Day: جنوری 9، 2023


نظریاتی کنفیوژن کا شکار فوج ٹی ٹی پی کا مقابلہ نہیں کر سکتی

حکمت عملی کی جو شدید غلطیاں سر زد ہوئیں ان کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کے لوگ اب پریشان ہیں۔ ٹی ٹی پی کے مرکزی رہنما، پہلے مسلم خان، بعد ازاں احسان اللہ احسان، چپ چاپ فرار کرا دئے گئے۔ کیوں؟ تا کہ طالبان سے مذاکرات کئے جا سکیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جب بھی طالبان کے مطالبات تسلیم کئے جاتے ہیں، وہ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو جاتے ہیں۔ ٹی ٹی پی نے ہتھیار ڈالنے سے صریحاً انکار کر دیا ہے نہ ہی وہ آئین پاکستان کو کوئی وقعت دیتے ہیں۔ الٹا ٹی ٹی پی ایسے مطالبات پیش کر رہی ہے جو کوئی بھی ریاست تسلیم نہیں کر سکتی۔

گرامشی کو نئے سال سے نفرت سہی، بطور سوشلسٹ میں نیو ائیر ضرور مناتا ہوں

گرامشی کو نئے سال سے نفرت سہی، بطور سوشلسٹ میں نیو ائیر ضرور مناتا ہوں
فاروق سلہریا

نئے سال کی آمد پر بائیں بازو کے بعض ساتھی انتہائی مایوس کن پیغامات اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کرتے ہیں۔ امسال بھی یہی ہوا۔

گرامشی (گرامچی) کا مندرجہ ذیل مضمون، بعنون ’مجھے نئے سال سے نفرت کیوں ہے‘ (ترجمہ: علی تراب)،بھی اکثر شیئر کیا جاتا ہے:

”ہر صبح جب آسمان کے سال میں میری آنکھ کھلتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ یہ نئے سال کا دن ہے۔ اسی لیے مجھے نئے سال کے دن سے نفرت ہے جو اکاؤنٹس کی سالانہ رسید کی طرح آن ٹپکتا ہے۔ جو اپنے حساب کتاب، بقایا جات اور نئے انتظامی بجٹ کے ساتھ زندگی اور انسانی روح کو ایک کاروباری عمل میں بدل دیتا ہے۔ یہ زندگی سے اسکا تسلسل اور روح چھین لیتا ہے۔ آپ واقعی یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ایک سال اور اگلے کے درمیان کوئی وقفہ ہے کہ ایک نئی تاریخ شروع ہونے جا رہی ہے۔ آپ نئے عہد کرتے ہیں، اور انکے ٹوٹنے پر پچھتاتے ہیں۔ عمومی طور پر تاریخوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔ کہتے ہیں واقعات کی ترتیب کا علم تاریخ کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ چار یا پانچ بنیادی تاریخیں ایسی ہیں جو ہر اچھے انسان کے دماغ میں محفوظ رہتی ہیں جنہوں نے تاریخ کے ساتھ بھدے مذاق کیے ہیں۔ وہ بھی نئے سال ہی ہیں۔ رومی تاریخ کا نیا سال، یا قرون وسطی کا، یا جدید دور کا۔ اور وہ اس قدر جارحانہ اور مظبوط ہو گئے ہیں کہ ہم کبھی کبھی اپنے آپ کو یہ سوچتا پاتے ہیں کہ شاید اٹلی میں زندگی کا آغاز 752ء میں ہوا اور یہ کہ 1490ء یا 1492ء کوئی پہاڑ نما سال ہیں جنہیں پھلانگ کر انسانیت ایک نئی دنیا میں داخل ہو گئی۔ لہٰذا تاریخ ایک رکاوٹ بن جاتی ہے، ایک ایسی دیوار جو ہمیں یہ دیکھنے سے روکتی ہے کہ تاریخ سینما کی کسی فلم میں آنے والے انٹرولز کی طرح رکتی نہیں بلکہ ایک مستحکم سیدھی لکیر پر مسلسل چلتی رہتی ہے۔ اسی لیے مجھے نئے سال کے دن سے نفرت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر صبح میرے لیے نیا سال ہو۔ ہر دن میں خود پر غور کرنا چاہتا ہوں، اور ہر دن میں اپنی تجدید کرنا چاہتا ہوں۔ کوئی دن آرام کا نہ ہو۔ جب میں زندگی کے شدت سے دھت ہوجاؤں اور ایک نیا جوش حاصل کرنے کیلئے حیوانیت میں ڈوبنا چاہوں تو میں خود رکنے فیصلہ کروں۔ کوئی روحانی قید نہ ہو۔ میں چاہوں گا کہ میرا ہر لمحہ نیا ہو جو ساتھ ہی ساتھ پچھلے لمحوں سے ایک تسلسل میں جڑا ہو۔ کوئی مخصوص تہوار نہ ہو جو مجھے ایک مخصوص انداز میں ایسے اجنبیوں کے ساتھ منانا پڑے جن کی مجھے کوئی پرواہ نہیں، صرف اس لیے کہ ہمارا دادا کے دادا اور انکے دادا یہ سب منایا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی یہ منانا چاہیے۔ مجھے یہ چیز بہت کراہت آمیز لگتی ہے۔ مجھے اس وجہ سے بھی سوشلزم کا انتظار ہے کیونکہ یہ ان تمام تہواروں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گا جن کی ہماری روح سے کوئی ہم آہنگی نہیں اور اگر وہ نئے تہوار تخلیق کرے تو کم از کم وہ ہمارے اپنے ہوں، ناکہ ہمارے احمق اجداد کی طرف سے ہم پر تھوپے گئے ہوں۔“

