خبریں/تبصرے

خیبر پختونخوا میں طالبان کی آمد اور حملے: امن کیلئے احتجاج

لاہور (جدوجہد رپورٹ) لوئر دیر میں رکن خیبر پختونخوا اسمبلی ملک لیاقت علی پر حملہ، مٹہ اور سوات کے دیگر علاقوں میں پولیس پر حملوں سے خطے میں تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ کے پی کے مختلف علاقوں میں طالبان کی موجودگی اور دہشت گردی کے واقعات کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

شہری ماضی قریب میں مسلط کی گئی دہشت گردی کی لہر سے خوفزدہ ہیں اور امن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

’دی نیوز‘ کے مطابق گزشتہ کئی مہینوں سے جنوبی اضلاع اور وسطی کے پی کے کچھ قصبوں میں خراب حالات کے بعد اب شمال میں بھی حالات خراب ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں حالیہ برسوں میں امن کے قیام کے بعد سیاحت کو فروغ ملا تھا۔

گزشتہ ہفتے ایم پی اے ملک لیاقت پر حملہ ہونے تک مالاکنڈ ڈویژن میں حالات بہت بہتر تھے۔ دیر میں حملے میں ہلاک ہونے والے چار افراد میں ان کا بھائی اور بھتیجا بھی شاملے تھے، جبکہ ملک لیاقت شدید زخمی ہیں۔

سوات میں پولیس چوکیوں پر حملوں کی اطلاع چند روز بعد سامنے آئی اور پھر سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک آرمی افسر اور ایک پولیس افسر کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

دوسرے روز دیر میں سیکڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور امن کیلئے مارچ کیا۔ مظاہرین نے حکومت، پولیس اور فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی کو مالاکنڈ ڈویژن میں ایک بار پھر امن خراب نہ کرنے دیں۔

مالاکنڈ کے بعض منتخب نمائندے پہلے ہی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

جنوبی اضلاع میں کافی عرصہ سے حالات خراب ہیں، تاہم ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کو روکنے کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔ گزشتہ کئی مہینوں میں پشاور اور خیبر میں کئی واقعات رپورٹ ہوئے لیکن کوئی بھی بڑھتے ہوئے حملوں کو ختم نہیں کر سکا۔

شمالی وزیرستان کے حالات بھی کافی عرصہ سے خراب تھے۔ کئی مواقع پر مقامی عمائدین اور سیاستدانوں نے اس معاملے کو اٹھایا اور احتجاج بھی کیا، لیکن ان واقعات کاتدارک نہ ہو سکا۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ 28 روز سے احتجاجی دھرنے، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے۔

شمالی وزیرستان میں 2019ء سے جون 2022ء تک 186 واقعات رپورٹ ہوئے۔ جنوبی وزیرستان میں ایسے واقعات کی تعداد 56، اورکزئی اور کرم میں 9، مہمند میں 16، خیبر میں 12 اور باجوڑ میں 61 تھی۔

کئی جنوبی اضلاع میں پولیس اہلکار اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مسلسل حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف جنوبی اضلاع بلکہ پشاور اور بعض دیگرقصبوں میں بھی پولیس پر حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پی میں پولیس پر حملوں کی تعداد 2016ء کے بعد کسی بھی پورے سال میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

رواں سال کے پہلے 7 ماہ میں ٹارگٹ کلنگ اور دیگر حملوں میں 63 پولیس اہلکار مارے گئے۔

مسلح حملہ آوروں کی جانب سے ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ گزشتہ کئی مہینوں میں متعدد تھانوں، چوکیوں اور وینوں پر دستی بموں سے حملے کئے جا چکے ہیں۔

پشاور میں ایس پی پولیس کے دفاتر کے ساتھ ساتھ ڈی ایس پی بڈھ بیر بھی حالیہ حملوں میں دستی بم حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ان تمام شورش زدہ مہینوں میں سب سے زیادہ حملے ڈی آئی خان کے علاقے میں کئے گئے، جس کے بعد بنوں، پشاور، مردان ڈویژن کا نمبر آتا ہے۔ لوئر دیر اور سوات میں چند دنوں کے اندر دو بڑے واقعات رپورٹ ہونے سے پہلے ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن کسی بھی دوسرے علاقے کے مقابلے میں زیادہ پر امن رہے ہیں۔

ان دونوں واقعات سے سوات، چترال، دیر اور ملاکنڈ ڈویژن کے کئی دوسرے علاقوں کی سیاحت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جہاں رواں موسم گرما میں لاکھوں سیاح کالام، مالم جبہ، کمراٹ، شندور اور دیگر کئی سیاحتی مقامات کی سیر کر چکے ہیں۔