خبریں/تبصرے

دھماکے میں ہلاک ہونے والے 41 مزدوروں کی قسمت میں یہی لکھا تھا: اردگان کے بیان پر ہنگامہ

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ترکی میں شمالی بحیرۂ اسود کے علاقے میں کوئلے کی کان میں بارودی سرنگ سے ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قسمت پر ڈالنے پر صدر رجب طیب اردگان تنقید کی زد میں ہیں۔

’ڈیموکریسی ناؤ‘ کے مطابق دھماکے میں کم از کم 41 افراد ہلاک ہوئے۔ ہفتے کو ترکی کے شہریوں نے متاثرین کیلئے یوم سوگ منایا۔ تاہم یونین رہنماؤں اور حزب اختلاف کے سیاستدانوں نے صدر رجب طیب اردگان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ صدر نے اس مہلک دھماکے کا ذمہ دار قسمت کو ٹھہرایا تھا۔

یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا جب ترکی میں ایک نئے بل کی منظوری کے بعد پہلے سے ہی کشیدگی عروج پر تھی۔

پریس کی آزادی کے گروپوں کا کہنا ہے کہ سنسرشپ کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ نیا قانون صحافیوں اور دیگر افراد کو غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں تین سال تک قید کی سزا دے سکتا ہے۔