قطع نظر اس کے کہ گرامشی کیا کہنا یا نہیں کہنا چاہتا تھا، عام طور پر جب ہمارے بائیں بازو کے دوست یہ مضمون یکم جنوری سے پہلے شیئر کرتے ہیں یا نئے سال پر ہونے والی تقریبات پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں تو ان کا مقصد اونچ نیچ کے طبقاتی نظام پر تنقید کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنا انتہائی جائزاحتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں۔

ایک مقصد اس حقیقت کا اظہاربھی ہوتا ہے کہ نیا سال یا عید اور کرسمس وغیرہ منانا ایک جعلی اور وقتی خوشی ہے۔ بہ الفاظ دیگر جب تک سوشلزم نہیں آتا، حقیقی اور دائمی خوشی ممکن نہیں۔

مجھے مندرجہ بالا نقطہ نظر سے شدید اختلاف ہے۔ یہ انتہائی یاسیت پر مبنی رویہ اور موقف ہے۔

پہلی بات۔ کیا سوشلزم کے نہ’آنے‘ تک ہمیں خوش ہونے کا حق نہیں؟ اس سے بھی اہم سوال: اگر میری زندگی میں کوئی سوشلسٹ انقلاب اس ملک میں آیا ہی نہ تو؟ اس لئے میرا موقف ہے کہ سوشلسٹ انقلاب کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے ہمیں ایک طرح کے ایوری ڈے سوشلزم (روز مرہ کا سوشلزم) بھی قائم کرنا چاہئے۔ روز کے روز، تھوڑا سا وقت، تھوڑی سی جگہ ایسی ہو جہاں ہم محنت کش لوگ اکٹھے ہو سکیں، خوش ہو سکیں۔ زندگی کے غم بھلا کر اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ ہنس کھیل سکیں۔ یہ سہولتیں ہمیں پاکستان کی عوام دشمن ریاست نہیں دے گی۔ ہمیں اپنے تھیٹر، سینما، جم، کھیل کے میدان، موسیقی کی محفل، میلے…یہ سب خود سے کرنا ہو گا۔ ریاست سے اس کا مطالبہ کرتے رہنا چاہئے۔ ساتھ ہی ساتھ مزدور اور کسان طبقے کو اپنی زندگی میں روز کے روز خوش ہونے، شعور حاصل کرنے، علم حاصل کرنے کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔ ایسا ”مجھے نئے سال سے نفرت ہے“ کی بنیادپر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے کے لئے مختلف طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔ بہرحال رویہ اور موقف یہ ہونا چاہئے کہ ہم محنت کش خوشی منانے کا ہر موقع ڈھونڈیں گے۔ روز کے روز تلاش کریں گے اور سوشلسٹ انقلاب آنے تک بھی نیا سال منائیں گے، سالگرہ کا اہتمام کریں گے، عید، ہولی اور کرسمس منائیں گے، یوم مئی منائیں گے، پرانی روایتیں جو ہمارے ’بے وقوف‘ اجداد ہم پر تھونپ گئے ہیں، ان کا کایا پلٹ کر کے انہیں نیا رنگ دے دیں گے۔ جب پہلی مزدور ریاست پیرس کمیون کی شکل میں قائم ہوئی تو تھیٹر کا ٹکٹ ختم کر دیا گیا تھا۔

