اداریہ

لاپتہ افراد سیاسی کارکنوں کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے گھمبیر ہو رہا ہے

اداریہ جدوجہد

چند سال قبل لالہ قدیر بلوچ نے لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگی کے خلاف ایک لانگ مارچ کیا تھا۔ پھر پی ٹی ایم ایک طاقت ور سماجی طاقت کے طور پر سامنے آئی۔ پی ٹی ایم کے دیگر مطالبات میں ایک یہ بھی تھا (یا ہے) کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ اب سندھ سے لاپتہ سیاسی کارکنوں کے خاندانوں نے کراچی سے ایک لانگ مارچ شروع کیا ہے جو جی ایچ کیو تک پیدل مارچ کرے گا۔

اس مارچ میں عاقب چانڈیو کی بہن اور والدہ بھی شامل ہیں۔ عاقب چانڈیو دوسری مرتبہ اٹھائے گئے ہیں۔ مارچ کی قیادت کرنے والے انعام عباسی خود بھی لاپتہ رہ چکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ترقی پسند بائیں بازو کے نوجوانوں کو بھی جام شورو سے لاپتہ کر دیا گیا۔

لاہور میں مدثر نارو کی والدہ راحت محمود اکثر جلسوں میں اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھائے نظر آتی ہیں۔ مدثر نارو شمالی علاقہ جات کی جانب سیر کے لئے گئے تھے مگر واپس نہیں آئے۔

ادھر موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے اہم حلیف اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل حکومت سے اس بات پر علیحدہ ہو چکے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے لاپتہ بلوچ افراد کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اختر مینگل کے اپنے بھائی ستر کی دہائی سے لاپتہ ہیں۔ ابھی چند روز قبل حسن ناصر کی برسی منائی گئی۔ مارکس وادی طالب علم رہنما حسن ناصر کو غالباً لاپتہ کیا جانے والا پہلا سیاسی کارکن کہا جا سکتا ہے۔ انہیں ایوب دور میں شاہی قلعے میں تشدد کر کے شہید کر دیا گیا۔ ان کی تو لاش بھی ان کے خاندان کے حوالے نہیں کی گئی۔

گویا یہ مسئلہ نیا نہیں ہے مگر اس نے ایک باقاعدہ حکمت عملی کی شکل گذشتہ مشرف آمریت کے دوران اختیار کی۔

گذشتہ دس سالوں میں تین سویلین حکومتیں بیان بازی سے زیادہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کچھ نہیں کر سکیں۔ سوشل میڈیا پر اکثر عمران خان کے ایک انٹرویو کو شیئر کیا جاتا ہے جس میں وہ بطور اپوزیشن رہنما یہ عہد کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ اپنے دور حکومت میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرا دیں گے۔ یہ وعدہ بھی ان کے دیگر وعدوں کی طرح ایفا ہونے سے قاصر ہے۔

مین سٹریم میڈیا میں بھی اس سوال کو زیر بحث لانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ صحافتی حلقوں میں تو یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حامد میر پر حملہ ہوا ہی اس وجہ سے تھا کہ وہ لاپتہ افراد کی بات کرنے لگے تھے۔

ایسے میں یہ فریضہ سماجی تحریکوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، مزدور تحریک اور ترقی پسند سیاسی قوتوں کو ادا کرنا ہو گا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لئے جدوجہد کو جاری رکھیں اور اسے مزید منظم کریں۔

’روزنامہ جدوجہد‘ کا موقف بالکل واضح ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور اگر کسی فرد پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

ریاستی اداروں کی جانب سے شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنا بنیادی شہری و انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے اور ایسی خلاف ورزیاں معاشرے میں مزید بد امنی کو جنم دیتی ہیں۔