الیاس ریاست کے باشندوں کو سینٹورس کے ملازمین سمجھ کر مت ہانکیں

حارث قدیر

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر اعظم تنویر الیاس کے انتخاب کو ابھی 4 ماہ بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں تاہم ان کے انداز حکمرانی کے چرچے ہر طرف عام ہیں۔ رات کے پچھلے پہر کابینہ کے اجلاس منعقد کرنے اور دن بھر سوتے گزارنے کی خبریں ہوں، یا کئی کئی ہفتوں تک کابینہ اجلاس سمیت کسی حکومتی فورم پر وزیر اعظم کی عدم دستیابی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے چرچے ہوں، وزیر اعظم کو ان تمام جھمیلوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔

30 جون کو بجٹ کی منظوری کے بعد وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے کابینہ اراکین کو ٹھیک ایک ماہ سے زائد عرصہ تک انتظار کرنا پڑا۔ پھر بالآخر وہ لمحہ آیا کہ کابینہ اجلاس کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا۔ تاہم صرف اعلان سے اس طرح کے بڑے واقعات کب رونما ہوتے ہیں۔ پس کابینہ اور سربراہان محکمہ جات لاؤ لشکر کے ہمراہ وزیر اعظم کی تلاش میں تین روز سرگرداں رہے۔ بدھ کی شب 12 بجے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا، بعد ازاں پھر جمعرات کی دوپہر 12 بجے کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں اجلاس رکھا گیا۔

جمعرات کی صبح بیوروکریسی اور وزرا حکومت کا لشکر اسلام آباد پہنچا تو انہیں اطلاع دی گئی کہ وزیر اعظم ابھی آرام فرما رہے ہیں لہٰذا لشکر دوبارہ مظفر آباد کی طرف رخت سفر باندھ لے اور شام 5 بجے وزیر اعظم بذریعہ ہیلی کاپٹر مظفر آباد تشریف فرما ہونگے۔ اس طرح تین روز کی تگ و دو کے بعد جمعرات کی شام کابینہ کا اجلاس ممکن ہو پایا۔

بجٹ اجلاس میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان تو کیا گیا، لیکن وزیر اعظم کی عدم دستیابی کی وجہ سے منظوری نہ ہو سکی اور اضافہ شدہ تنخواہیں تاحال نہیں جاری ہو سکی ہیں۔

بجلی کی قیمتیں ایک سال تک منجمد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا، تاہم اس کا بھی باضابطہ نوٹیفکیشن وزیر اعظم کی منظوری کا منتظر ہے۔ اسی طرح ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایڈہاک ملازمین کی مدت ملازمت میں توسیع کا سلسلہ روک دیا گیا۔ ملازمین کے احتجاج پر زبانی حکم کے تحت ایڈہاک ملازمین کو فارغ نہ کئے جانے کی بات تو کی گئی، لیکن حکم نامہ منسوخ نہ کئے جانے کی وجہ سے جولائی اور اگست میں ایڈہاک ملازمتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد توسیع کا سلسلہ رک گیا۔ سیکڑوں ایڈہاک ملازمین اگست کی تنخواہوں سے محروم ہو گئے اور ملازمتوں میں توسیع نہ ہونے کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔ اسی طرح سیکڑوں ملازمین کی مدت ملازمت اگست میں ختم ہو چکی ہے، جنہیں آئندہ ماہ سے گھروں میں فاقوں کی نوبت کا خطرہ محسوس ہونا شروع ہو چکا ہے۔

دوسرے لفظوں میں وزیر اعظم تنویر الیاس ہر شعبے کے ماہر کے طور پر گھنٹوں لیکچر دینے کی صلاحیتوں سے مالا مال تو ہیں۔ تاہم خود امور سلطنت چلانے کیلئے ان کے پاس وقت میسر نہیں ہے۔ سرکاری رپورٹوں کے مطابق جاگنے، سونے کے مسائل بھی اس نوع کے ہیں کہ دن اور رات کا فرق ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔

جب کبھی دن کے اجالے میں وزیر اعظم جاگتے رہ جائیں تو کچھ ایسے کلمات ضرور ادا کر دیتے ہیں، جو ہفتوں تک روایتی و سوشل میڈیا پرزیر بحث رہتے ہیں۔ یاسین ملک کی سزا پر بھارت کو جنگ کی دھمکی دینے کے بعد ابھی تک بھارتی فوجیں سرحد پر وزیر اعظم کے ’سنی دیول ماڈل‘ حملے کو روکنے کیلئے سہمے ہوئے دفاعی حصار بنائے بیٹھی ہیں۔ انہیں کیا معلوم وزیر اعظم کو کوئی یاد کروانے والا ہی نہیں ہے کہ یاسین ملک کی سزا معطل نہ ہونے کی صورت بھارت کو ناکوں چنے چبوانے تھے۔

صحافیوں کو صحافت سکھاتے ہوئے تربیتی اکیڈمی کے قیام کا نہ صرف اعلان کیا گیا تھا، بلکہ یہ بھی فرمایا گیا کہ صحافیوں کو تربیت دینے کیلئے وزیر اعظم اپنی خداداد صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لائیں گے۔ انکا دعویٰ ہے کہ جموں کشمیر بھر میں ان کے مقابلے میں خبر تعمیر کرنا کسی صحافی کے بس کی بات نہیں ہے۔