دوسری بات: اگر ان دوستوں کاموقف مان لیا جائے جو گرامشی کا مضمون اپنے فیس بک پر لگاتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں تو پھر کم از کم تھیوری کی حد تک یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ کیا مارکس وادیوں کو، جماعت اسلامی کی طرح، نئے سال کا بائیکاٹ کرنا چاہئے؟

حقیقت یہ ہے کہ اکثر دوست جو گرامشی کا مضمون شیئر کرتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ دائمی خوشی سوشلسٹ انقلاب کے بعد ہی ممکن ہے، وہ خود بھی نیو ائر مناتے پائے جاتے ہیں۔ ان کی حالت ان اہل ایمان والی ہوتی ہے جو شراب بھی پیتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں۔ شراب پیتے ہوئے انہیں احساس گناہ ہو رہا ہوتا ہے جسے مٹانے کے لئے وہ لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہوئے انہیں الجھن ہوتی ہے کہ اگلی دفعہ مے خانے کا رخ کرنا ہے یا نہیں۔ یوں نہ وہ شراب سے لطف اندوز ہوتے ہیں نہ نماز میں انہیں سکون ملتا ہے۔

تیسری بات: ایسا کوئی حتمی سوشلسٹ انقلاب ممکن نہیں جس کے بعد کوئی دائمی خوشی آ جائے گی۔ انقلاب آگے جانے کے لئے ایک بڑی جست ہے۔ ایک تاریخی فریضہ ہے۔ انقلاب اور انقلابی جدوجہدیں محنت کشوں کی زندگیاں آسان بناتے ہیں اور مجموعی طور پر خوشی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں لیکن سوشلسٹ انقلاب کو مذہبی انداز میں پیش کرنا با لکل غیر انقلابی اور غیر سوشلسٹ ہے۔

میری زندگی اور میرا عہد: عبد الصمد خان اچکزئی کی سوانح حیات

امید ہے کہ اچکزئی کی سوانح ”میری زندگی اور میرا عہد“ کے بعد صورت حال میں کچھ بہتری آئے گی۔ ان کے صاحب زادے محمد خان اچکزئی نے، جو بلوچستان کے گورنر بھی رہ چکے ہیں، اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا ہے۔ چار حصوں پر پھیلی اس تصنیف میں اس قوم پرست رہنما کی ابتدائی زندگی سے لے کر تعلیم، خاندان، سیاست میں دلچسپی، اسیری کے دن، ان کے اخبارات، سیاسی رفیقو ں کا احوال، دوسری شادی اور آزادی سے جڑے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان: ترقی کے نام پر زمینوں پر قبضے کا منصوبہ

گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں جائیداد کی ملکیت کے قوانین کافی پیچیدہ ہیں کیونکہ اس میں بیک وقت رنجیت سنگھ کی خالصہ سرکار کے قوانین، ڈوگراہ راج کے قوانین اور پھر تقسیم نے بعد کی لینڈ ریفارمز مختلف طریقے سے لاگو ہیں، جن کے تفصیلی جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی جگہوں پر یہ قوانین باہم متصادم ہیں۔