پاکستان

سٹاک ایکسچینج اوپر جانے سے عوام کو کوئی معاشی فائدہ نہیں ہوتا

سرمد خواجہ

کراچی سٹاک ایکسچینج انڈیکس میں مارچ سے اب تک 52 فیصد اضافہ۔

43 کمپنیوں کی آمدنی میں تقریباً 50 فیصد اضافہ۔

اس طرح کی خبریں آج کل سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ملک میں معاشی بہتری شروع ہے لیکن ان اعداد و شمار کا تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں حقیقت کم اور ہیر پھیر زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب انڈیکس اوپر جاتا ہے تو سرمایہ دار کے اچھے موڈ یعنی ملک میں اور زیادہ لوٹ مار کی عکاسی کرتا ہے اور انڈیکس کے اوپر نیچے ہونے سے عام لوگوں کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آتی۔

مارچ کے مہینے سے موازنہ کرنے سے ہی بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان اعداد و شمار میں اضافے کی حقیقت کیا ہے۔ مارچ میں انڈیکس کی سطح پچھلے 10 سال میں سب سے کم تھی یعنی 28,023۔ وہ بھی اسی حکومت کا دور تھا۔ آج انڈیکس کی سطح41,200 ہے…اور یہ سطح گر رہی ہے۔ ظاہر ہے مارچ میں انڈیکس کی سطح سے موازنہ کرنے سے آج کے انڈیکس کی سطح بہت بہتر نظر آئے گی لیکن اگر 3 سال پہلے انڈیکس کی سطح سے موازنہ کریں تو انڈیکس کی آج کی سطح لگ بھگ 10,000 پوائنٹ کم ہے۔

سٹاک ایکسچینج وہ جگہ ہے جہاں کمپنیوں کے شیئر یعنی اس کی ملکیت کے حصے بیچے اور خریدے جاتے ہیں۔ کمپنیاں یہاں اپنی حصہ داری بیچ کر لوگوں سے کمپنی کو چلانے کے لئے سرمایہ جمع کرتی ہیں۔ خریدار شیئر اس وقت لیتا ہے جب وہ سمجھے کہ کمپنی کی آمدن زیادہ ہو گی اور اسے اس آمدن کا حصہ ملے گا۔ اس طرح وہ شیئر حاصل کرنے کے لئے زیادہ قیمت دیتا ہے اور کمپنی کی کل قیمت بڑھ جاتی ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں 100 بڑی کمپنیاں شامل ہیں۔ انڈیکس ان کمپنیوں کی کل قیمت کی عکاسی کرتا ہے۔

3 سال پہلے پی ایم ایل این کی حکومت تھی جو اس حکومت کی طرح سرمایہ داروں کے مفاد کے لئے کام کرتی رہی۔ اس لئے پی ایم ایل این حکومت کی نظریں بھی ہر وقت سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس کی سطح پر تھیں۔ جب یہ سطح مئی 2017ء میں 52,800 ہوئی تو اسے حکومت کی بڑی کامیابی کہا گیا۔

یہ درست ہے کہ انڈیکس کا عروج پر جانا اس بات کی عکاسی تھی کہ ملکی پیداوار میں 5 فیصد سالانہ اضافہ ہو رہا تھا۔ اس صورت میں کمپنیوں کی پیداوار اور آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن اس اضافے کی وجہ سے صرف امیر ترین خاندانوں کی آمدنی بڑھتی ہے۔

مثال کے طور پر 2016ء اور 2017ء میں لکی سیمنٹ کمپنی کے مالکوں نے 625 کروڑ روپے بنائے، نشاط مل والوں نے 511 کروڑ روپے، چیراٹ سیمنٹ والوں نے 140 کروڑ روپے اور سیفائر ٹیکسٹائل نے 254 کروڑ روپے۔

دوسری طرف محنت کرنے والوں کی کم سے کم اجرت 15 ہزار روپے تھی۔ 5 کروڑ غریب ترین عوام کی اس سے بھی کم آمدنی تھی۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے سال میں ملکی پیداوار میں اضافہ 1 فیصد سے کم تھا، دوسرے سال 0.5 فیصد اور اس سال پیداوار گر رہی ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کی سرمایہ کاری میں 20 فیصد کمی ہوئی۔ جس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں کم پیدا وار ہو گی۔