اسی اثنا میں کچھ لوگ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی مانگ بھی کر رہے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ جب سے وزیر اعظم حکومتی امور سے روپوشی اختیار کئے ہوئے تھے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ کافی حد تک تھم چکا تھا۔ اب چونکہ وہ واپس پدھار چکے ہیں، اس لئے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بھی طول پکڑتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے احتجاج کرنے والوں کو بھارتی خفیہ ادارے را کا ایجنٹ ہی قرار نہیں دیا، بلکہ ان کے شجرے بھی طلب کر لئے۔ ساتھ ہی ساتھ پونچھ میں تہاڑ جیل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کا اعلان بھی کر دیا۔

یو ں وزیر اعظم کے احکامات کی بجا آوری کرتے ہوئے ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ نے سینٹورس مال کی انتظامیہ جیسا رویہ اپنا لیا۔ احتجاج کر کے گھروں کو چلے جانے والے مظاہرین کے خلاف احتجاج ختم ہونے کے ایک ہفتہ بعد مقدمات منظر عام پر آنا شروع ہوئے، گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیکر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

وزیر اعظم نے ’زیرو ٹالرینس‘ کا حکم کیا دیا، پولیس نے گھروں میں شیلنگ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ حوالات بھرو سکیم شروع ہو گئی، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے سلسلے کا کچھ جواب مظاہرین نے بھی دیا، کیونکہ مظاہرین 15 ہزار ماہانہ تنخواہوں پر گھروالوں کا پیٹ پالنے کیلئے خود سینٹورس مال کے تہہ خانے میں بنے طویل ہال میں کسمپرسی زندگی گزارنے والے نہیں تھے۔ اس طرح کچھ پولیس اہلکاران بھی زخمی ہوئے اور بکتر بند گاڑی سمیت پولیس کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس تصادم میں دو عدد پولیس بسیں بھی جل کر خاکستر ہو گئیں۔

وزیر اعظم کے ترجمان اس خورنریز تصادم کے دوران بھی دیگر اضلاع کے شہریوں کو چین ہی چین کی داستان سناتے رہے۔ پھر جب سوشل میڈیا نے ترجمانوں کے جھوٹ کی قلعی کھولنا شروع کی، تو پھر دیگر اضلاع سے پولیس نفری کو پونچھ بھیج کر مظاہرین کو فتح کرنے کیلئے کچھ علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی۔ احتجاج میں شرکت کے الزام میں نوجوانوں کی شناخت پریڈ کا سلسلہ شروع ہوا اور کئی نوجوانوں کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

یوں احتجاج کا یہ سلسلہ اب مختلف اضلاع تک پھیل چکا ہے۔ وزیر اعظم کے آمرانہ رویے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تمام سیاسی قوتیں سراپا احتجاج ہیں، البتہ وزیر اعظم اپنے آپ کو اس خطے کا اسی طرح مالک تصور کر رہے ہیں، جیسے سینٹورس کو اپنی ملکیت سمجھ کر زبانی احکامات سے چلاتے ہیں۔ نجی کاروبار میں مالک کے احکامات پر عملدرآمد تو کیا جا سکتا ہے، تاہم ریاست چاہے جس بھی شکل کی ہو، اس کے امور چلانے کیلئے وزیر اعظم کے زبانی احکامات کافی نہیں ہوتے۔ وہاں ہر کام رولز آف بزنس کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے۔ زبانی احکامات پر پولیس و انتظامی افسران مظاہرین پر مقدمات قائم کر سکتے ہیں، عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ زبانی احکامات پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔

ایک بات البتہ ضرور ہے، اس خطے کے وسائل لوٹنے کے حوالے سے قانون سازی، ترامیم، سرکلرز اور نوٹیفکیشن جاری کرنے میں وزیر اعظم کسی طرح کی بھی کوتاہی برتنے کی گستاخی قطعاً نہیں کر رہے ہیں۔ لبریشن سیل کی تنظیم نو کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے فوجی افسران کو ذمہ داریاں تفویض کرنا ہوں، یا سیاحتی مقامات سے مقامی آبادیوں اور قوانین کو بے دخل کرتے ہوئے فوجی افسران کی شمولیت پر مبنی ٹورازم اتھارٹی قائم کر کے سیاحتی زمینوں کو بیرونی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنے جیسے اقدامات کرنا ہوں۔ وزیر اعظم پوری تندہی سے ان امور پر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ قانونی مسودوں سے سرکلرز و نوٹیفکیشن کا متن بھی شاید پڑھنا گوارہ نہیں کرتے، اسی لئے ابھی تک ٹورازم اتھارٹی کیلئے تیار ہونے والے مسودے کے منظر عام پر آنے کے باوجود یہ فرمان جاری ہو رہے ہیں کہ زمینوں پر قبضے کی خبریں محض پروپیگنڈہ ہیں۔

یہ بات بھی درست ہے کہ مال و دولت کی بنیاد پر اس عہدے پر پہنچنے والے وزیر اعظم کو لانے والے بھی اب کافی پچھتا رہے ہیں۔ ایک اور تبدیلی کیلئے حالات سازگار نہیں ہیں، نہ ہی کوئی سنجیدہ متبادل اس طرح فوری میسر ہے۔ پاکستان کے سیاسی حالات حکمران جماعتوں کو زیر انتظام علاقوں میں کسی ان ہاؤس تبدیلی کی اس طرح کھلی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کی ویڈیوز کی بازگشت سے لیکرجاگنے اور سونے والے مسائل، سیاسی سوجھ بوجھ سے لے کر حکومتی امور کی کمال مہارتوں کے باوجود انکے اقتدار کو فوری خطرہ کوئی نہیں ہے۔ تاہم حالات اسی نوعیت سے چلتے رہے تو جلد نئے مہرے کی تلاش اور کرسی پربراجمان کرنے کی تیاری شروع ہو سکتی ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