تو پھر سٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں اضافہ کیوں ہے؟

اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں چنانچہ پیدا وار میں اضافہ نہ بھی ہو کمپنیوں کی آمدن میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر آٹے کے ایک 20 کلو تھیلے کی قیمت میں ستمبر میں 0.96 فیصد کا اضافہ ہوا۔ صرف اس وجہ سے 1200 آٹا بنانے والی ملوں کو 12 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔

ایک سال میں آٹے کی قیمت میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور فیکٹری والوں کو 186 کروڑ روپے کا فائدہ۔ اس لئے قیمتوں کے اضافے کو کہتے ہیں غریبوں پر ٹیکس جس کا مقصد ہے غریبوں سے پیسے لے کر امیروں کو اور امیر کرنا۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے دو سال میں قیمتوں میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہوا ہے یعنی غریبوں کی 20 فیصد آمدنی امیروں کو ملی۔ اس لوٹ مار کی عکاسی سٹاک ایکسچینج کی بڑھتی سطح میں نظر آ رہی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت سرمایہ داروں کی خوب مدد کر رہی ہے: کم ٹیکس اور مراعات کی شکل میں۔ اس کی ایک اچھی مثال ہے کہ 56 کروڑ روپے جو جہانگیر ترین کو اور 45 کروڑ جو خسرو بختیار کی فیملی کو چینی کے سکینڈل میں ملے۔ تو ان کی کمپنیوں کے شیئر کی قیمت تو بڑھنی ہے۔

اسی طرح رزاق داؤد کی ایک فیکٹری اینگرو نے 2019ء میں 1,653 کروڑ روپے بنائے اور اگر سوشل میڈیا کے مطابق 43 کمپنیوں کی آمدنی میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے تویہ اس بات کی عکاسی ہے کہ کس طرح غریبوں کو لوٹا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ رزاق داؤد مشرف اور پی ٹی آئی کا وہ منسٹر ہے جس کے منسٹر بننے کے بعد پہلا کام بھٹو کے بنائے غریبوں کے لئے یوٹیلٹی سٹورز کو بند کرنا ہے۔ مشرف کے ساتھ اس نے 170 سٹورز بند کئے۔ اس وقت کوئی 6000 سٹور ہیں۔ یہ شخص 1000 کو بند کرنا چاہتا ہے جہاں 14 ہزار لوگ کام کر رہے ہیں۔

اگر حکومت نے عام لوگوں کی زندگی بہتر کرنی ہے تو اس قسم کے لوگوں کو سینے سے لگا کر نہ رکھے۔ وہ بات کرے ناخواندگی کو ختم کرنے کی، غربت ختم کرنے کی، بھوک ختم کرنے کی لیکن جب سٹاک انڈیکس کا اوپر جانا حکومت کی کامیابی سمجھا جاتا ہے تو پتہ چل جاتا ہے یہ حکومت غریبوں کے لئے آنسو تو بے شک بہاتی ہے مگر فائدہ امیروں کا ہی کرتی ہے۔

اس حوالے سے سٹاک ایکسچینج پر لکھی گئی نواب مضطر کی نظم:

اسٹاک ایکسچینج اضافے وچ بہوں وڈا ہیر تے پھیر ہوندے
انڈیکس تے جیکر غور کرو کدی زبر تے کدی زیر ہوندے
مزدور دا فائدہ کوئی کائنی زردار دا فائدہ ڈھیر ہوندے
ہمدرد عوام دا کوئی کائنی اے بلا بھانویں شیر ہوندے

ناخواندگی کیوں ہے ملک دے وچ نہ اینجھی گالھ سوچیندے ہن
بکھ، غربت ختم نہیں تھیندی بس ہنجھوں روز وہیندے ہن
سب حاکم یار امیراں کوں بھج بھج کے سینے لیندے ہن
سرمائے والیں کوں فائدہ ڈے مزدور دا قتل کریندے ہن